Tafheem ul Quran

Surah 19 Maryam, Ayat 1-15

كٓهٰيٰـعٓـصٓ​ ۚ‏ ﴿19:1﴾ ذِكۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّكَ عَـبۡدَهٗ زَكَرِيَّا ​ ۖ ​ۚ‏ ﴿19:2﴾ اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِيًّا‏ ﴿19:3﴾ قَالَ رَبِّ اِنِّىۡ وَهَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّىۡ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَيۡبًا وَّلَمۡ اَكُنۡۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِيًّا‏ ﴿19:4﴾ وَاِنِّىۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِىَ مِنۡ وَّرَآءِىۡ وَكَانَتِ امۡرَاَتِىۡ عَاقِرًا فَهَبۡ لِىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا ۙ‏ ﴿19:5﴾ يَّرِثُنِىۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ ۖ ​ وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا‏  ﴿19:6﴾ يٰزَكَرِيَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰم اۨسۡمُهٗ يَحۡيٰى ۙ لَمۡ نَجۡعَلْ لَّهٗ مِنۡ قَبۡلُ سَمِيًّا‏ ﴿19:7﴾ قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِىۡ غُلٰمٌ وَّكَانَتِ امۡرَاَتِىۡ عَاقِرًا وَّقَدۡ بَلَـغۡتُ مِنَ الۡـكِبَرِ عِتِيًّا‏ ﴿19:8﴾ قَالَ كَذٰلِكَ​ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَىَّ هَيِّنٌ وَّقَدۡ خَلَقۡتُكَ مِنۡ قَبۡلُ وَلَمۡ تَكُ شَيۡـئًـا‏ ﴿19:9﴾ قَالَ رَبِّ اجۡعَلْ لِّىۡۤ اٰيَةً​  ؕ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا‏ ﴿19:10﴾ فَخَرَجَ عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنَ الۡمِحۡرَابِ فَاَوۡحٰٓى اِلَيۡهِمۡ اَنۡ سَبِّحُوۡا بُكۡرَةً وَّعَشِيًّا‏ ﴿19:11﴾ يٰيَحۡيٰى خُذِ الۡكِتٰبَ بِقُوَّةٍ​ ؕ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحُكۡمَ صَبِيًّا ۙ‏ ﴿19:12﴾ وَّحَنَانًـا مِّنۡ لَّدُنَّا وَزَكٰوةً  ​ؕ وَّكَانَ تَقِيًّا ۙ‏ ﴿19:13﴾ وَّبَرًّۢا بِوَالِدَيۡهِ وَلَمۡ يَكُنۡ جَبَّارًا عَصِيًّا‏ ﴿19:14﴾ وَسَلٰمٌ عَلَيۡهِ يَوۡمَ وُلِدَ وَيَوۡمَ يَمُوۡتُ وَيَوۡمَ يُبۡعَثُ حَيًّا‏  ﴿19:15﴾

1 - ک، ہ، ی، ع، ص۔ 2 - ذکر ہے 1 اُس رحمت کا جو تیرے ربّ نے اپنے بندے زکریا 2 پر کی تھی، 3 - جبکہ اُس نے اپنے ربّ کو چُپکے چُپکے پُکارا۔ 4 - اُس نے عرض کیا ”اے پروردگار! میری ہڈیاں تک گھُل گئی ہیں اور سر بڑھاپے سے بھڑک اُٹھا ہے۔ اے پروردگار ، میں کبھی تجھ سے دُعا مانگ کر نامراد نہیں رہا۔ 5 - مجھے اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں کی برائیوں کا خوف ہے 3 ، اور میری بیوی بانجھ ہے۔ تو مجھے اپنے فضلِ خاص سے ایک وارث عطا کر دے 6 - جو میرا وارث بھی ہو اور آلِ یعقوبؑ کی میراث بھی پائے، 4 اور اے پروردگار، اس کو ایک پسندیدہ انسان بنا۔“ 7 - (جواب دیا گیا)” اے زکریا، ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہو گا۔ ہم نے اِس نام کا کوئی آدمی اس سے پہلے پیدا نہیں کیا۔“ 5 8 - عرض کیا”پروردگار ، بھلا میرے ہاں کیسے بیٹا ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہےاور میں بوڑھا ہو کر سُوکھ چکاہوں؟“ 9 - جواب مِلا ”ایسا ہی ہوگا۔ تیرا ربّ فرماتا ہے کہ یہ تو میرے لیے ایک ذرا سی بات ہے، آخر اس سے پہلے میں تجھے پیدا کر چکا ہوں جب کہ تو کوئی چیز نہ تھا۔“ 6 10 - زکریا نے کہا،”پروردگار ، میرے لیے کوئی نشانی مقرر کر دے۔“ فرمایا ”تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تُو پیہم تین دن لوگوں سے بات نہ کر سکے۔“ 11 - چنانچہ وہ محراب 7 سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آیا اور اس نے اشارے سے ان کو ہدایت کی کہ صبح و شام تسبیح کرو۔ 8 12 - ”اے یحییٰ، کتابِ الہٰی کو مضبُوط تھام لے۔“ 9 ہم نے اسے بچپن ہی میں”حکم“ 10 سے نوازا، 13 - اور اپنی طرف سے اس کو نرم دلی 11 اور پاکیزہ عطا کی، اور وہ بڑا پرہیز گار 14 - اور اپنے والدین کا حق شناس تھا۔ وہ جبّار نہ تھا اور نہ نافرمان۔ 15 - سلام اُس پر جس روز کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس روز وہ زندہ کر کے اُٹھا یا جائے۔ 12 ؏ ۱


