Tafheem ul Quran

Surah 11 Hud, Ayat 84-95

وَاِلٰى مَدۡيَنَ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا​ ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ​ؕ وَلَا تَـنۡقُصُوا الۡمِكۡيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ​ اِنِّىۡۤ اَرٰٮكُمۡ بِخَيۡرٍ وَّاِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ مُّحِيۡطٍ‏  ﴿11:84﴾ وَيٰقَوۡمِ اَوۡفُوا الۡمِكۡيَالَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ​ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تَعۡثَوۡا فِى الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ‏ ﴿11:85﴾ بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ  ۚ وَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ‏ ﴿11:86﴾ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوۡ اَنۡ نَّـفۡعَلَ فِىۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا​ ؕ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَـلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ‏ ﴿11:87﴾ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّىۡ وَرَزَقَنِىۡ مِنۡهُ رِزۡقًا حَسَنًا​ ؕ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰٮكُمۡ عَنۡهُ​ ؕ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ​ ؕ وَمَا تَوۡفِيۡقِىۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ​ ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ‏ ﴿11:88﴾ وَيٰقَوۡمِ لَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شِقَاقِىۡۤ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمۡ مِّثۡلُ مَاۤ اَصَابَ قَوۡمَ نُوۡحٍ اَوۡ قَوۡمَ هُوۡدٍ اَوۡ قَوۡمَ صٰلِحٍ​ؕ وَمَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّنۡكُمۡ بِبَعِيۡدٍ‏ ﴿11:89﴾ وَاسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ​ؕ اِنَّ رَبِّىۡ رَحِيۡمٌ وَّدُوۡدٌ‏ ﴿11:90﴾ قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّمَّا تَقُوۡلُ وَاِنَّا لَـنَرٰٮكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا​ ۚ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ لَرَجَمۡنٰكَ​ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ‏  ﴿11:91﴾ قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَهۡطِىۡۤ اَعَزُّ عَلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ ؕ وَ اتَّخَذۡتُمُوۡهُ وَرَآءَكُمۡ ظِهۡرِيًّا​ ؕ اِنَّ رَبِّىۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ‏ ﴿11:92﴾ وَيٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ اِنِّىۡ عَامِلٌ​ ؕ سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَمَنۡ هُوَ كَاذِبٌ​ ؕ وَارۡتَقِبُوۡۤا اِنِّىۡ مَعَكُمۡ رَقِيۡبٌ‏ ﴿11:93﴾ وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا ۚ وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِىۡ دِيَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَۙ‏ ﴿11:94﴾ كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا​ ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّمَدۡيَنَ كَمَا بَعِدَتۡ ثَمُوۡدُ‏ ﴿11:95﴾

84 - اور مَدیَن والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب ؑ کو بھیجا۔94 اُس نے کہا ”اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں، مگر مجھے ڈر ہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا جس کا عذاب سب کو گھیر لیے گا۔ 85 - اور اے برادرانِ قوم، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پُورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ 86 - اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔ اور بہرحال میں تمہارے اوپر کوئی نگرانِ کار نہیں ہوں۔“95 87 - انہوں نے جواب دیا ”اے شعیب ؑ ، کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے96 کہ ہم اُن سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشا کے مطابق تصّرف کرنے کا اختیار نہ ہو؟97 بس تُو ہی تو ایک عالی ظرف اور راستباز آدمی رہ گیا ہے !“ 88 - شعیب ؑ نے کہا ”بھائیو، تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے ربّ کی طرف سے ایک کھُلی شہادت پر تھا اور پھر اس نے اپنے ہاں سے مجھ کو اچھا رزق بھی عطا کیا98(تو اس کے بعد میں تمہاری گمراہیوں اور حرام خوریوں میں تمہارا شریکِ حال کیسے ہوسکتا ہوں؟)۔ اور میں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں۔99 میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تک بھی میرا بس چلے۔ اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اسی کر طرف رُجوع کرتا ہوں۔ 89 - اور اے برادرانِ قوم، میرے خلاف تمہاری ہٹ دھرمی کہیں یہ نوبت نہ پہنچا دے کہ آخرِ کار تم پر بھی وہی عذاب آکر رہے جو نوح ؑ یا ہُود ؑ یا صالح ؑ کی قوم پر آیا تھا۔ اور ؑلُوط کی قوم تو تم سے کچھ زیادہ دُور بھی نہیں ہے۔100 90 - دیکھو! اپنے ربّ سے معافی مانگو اور اس کی طرف پلٹ آوٴ، بے شک میرا ربّ رحیم ہے اور اپنی مخلوق سے محبت رکھتا ہے۔“101 91 - انہوں نے جواب دیا ”اے شعیب ؑ ، تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں۔102 اور ہم دیکھتے ہیں کہ تُو ہمارے درمیان ایک بے زور آدمی ہے، تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کر چکے ہوتے ، تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو۔“103 92 - شعیب ؑ نے کہا ”بھائیو، کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے (برادری کا تو خوف کیا اور )اللہ کو بالکل پسِ پُشت ڈال دیا؟ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔ 93 - اے میری قوم کے لوگو، تم اپنے طریقے پر کام کیے جاوٴ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا، جلدی ہی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر ذلّت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے ۔ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں۔“ 94 - آخرِ کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے شعیب ؑ اور اس کے ساتھی مومنوں کو بچا لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک سخت دھماکے نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنی بستیوں میں بے حسّ و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے 95 - گویا وہ کبھی وہاں رہے بسے ہی نہ تھے۔ سُنو ! مَدیَن والے بھی دُور پھینک دیے گئے جس طرح ثمود پھینکے گئے تھے۔ ؏ ۸


