Tafheem ul Quran

Surah 102 At-Takathur, Ayat 1-8

اَلۡهٰٮكُمُ التَّكَاثُرُۙ‏ ﴿102:1﴾ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَؕ‏ ﴿102:2﴾ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَۙ‏ ﴿102:3﴾ ثُمَّ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَؕ‏ ﴿102:4﴾ كَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡيَقِيۡنِؕ‏ ﴿102:5﴾ لَتَرَوُنَّ الۡجَحِيۡمَۙ‏ ﴿102:6﴾ ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيۡنَ الۡيَقِيۡنِۙ‏ ﴿102:7﴾ ثُمَّ لَـتُسۡـئَـلُنَّ يَوۡمَـئِذٍ عَنِ النَّعِيۡمِ‏ ﴿102:8﴾

1 - تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دُوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دُھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے 1 2 - یہاں تک کہ (اِسی فکر میں) تم لبِ گور تک پہنچ جاتے ہو۔ 2 3 - ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا۔ 3 4 - پھر (سُن لو کہ) ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا۔ 5 - ہر گز نہیں، اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے (اِس روش کے انجام کو) جانتے ہوتے (تو تمہارا یہ طرزِ عمل نہ ہوتا)۔ 6 - تم دوزخ دیکھ کر رہو گے، 7 - پھر (سُن لو کہ) تم بالکل یقین کے ساتھ اُسے دیکھ لو گے۔ 8 - پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی۔ 4 ؏۱


Notes

1. اصل میں اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ فرمایا گیا ہے جس کے معنی میں اتنی وسعت ہے کہ ایک پوری عبارت میں بمشکل اس کو ادا کیا جا سکتا ہے۔

اَلْھٰکُمُ لَہْو سے ہے جس کے اصل معنی غفلت کے ہیں ، لیکن عربی زبان میں یہ لفظ ہر اُس شغل کے لیے بولا جاتا ہے جس سے آدمی کی دلچسپی اتنی بڑھ جائے کہ وہ اس میں مُنہمِک ہو کر دوسری اہم ترین چیزوں سے غافل ہو جائے ۔ اِس مادّے سے جب اَلْھَا کُمْ کا لفظ بولا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کسی لَہْو نے تم کو اپنے اندر ایسا مشغول کر لیا ہے کہ تمہیں کسی اور چیز کا ، جو اُس سے اہم تر ہے، ہوش باقی نہیں رہا ہے۔ اُسی کی دُھن تم پر سوار ہے۔ اُسی کی فکر میں تم لگے ہوئے ہو۔ اور اِس اِنہماک نے تم کو بالکل غافل کر دیا ہے۔

تَکاثُر کثرت سے ہے ، اس کے تین معنی ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی زیادہ سے زیادہ کثرت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ دوسرے یہ کہ لوگ کثرت کے حصول میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کریں ۔ تیسرے یہ کہ لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں اِس بات پر فخر جتائیں کہ انہیں دوسروں سے زیادہ کثرت حاصل ہے۔