Notes

1. تقابل کے لئے سورہ آل عمران رکوع 4 پیش نظر رہے جس میں یہ قصہ دوسرے الفاظ میں بیان ہو چکا ہے ۔ تفہیم القران ج 1۔ص 246۔ 250)

2. یہ حضرت زکریا جن کا ذکر یہاں ہو رہا ہے حضرت ہارون کے خاندان سے تھے ۔ ان کی پوزیشن ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ بنی اسرائیل کے نظام کہانت (Priesthood ) کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے فلسطین پر قابض ہونے کے بعد بنی اسرائیل نے ملک کا انتظام اس طرح کیا تھا کہ حضرت یعقوب کی اولاد کے 12قبیلوں میں تو سارا ملک تقسیم کر دیا گیا ، اور تیرھواں قبیلہ (یعنی لاوی بن یعقوب کا گھرانا ) مذہبی خدمات کے لئے مخصوص رہا پھر بنی لاوی میں سے بھی اصل وہ خاندان جو ،مقدس میں خداوند کے آگے بخور جلا نے کی خدمت ' اور پاک ترین چیزوں کی تقدیس کا کام '' کرتا تھا، حضرت ہارون کا خاندان تھا۔ باقی دوسرے بنی لاوی مقدس کے اندر نہیں جا سکتے تھے بلکہ خداوند کے گھر کی خدمت کے وقت صحنوں اور کوٹھڑیوں میں کام کرتے تھے، سبت کے دن اور عیدوں کے موقع پر سوختنی قربانیاں چڑھاتے تھے ، اور مقدس کی نگرانی میں بنی ہارون کا ہاتھ بٹاتے تھے۔

بنی ہارون کے چوبیس خاندان تھے جو باری باری سے مقدس کی خدمت کے لئے حاضر ہوتے ۔ انہی خاندانوں میں سے ایک ابیاہ کا خاندان تھا جس کے سردار حضرت زکریا تھے۔ اپنے خاندان کی باری کے دنوں میں یہی مقدس میں جاتے اور بخور جلا نے کی خدمت انجام دیتے تھے۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو بائیبل کی کتاب توار یخ اول ۔باب 23(24)

3. مطلب یہ کہ ابیاہ کے خاندان میں میرے بعد کوئی ایسا نظر نہیں آتا جو دینی اور اخلاقی حیثیت سے اس منصب کا اہل ہو جسے میں سنبھالے ہوئے ہوں ۔ آگے جو نسل اٹھتی نظر آ رہی ہے اس کے لچھن بگڑے ہوئے ہیں ۔

4. یعنی مجھے صرف اپنی ذات ہی کا وارث مطلوب نہیں ہے بلکہ خانوادۂ یعقوب کی بھلائیوں کا وارث مطلوب ہے۔