Notes

94. سورۂ اعراف رکوع۱۱ کے حواشی پیشِ نظر رہیں۔

95. یعنی میرا کوئی زور تم پر نہیں ہے۔ میں تو بس ایک خیر خواہ ناصح ہوں۔ زیادہ سے زیادہ اتنا ہی کر سکتا ہوں کہ تمہیں سمجھا دوں۔ آگے تمہیں اختیار ہے، چاہے مانو ، چاہے نہ مانو۔ سوال میری بازپرس سے ڈرنے یا نہ ڈرنے کا نہیں ہے ۔ اصل چیز خدا کی باز پرس ہے جس کا اگر تمہیں کچھ خوف ہو تو اپنی اِن حرکتوں سےباز آجاؤ۔

96. یہ دراصل ایک طعن آمیز فقرہ ہے جس کی روح آج بھی آپ ہر اُس سوسائٹی میں پائیں گے جو خدا سے غافل اور فسق و فجور میں ڈوبی ہوئی ہو۔ چونکہ نماز دینداری کا سب سے پہلا اور سب سے زیادہ نمایاں مظہر ہے، اور دینداری کو فاسق و فاجر لوگ ایک خطرناک ، بلکہ سب سے زیادہ خطرناک مرض سمجھتے ہیں، اس لیے نماز ایسے لوگوں کی سوسائٹی میں عبادت کے بجائے علامتِ مرض شمار ہوتی ہے۔ کسی شخص کو اپنے درمیان نماز پڑھتے دیکھ کر انہیں فورًا یہ احساس ہو جاتا ہے کہ اس شخص پر ”مرضِ دینداری“ کا حملہ ہو گیا ہے۔ پھر یہ لوگ دینداری کی اس خاصیت کو بھی جانتے ہیں کہ یہ چیز جس شخص کے اندر پیدا ہو جاتی ہے وہ صرف اپنے حسنِ عمل پر قانع نہیں رہتا بلکہ دوسروں کو بھی درست کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بے دینی و بد اخلاقی پر تنقید کیے بغیر اُس سے رہا نہیں جاتا، اس لیے نماز پر ان کا اضطراب صرف اسی حیثیت سے نہیں ہوتا کہ ان کے ایک بھائی پر دینداری کا دورہ پڑ گیا ہے ، بلکہ اس کے ساتھ انہیں یہ کھٹکا بھی لگ جاتا ہے کہ اب عنقریب اخلاق و دیانت کا وعظ شروع ہو نے والا ہے اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو میں کیڑے نکالنے کا ایک لا متناہی سلسلہ چھڑ اچاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی سوسائٹی میں نماز سب سے بڑھ کر طعن و تشنیع کی ہدف بنتی ہے ۔ اور اگر کہیں نمازی آدمی ٹھیک ٹھیک اُنہی اندیشوں کے مطابق ، جو ا س کی نماز سے پہلے ہی پیدا ہو چکے تھے، برائیوں پر تنقید اور بھلائیوں کی تلقین بھی شروع کر دے تب تو نماز اس طرح کوسی جاتی ہے کہ گویا یہ ساری بلا اسی کی لائی ہوئی ہے۔