پس اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ کے معنی ہوئے کہ تکاثُر نے تمہیں اپنے اندر ایسا مشغول کر لیا ہے کہ اُس کی دُھن نے تمہیں اُس سے اہم تر چیزوں سے غافل کر دیا ہے۔ اس فقرے میں یہ تصریح نہیں کی گئی ہے کہ تکاثُر میں کس چیز کی کثرت اور اَلْھٰکُمْ میں کس چیز سے غافل ہو جانا مراد ہے، اور اَلْھٰکُمْ (تم کو غافل کر دیا ہے) کے مُخاطَب کون لوگ ہیں۔ اس عدمِ تصریح کی وجہ سے اِن الفاظ کا اطلاق اپنے وسیع تر ین مفہوم پر ہو جاتا ہے۔ تکاثُر کے معنی محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا کے تمام فوائد و منافع، سامانِ عیش، اسبابِ لذّت، اور وسائل ِ قوت و اقتدار کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی سعی و جہد کرنا ، ان کے حصول میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ، اور ایک دوسرے کے مقابلے میں ان کی کثرت پر فخر جتانا اُس کے مفہوم میں شامل ہو جاتا ہے۔ اِسی طرح اَلْھٰکُمْ کے مخاطب بھی محدود نہیں رہتے بلکہ ہر زمانے کے لوگ اپنی انفرادی حیثت سے بھی اور اجتماعی حیثیت سے بھی اُس کے مُخاطَب ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو جاتا ہے کہ زیاد ہ سے زیادہ دنیا حاصل کرنے ، اور اس میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے ، اور دوسروں کے مقابلے میں اُس پر فخر جتانے کی دُھن افراد پر بھی سوار ہے اور اقوام پر بھی۔ اِسی طرح اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُر میں چونکہ اس امر کی صراحت نہیں کی گئی کہ تکاثُر نے لوگوں کو اپنے اندر منہمک کر کے کس چیز سے غافل کر دیا ہے ،ا س لیے اُس کے مفہوم میں بھی بڑی وسعت پیدا ہو گئی ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ لوگوں کو اِس تکاثُر کی دُھن نے ہر اُس چیز سے غافل کر دیا ہے جو اس کی بہ نسبت اہم تر ہے۔ وہ خدا سے غافل ہو گئے ہیں، عاقبت سے غافل ہو گئے ہیں۔ اخلاقی حدود اور اخلاقی ذمّہ داریوں سے غافل ہوگئے ہیں۔ حق داروں کے حقوق اور ان کی ادائیگی کے معاملہ میں اپنے فرائض سے غافل ہو گئے ہیں۔ انہیں معیارِ زندگی بلند کرنے کی فکر ہے، اِس بات کی کوئی فکر نہیں کہ معیارِ آدمیت کس قدر گِر رہا ہے۔ انہیں زیادہ سے زیادہ دولت چاہیے، اِس بات کی کوئی پروا نہیں کہ وہ کس ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے۔ اُنہیں عیش و عشرت اور جسمانی لذّتوں کے سامان زیادہ سے زیادہ مطلوب ہیں، اِس ہوس رانی میں غرق ہو کر وہ اِس بات سے بالکل غافل ہوگئے ہیں کہ اِس روش کا انجام کیا ہے۔ انہیں زیادہ سے زیادہ طاقت، زیادہ سے زیادہ فوجیں، زیادہ سے زیادہ ہتھیار فراہم کرنے کی فکر ہے ، اور اس معاملہ میں ان کے درمیان ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دوڑ جاری ہے، اِ س بات کی فکر اُنہیں نہیں ہے کہ یہ سب کچھ خدا کی زمین کو ظلم سے بھر دینے اور انسانیت کو تباہ و برباد کر دینے کا سروسامان ہے ۔ غرض تکاثُر کی بے شمار صورتیں ہیں جنہوں نے اشخاص اور اقوام سب کو اپنے اندر ایسا مشغول کر رکھا ہے کہ اُنہیں دنیا اور اس کے فائدوں اور لذّتوں سے بالاتر کسی چیز کا ہوش نہیں رہا ہے۔

2. یعنی تم اپنی ساری عمر اِسی کوشش میں کھپا دیتے ہو اور مرتے دم تک یہ فکر تمہارا پیچھا نہیں چھوڑتی۔

3. یعنی تمہیں یہ غلط فہمی ہے کہ متاعِ دنیا کی یہ کثرت، اور اس میں دوسروں سے بڑھ جانا ہی ترقی اور کامیابی ہے ۔ حالانکہ یہ ہر گز ترقی اور کامیابی نہیں ہے۔ عنقریب اِس کا برا انجام تمہیں معلوم ہو جائے گا اور تم جان لوگے کہ یہ کتنی بڑی غلطی تھی جس میں تم عمر بھر مبتلا رہے۔ عنقریب سے مراد آخرت بھی ہو سکتی ہے ، کیونکہ جس ہستی کی نگاہ ازل سے ابد تک تمام زمانوں پر حاوی ہے، اس کے لیے چند ہزار یا چند لاکھ سال بھی زمانے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ لیکن اس سے مراد موت بھی ہو سکتی ہے ، کیونکہ وہ تو کسی انسان سے بھی کچھ زیادہ دور نہیں ہے ، اور یہ بات مرتے ہی انسان پر کھل جائے گی کہ جن مشاغل میں وہ اپنی ساری عمر کھپا کر آیا ہے و ہ اس کے لیے سعادت و خوش بختی کا ذریعہ تھے یا بد انجامی و بدبختی کا ذریعہ۔

4. اس فقرے میں ”پھر“ کا لفظ اس معنی میں نہیں ہے کہ دوزخ میں ڈالے جانے کے بعد جواب طلبی کی جائے گی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر یہ خبر بھی ہم تمہیں دیے دیتے ہیں کہ تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں سوا ل کیا جائے گا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ سوال عدالتِ الہٰی میں حساب لینے کے وقت ہو گا۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ متعدد احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں بندوں کو دی ہیں ان کے بارے میں جواب دہی مومن و کافر سب ہی کو کرنی ہوگی۔ یہ الگ بات ہے کہ جن لوگوں نے کُفر انِ نعمت نہیں کیا اور شکر گزار بن کر رہے وہ اس محاسبہ میں کامیاب رہیں گے ، اور جن لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کا حق ادا نہیں کیا اور اپنے قول یا عمل سے ، یا دونوں سے ان کی ناشکری کی وہ اس میں ناکام ہوں گے۔

حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہم نے آپ کو ترو تازہ کھجور یں کھلائیں اور ٹھنڈا پانی پلایا۔ اس پر حضور ؐ نے فرمایا” یہ اُن نعمتوں میں سے ہیں جن کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے گا۔“(مُسند احمد، نَسائی، ابن جَرِیر، ابن المُنذیر، ابن مَرْدُوْیَہ، عبد بن حُمَید، بَیْہَقِی فی الشعب)۔

حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر سے کہا کہ چلو ابو الہَیشَم بن التیہان انصاری کے ہاں چلیں۔ چنانچہ ان کو لے کر آپ ابن التیہان کے نخلستان میں تشریف لے گئے۔ انہوں نے لا کر کھجوروں کا ایک خوشہ رکھ دیا۔ حضور ؐ نے فرمایا تم خود کیوں نہ کھجوریں توڑ لائے؟ انہوں نے عرض کیا، میں چاہتا تھا کہ آپ حضرات خود چھانٹ چھانٹ کر کھجوریں تناول فرمائیں۔ چنانچہ انہوں نے کھجوریں کھائیں اور ٹھنڈا پانی پیا۔ فارغ ہونے کے بعد حضور ؐ نے فرمایا”اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں تمہیں قیامت کے روز جواب دہی کر نی ہوگی، یہ ٹھنڈا سایہ، یہ ٹھنڈی کھجوریں، یہ ٹھنڈا پانی“(اِس قصے کو مختلف طریقوں سے مسلم ،ابن ماجہ، ابو داؤد، تِرْمذِی، نَسائی، ابن جریر اور ابو یَعلیٰ وغیرہم نے حضرت ابوہریرہ سے نقل کیا ہے جن میں سے بعض میں اُن انصاری بزرگ کا نام لیا گیا ہے اور بعض میں صرف انصار میں سے ایک شخص کہا گیا ہے۔ اس قصّے کو مختلف طریقوں سے متعدد تفصیلات کے ساتھ ابن ابی حاتم نے حضرت عمر سے، اور امام احمد نے ابو عسیب ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سے نقل کیا ہے۔ ابن حِبّان اور ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے ایک روایت نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قریب قریب اسی طرح کا واقعہ حضرت ابو ایوب انصاری کے ہاں پیش آیا تھا)۔

اِن احادیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سوال صرف کفّار ہی سے نہیں ، مومنین صالحین سے بھی ہو گا۔ رہیں خدا کی وہ نعمتیں جو اُس نے انسان کو عطا کی ہیں ، تو وہ لامحدود ہیں، اُن کا کوئی شمار نہیں کیا جا سکتا، بلکہ بہت سی نعمتیں تو ایسی ہیں کہ انسان کو اُن کی خبر بھی نہیں ہے ۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ وَاِنْ تَعُدُّوْ ا نَعْمَتَ اللہِ لَا تُحْصُوْ ھَا،”اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گِنو تو تم اُن کا پورا شمار نہیں کر سکتے“(ابراہیم ۳۴)۔ اِن نعمتوں میں سے بے حد و حساب نعمتیں تو وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے براہِ رااست انسان کو عطا کی ہیں، اور بکثرت نعمتیں وہ ہیں جو انسان کو اُس کے اپنے کسب کے ذریعہ سے دی جاتی ہیں ۔ انسان کے کسب سے حاصل ہونے والی نعمتوں کے متعلق اُس کو جواب دہی کرنی پڑے گی کہ اس نے ان کو کن طریقوں سے حاصل کیا اور کن راستوں پر خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ کی براہِ راست عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں اُسے حساب دینا ہو گا کہ اُن کو اُس نے کس طرح استعمال کیا ۔ اور مجموعی طور پر تمام نعمتوں کے متعلق اُس کو بتانا پڑے گا کہ آیا اُس نے اِس امر کا اعتراف کیا تھا کہ یہ نعمتیں اللہ کی عطا کردہ ہیں اور ان پر دل ، زبان اور عمل سے اُس کا شکر ادا کیا تھا؟ یا یہ سمجھا تھا کہ یہ سب کچھ اُسے اتفاقًا مل گیا ہے؟ یا یہ خیال کیا تھا کہ بہت سے خدا ان کے عطا کرنے والے ہیں؟ یا یہ عقیدہ رکھا تھا کہ یہ ہیں تو خدا ہی کی نعمتیں مگر ان کے عطا کرنے میں بہت سی دوسری ہستیوں کا بھی دخل ہے اور اِس بنا پر اُنہیں معبود ٹھیرا لیا تھا اور اُنہی کے شکریے ادا کیے تھے؟