5. لوقا کی انجیل میں الفاظ یہ ہیں: ”تیرے کنبے میں کسی کا یہ نام نہیں“(۱:۶۱)۔

6. حضرت زکریا کے اس سوال اور فرشتے کے جواب کو نگاہ میں رکھیے ، کیونکہ آگے چل کر حضرت مریم کے قصّے میں پھر یہی مضمون آرہا ہے اور اس کا جو مفہُوم یہاں ہے وہی وہاں بھی ہونا چاہیے ۔ حضرت زکریا نے کہا کہ میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ، میرے ہاں لڑکا کیسے ہو سکتا ہے ۔ فرشتے نے جواب دیا کہ ”ایسا ہی ہوگا“ ، یعنی تیرے بڑھاپے اور تیری بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود تیرے ہاں لڑکا ہوگا ۔ اور پھر اس نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا حوالہ دیا کہ جس خدا نے تجھے نیست سے ہست کیا اُس کی قدرت سے یہ بات بعید نہیں ہے کہ تجھ جیسے شیخ فانی سے ایک ایسی عورت کے ہاں اولاد پیدا کر دے جو عمر بھر بانجھ رہی ہے۔

7. محراب کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اوّل ، آلِ عمران، حاشیہ ۳۶۔

8. اس واقعے کی جو تفصیلات لوقا کی انجیل میں بیان ہوئی ہیں انہیں ہم یہاں نقل کر دیتے ہیں تاکہ لوگوں کے سامنے قرآن کی روایت کے ساتھ مسیحی روایت بھی رہے۔ درمیان میں قوسین کی عبارتیں ہماری اپنی ہیں:

”یہودیہ کے بادشاہ ہیرو دیس کے زمانے میں ( ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، بنی اسرائیل، حاشیہ ۹) ابیاہ کے فریق سےزکریا ہ نام کا ایک کاہن تھا اور اس کی بیوی ہارون کی اولاد میں سے تھی اور اس کا نام الیشبع (Elizabeth ) تھا۔ اور وہ دونوں خدا کے حضور راستباز اور خداوند کے سب احکام و قوانین پر بے عیب چلنے والے تھے۔ اور ان کے اولاد نہ تھی کیونکہ الیشبع بانجھ تھی اور وہ دونوں عمر رسیدہ تھے۔ جب وہ خدا کے حضور اپنے فریق کی باری پر کہانت کا کام انجام دیتا تھا تو ایسا ہوا کہ کہانت کے دستور کے موافق اس کے نام کا قرعہ نکلا کہ خداوند کے مَقدِس میں جا کر خوشبو جلائے ۔ اور لوگوں کی ساری جماعت خوشبو جلاتے وقت باہر دعا کر رہی تھی کہ خداوند کا فرشتہ خوشبو کے مذبح کی دہنی طرف کھڑا ہوا اس کو دکھائی دیا۔ اور زکریا دیکھ کر گھبرایا اوراس پر دہشت چھا گئی۔ مگر فرشتے نے اس سے کہا اے زکریا! خوف نہ کر کیونکہ تیری دُعا سُن لی گئی (حضرت زکریا کی دُعا کا ذکر بائیبل میں کہیں نہیں ہے) اور تیرے لیے تیری بیوی الیشبع کے بیٹا ہوگا۔ تُو اُس کا نام یوحنّا ( یعنی یحییٰ) رکھنا اور تجھے خوشی و خر می ہوگی اور بہت سے لوگ اس کی پیدائش کے سبب سے خوش ہوں گے کیونکہ وہ خدا وند کے حضور میں بزرگ ہوگا (سورۂ آلِ عمران میں اس کے لیے لفظ سَیِّدًا استعمال ہوا ہے ) اور ہرگز نہ مَے اور نہ کوئی شراب پیے گا (تَقِیًّا ) اور اپنی ماں کے بطن ہی سے روح القدس ے بھر جائے گا ( واٰ تَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا) اور بہت سے بنی اسرائیل کو خداوند کی طرف جو اُن کا خدا ہے پھیرے گا۔ اور وہ ایلیاہ (الیاس علیہ السّلام) کی روح اور قوت میں اس کےآگے آگے چلے گا کہ والدوں کے دل اولاد کی طرف اور نافرمانوں کو راستبازوں کی دانائی پر چلنے کی طرف پھیرے اور خداوند کے لیے ایک مستند قوم تیار کرے“۔