97. یہ اسلام کے مقابلے میں جاہلیت کے نظریے کی پوری ترجمانی ہے ۔ اسلام کا نقطہ ٔ نظر یہ ہے کہ اللہ کی بندگی کے سوا جو طریقہ بھی ہے غلط ہے اور اس کی پیروی نہ کرنی چاہیے۔ کیونکہ دوسرے کسی طریقے کے لیے عقل، علم اور کتب ِ آسمانی میں کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور یہ اللہ کی بندگی صرف ایک محدود مذہبی دائرے ہی میں نہیں ہونی چاہیے بلکہ تمدن ، معاشرت، معیشت، سیاست، غرض زندگی کے تمام شعبوں میں ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ دنیا میں انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے اللہ ہی کا ہے اور انسان کسی چیز پر بھی اللہ کی مرضی سے آزاد ہو کر خود مختارانہ تصرف کرنے کا حق نہیں رکھتا ۔ اس کے مقابلے میں جاہلیت کا نظریہ یہ ہے کہ باپ دادا سے جو طریقہ بھی چلا آرہا ہو انسان کو اُسی کی پیروی کرنی چاہیے اور اس کی پیروی کے لیے اس دلیل کے سوا کسی مزید دلیل کی ضرور ت نہیں ہے کہ وہ باپ دادا کا طریقہ ہے۔ نیز یہ کہ دین و مذہب کا تعلق صرف پوجا پاٹ سے ہے، رہے ہماری زندگی کے عام دنیاوی معاملات ، تو ان میں ہم کو پوری آزادی ہونی چاہیے کہ جس طرح چاہیں کام کریں۔

اس سے یہ بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ زندگی کو مذہبی اور دنیاوی دائروں میں الگ الگ تقسیم کرنے کا تخیل آج کوئی نیا تخیل نہیں ہے بلکہ آج سے تین ساڑھے تین ہزار برس پہلے حضرت شعیبؑ کی قوم کو بھی اس تقسم پر ویسا ہی اصرار تھا جیسا آج اہلِ مغرب اور اُن کے مشرقی شاگردوں کو ہے۔ یہ فی الحقیقت کوئی نئی ”روشنی“ نہیں ہے جو انسان کو آج ”ذہنی ارتقاء“ کی بدولت نصیب ہو گئی ہو۔ بلکہ یہ وہی پرانی تاریک خیالی ہے جو ہزار ہا برس پہلے کی جاہلیت میں بھی اسی شان سے پائی جاتی تھی۔ اور اس کے خلاف اسلام کی کش مکش بھی آج کی نہیں ہے، بہت قدیم ہے۔

98. رزق کا لفظ یہاں دوہرے معنی دے رہا ہے۔ اس کے ایک معنی تو علمِ حق کے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشا گیا ہو ۔ اور دوسرے معنی وہی ہیں جو بالعموم اس لفظ سے سمجھے جاتے ہیں، یعنی وہ ذرائع جو زندگی بسر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیتا ہے۔ پہلے معنی کے لحاظ سے یہ آیت اُسی مضمون کو ادا کر رہی ہے جو اس سورے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، نوحؑ اور صالحؑ کی زبان سے ادا ہوتا چلا آیا ہے کہ نبوت سے پہلے بھی میں اپنے رب کی طرف سے حق کی کھلی کھلی شہادت اپنے نفس میں اور کائنات کے آثار میں پا رہا تھا، اور اس کے بعد میرے ربّ نے براہِ راست علمِ حق بھی مجھے دے دیا ۔ اب میرے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ جان بوجھ کر اُن گمراہیوں اور بد اخلاقیوں میں تمہارا ساتھ دوں جن میں تم مبتلا ہو ۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے یہ آیت اُس طعنے کا جواب ہے جو ان لوگوں نے حضرت شعیبؑ کو دیا تھا کہ”بس تم ہی تو ایک عالی ظرف اور راستباز آدمی رہ گئے ہو“۔ اس تند و ترش حملے کا یہ ٹھنڈا جواب دیا گیا ہے کہ بھائیو، اگر میرے رب نے مجھے حق شناس بصیرت بھی دی ہو اور رزقِ حلال بھی عطا کیا ہو تو آخر تمہارے طعنوں سے یہ فضل غیر فضل کیسے ہو جائے گا۔ آخر میرے لیے یہ کس طرح جائز ہو سکتا ہے کہ جب خدا نے مجھ پر یہ فضل کیا ہے تو میں تمہاری گمراہیوں اور حرام خوریوں کو حق اور حلال کہہ کر اس کی ناشکری کروں۔

99. یعنی میری سچائی کا تم اس بات سے اندازہ کر سکتے ہو کہ جو کچھ دوسروں سے کہتا ہوں اُسی پر خود عمل کرتا ہوں۔ اگر میں تم کو غیر اللہ کے آستانوں سے روکتا اور خود کسی آستانے کا مجاور بن بیٹھا ہوتا تو بلاشبہ تم یہ کہہ سکتے تھے کہ اپنی پیری چمکانے کے لیے دوسری دکانوں کی ساکھ بگاڑنا چاہتا ہے ۔ اگر میں تم حرام کے مال کھانے سے منع کرتا اور خود اپنے کاروبا ر میں بے ایمانیاں کر رہا ہوتا تو ضرور تم یہ شبہ کر سکتے تھے کہ میں اپنی ساکھ جمانے کے لیے ایمانداری کا ڈھول پیٹ رہاہوں ۔ لیکن تم دیکھتے ہو کہ میں خود ان برائیوں سے بچتا ہوں جن سے تم کو منع کرتا ہوں ۔ میری اپنی زندگی ان دھبوں سے پا ک ہے جن سے تمہیں پاک دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے اپنے لیے بھی اُسی طریقے کو پسند کیا ہے جس کی تمہیں دعوت دے رہا ہوں ۔ یہ چیز اس بات کی شہادت کے لیے کافی ہے کہ میں اپنی اس دعوت میں صادق ہوں۔

100. یعنی قوم ِ لوط کا واقعہ تو ابھی تازہ ہی ہے اور تمہارے قریب ہی کے علاقے میں پیش آچکا ہے ۔ غالبًا اُس وقت قومِ لوط کی تباہی پر چھ سات سو برس سے زیادہ نہ گزرے تھے۔ اور جغرافی حیثیت سے بھی قومِ شعیب ؑ کا ملک اس علاقے سے بالکل متصل واقع تھا جہاں قومِ لوط رہتی تھی۔

101. یعنی اللہ تعالیٰ سنگ دل اور بے رحم نہیں ہے۔ اس کو اپنی مخلوقات سے کوئی دشمنی نہیں ہے کہ خواہ مخواہ سزادینے ہی کو اس کا جی چاہے اور اپنے بندوں کو مار مار کر ہی وہ خوش ہو۔ تم لوگ اپنی سرکشیوں میں جب حد سے گزر جاتے ہو اور کسی طرح فساد پھیلانے سے باز ہی نہیں آتے تو تب وہ بادلِ ناخواستہ تمہیں سزا دیتا ہے ۔ ورنہ اس کا حال تو یہ ہے کہ تم خواہ کتنے ہی قصور کر چکے ہو، جب بھی اپنے افعال پرنادم ہو کر ا سکی طرف پلٹو گے اس کے دامن رحمت کو اپنے لیے وسیع پاؤگے۔ کیونکہ اپنی پیدا کی ہوئی مخلوق سے وہ بے پایاں محبت رکھتا ہے۔