”زکریاہ نے فرشتے سے کہا کہ میں اس بات کو کس طرح جانوں؟ کیونکہ میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی عمر رسیدہ ہے ۔ فرشتے نے اس سے کہا میں جبرائیل ہوں جو خدا کے حضور کھڑا رہتا ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تجھ سے کلام کروں اور تجھے اِن باتوں کی خوشخبری دوں۔ اور دیکھ جس دن تک یہ باتیں واقع نہ ہو لیں تو چپکا رہے گا اور بول نہ سکے گا اس لیے کہ تو نے میری باتوں کا جو اپنے وقت پر پوری ہوں گی یقین نہ کیا۔ (یہ بیان قرآن سے مختلف ہے۔ قرآن اسے نشانی قرار دیتا ہے اور لوقا کی روایت اسے سزا کہتی ہے۔ نیز قرآن صرف تین دن کی خاموشی کا ذکر کرتا ہے اور لوقا کہتا ہے کہ اس وقت سے حضرت یحییٰ کی پیدائش تک حضرت زکریا گونگے رہے) اور لوگ زکریا کی راہ دیکھتے اور تعجب کرتے تھے کہ اسے مقدس میں کیوں دیر لگی۔ جب وہ باہر آیا تو ان سے بو ل نہ سکا ۔ پس انہوں نے معلوم کیا کہ اس نے مقدس میں رویا دیکھی ہے اور وہ ان سے اشارے کرتا تھا اور گونگا ہی رہا “۔

9. بیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ اس فرمانِ الہٰی کے مطابق حضرت یحییٰ پیدا ہوئے اور جوانی کی عمر کو پہنچے۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب وہ سن رشد کو پہنچے تو کیا کام اُن سے لیا گیا۔ یہاں صرف ایک فقرے میں اس مشن کو بیان کر دیا گیا ہے جو منصب نبوت پر مامور کرتے وقت ان کے سپرد کیا گیا تھا۔ یعنی وہ توراۃ پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوں اور بنی اسرائیل کو اس پر قائم کرنے کی کوشش کریں۔

10. ”حکم“یعنی قوتِ فیصلہ، قوتِ اجتہاد، تفقہ فی الدین، معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے کی صلاحیت ، اور اللہ کی طرف سے معاملات میں فیصلہ دینے کا اختیار۔

11. اصل میں لفظ حَنَان استعمال ہوا ہے جو قریب قریب مامتا کا ہم معنی ہے۔ یعنی ایک ماں کو جو غایت درجے کی شفقت اپنی اولاد پر ہوتی ہے ، جس کی بنا پر وہ بچے کی تکلیف پر تڑپ اُٹھتی ہے ، وہ شفقت حضرت یحییٰ کے دل میں بندگانِ خدا کے لیے پیدا کی گئی تھی۔

12. حضرت یحییٰ کے جو حالات مختلف انجیلوں میں بکھرے ہوئے ہیں انہیں جمع کر کے ہم یہاں ان کی سیرت پاک کا ایک نقشہ پیش کرتے ہیں جس سے سُورۂ آلِ عمران اور اس سورے کے مختصر اشارات کی توضیح ہو گی۔

لوقا کے بیان کے مطابق حضرت یحییٰ ، حضرت عیسیٰ سے ۶ مہینے بڑے تھے۔ ان کی والدہ اور حضرت عیسیٰ کی والدہ آپس میں قریبی رشتہ دار تھیں۔ تقریباً ۳۰ سال کی عمر میں وہ نبوت کے منصب پر عملاً مامور ہوئے اور یوحنا کی روایت کے مطابق انہوں نے شرقِ اُرْدُن کے علاقے میں دعوت الی اللہ کا کام شروع کیا ۔ وہ کہتے تھے:

”میں بیابان میں ایک پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو“۔ (یوحنا ۲۳:۱)

مرقس کا بیان ہے کہ وہ لوگوں سے گناہوں کی توبہ کراتے تھے اور توبہ کرنے والوں کو بپتسمہ دیتے تھے، یعنی توبہ کے بعد غسل کراتے تھے تاکہ روح اور جسم دونوں پاک ہو جائیں ۔ یہودیہ اور یروشلم کے بکثرت لوگ ان کے معتقد ہو گئے تھے اور ان کے پاس جا کر بپتسمہ لیتے تھے ( مرقس ۴:۱-۵) ۔ اسی بنا پر ان کا نام بپتسمہ دینے والا( John The Baptiest ) مشہور ہو گیا تھا۔ عام طور پر بنی اسرائیل ان کی نبوت تسلیم کر چکے تھے (متی ۲۶:۲۱) مسیح علیہ السّلام کا قول تھا کہ ” جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں ان میں یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہوا۔“ (متی ۱۱:۱۱)