اس مضمون کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے د و نہایت لطیف مثالوں سے واضح فرمایا ہے۔ ایک مثال تو آپ نے یہ دی ہے کہ اگر تم میں سے کسی شخص کا اونٹ ایک بے آب و گیا ہ صحرا میں کھو گیا ہو اور اس کے کھانے پینے کا سامان بھی اونٹ پر ہو اور و ہ شخص اس کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مایوس ہو چکا ہو یہاں تک کہ زندگی سے بے آس ہو کر ایک درخت کے نیچے لیٹ گیا ہو، اور عین اس حالت میں یکایک وہ دیکھے کہ اس کا اونٹ سامنے کھڑا ہے، تو اس وقت جیسی کچھ خوشی اس کو ہو گی، اس سے بہت زیادہ خوشی اللہ کو اپنے بھٹکے ہوئے بندے کے پلٹ آنے سے ہوتی ہے۔ دوسری مثال اس سے بھی زیادہ مؤثر ہے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ جنگی قیدی گرفتار ہو کر آئے۔ ان میں ایک عورت بھی تھی جس کا شیر خوار بچہ چھوٹ گیا تھا اور وہ مامتا کی ماری ایسی بے چین تھی کہ جس بچے کو پالیتی اسے چھاتی سے چمٹا کر دودھ پلانے لگتی تھی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حال دیکھ کر ہم لوگوں سے پوچھا کیا تم لوگ یہ توقع کر سکتے ہو کہ یہ ماں اپنے بچے کو خود اپنے ہاتھوں آگ میں پھینک دے گی؟ ہم نے عرض کیا ہرگز نہیں، خود پھینکنا تو درکنار ، وہ آپ گرتا ہو تو یہ اپنی حد تک تو اسے بچا نے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی۔ فرمایا اللہ ارحم بعبادہٖ من ھٰذِہ بولدھا۔” اللہ کا رحم اپنے بندوں پر اس سے بہت زیادہ ہے جو یہ عورت اپنے بچے کے لیے رکھتی ہے“۔

اور ویسے بھی غور کرنے سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی تو ہے جس نے بچوں کی پرورش کے لیے ماں باپ کے دل میں محبت پیدا کی ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر خدا اس محبت کو پیدا نہ کرتا تو ماں اور باپ سے بڑھ کر بچوں کا کوئی دشمن نہ ہوتا۔ کیونکہ سب سے بڑھ کر وہ انہی کے لیے تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ اب ہر شخص خود سمجھ سکتا ہے کہ جو خدا محبتِ مادری اور شفقتِ پدری کا خالق ہے خود اُ س کے اندر اپنی مخلوق کے لیے کیسی کچھ محبت موجود ہوگی۔

102. یہ سمجھ میں نہ آنا کچھ اس بنا پر نہ تھا کہ حضرت شعیبؑ کسی غیر زبان میں کلام کرتے تھے، یا ان کی باتیں بہت مُغلق اور پیچیدہ ہوتی تھیں۔ باتیں تو سب صاف اور سیدھی ہی تھیں اور اُسی زبان میں کی جاتی تھیں جو یہ لوگ بولتے تھے، لیکن ان کے ذہن کا سانچا اس قدر ٹیڑھا ہو چکا تھا کہ حضرت شعیبؑ کی سیدھی باتیں کسی طرح اس میں نہ اُتر سکتی تھیں ۔ قاعدے کی بات ہے کہ جو لوگ تعصبات اور خواہش نفس کی بندگی میں شدت کے ساتھ مبتلا ہوتے ہیں اور کسی خاص طرزِ خیال پر جامد ہو چکے ہوتے ہیں، وہ اوّل تو کوئی ایسی بات سن ہی نہیں سکتے جو ان کے خیالات سے مختلف ہو، اور اگر سُن بھی لیں تو ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کس دنیا کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

103. یہ بات پیشِ نظر رہے کہ بعینہٖ یہی صورت حال اِن آیات کے نزول کے وقت مکہ میں درپیش تھی۔ اس وقت قریش کے لوگ بھی اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے اور چاہتے تھے کہ آپ کی زندگی کا خاتمہ کر دیں۔ لیکن صرف اس وجہ سے آپ پر ہاتھ ڈالتے ہوئے ڈرتے تھے کہ بنی ہاشم آپ کی پشت پر تھے۔ پس حضرت شعیب اور ان کی قوم کا یہ قصہ ٹھیک ٹھیک قریش اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ پر چسپاں کرتے ہوئے بیان کیا جارہا ہے، اور آگے حضرت شعیب کا جو انتہائی سبق آموز جواب نقل کیا گیا ہے اس کے اندر یہ معنی پوشیدہ ہیں کہ اے قریش کے لوگو، تم کو بھی محمدؑ کی طرف سے یہی جواب ہے۔