وہ اونٹ کے بالوں کی پوشاک پہنے اور چمڑے کا پٹکا کمر سے باندھے رہتے تھے اور ان کی خوراک ٹڈیاں اور جنگلی شہد تھا (متی ۴:۳)۔ اس فقیرانہ زندگی کے ساتھ وہ منادی کرتے پھرتے تھے کہ ”توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی قریب آگئی ہے“ (متی ۲:۳) یعنی مسیح علیہ السّلام کی دعوتِ نبوت کا آغاز ہونے والا ہے۔ اسی بنا پر ان کو عموماً حضرت مسیح کا ”ارہاص“ کہا جاتا ہے ، اور یہی بات ان کے متعلق قرآن میں کہی گئی ہے کہ مُصَدِّ قًا بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللہِ (آلِ عمران ۴)۔

وہ لوگوں کو روزے اور نماز کی تلقین کرتے تھے (متی ۱۴:۹ – لوقا ۳۳:۵ – لوقا ۱:۱۱) ۔ وہ لوگوں سےکہتے تھے کہ ”جس کے پا س دو کرتے ہوں وہ اُس کو جس کے پاس نہ ہو بانٹ دے اور جس کے پاس کھانا ہو وہ بھی ایسا ہی کرے۔ “ محصول لینے والوں نے پوچھا کہ اُستاد ، ہم کیا کریں تو انہوں نے فرمایا” جو تمہارے لیے مقرر ہے اس سے زیادہ نہ لینا۔“ سپاہیوں نے پوچھا ہمارے لیے کیا ہدایت ہے ؟ فرمایا” نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ نا حق کسی سے کچھ لو اور اپنی تنخواہ پر کفایت کرو“ (لوقا ۳:۱۰ – ۱۴)۔ بنی اسرائیل کے بگڑے ہوئے علماء، فریسی اور صَدُوتی ان کے پاس بپتسمہ لینے آئے تو ڈانٹ کر فرمایا” اے سانپ کے بچو! تم کو کس نے جتا دیا کہ آنے والے غضب سے بھاگو؟ ۔۔۔۔۔۔ اپنے دلوں میں یہ کہنے کا خیال نہ کرو کہ ابراہام ہمارا باپ ہے ۔۔۔۔۔۔ اب درختوں کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا ہے، پس جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا ہو کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے“(متی ۷:۳ – ۱۰)۔

ان کے عہد کا یہودی فرمانروا ، ہیرود اینٹی پاس، جس کی ریاست میں وہ دعوتِ حق کی خدمت انجام دیتے تھے، سرتاپارومی تہذیب میں غرق تھا اور اس کی وجہ سے سارے ملک میں فسق و فجور پھیل رہا تھا۔ اس نے خود اپنے بھائی فِلپ کی بیوی ہیرودیاس کو اپنے گھر میں ڈال رکھا تھا۔ حضرت یحییٰ نے اس پر ہیرود کو ملامت کی اور اس کی فاسقانہ حرکات کے خلاف آواز اُٹھائی۔ اس جرم میں ہیرود نے ان کو گرفتار کر کےجیل بھیج دیا۔ تاہم وہ ان کو ایک مقدس اور راستباز آدمی جان کر ان کا احترام بھی کرتا تھا اور پبلک میں ان کے غیرمعمولی اثر سے ڈرتا بھی تھا۔ لیکن ہیرودیاس یہ سمجھتی تھی کہ یحییٰ علیہ السّلام جو اخلاقی روح قوم میں پھونک رہے ہیں وہ لوگوں کی نگاہ میں اُس جیسی عورتوں کو ذلیل کیے دے رہی ہے۔ اس لیے وہ ان کی جان کے درپے ہوگئی۔ آخر کار ہیرود کی سالگرہ کے جشن میں اس نے وہ موقع پا لیا کہ جس کی وہ تاک میں تھی۔ جشن کے دربار میں اس کی بیٹی نے خوب رقص کیا جس پر خوش ہو کر ہیرود نے کہا مانگ کیا مانگتی ہے ۔ بیٹی نے اپنی فاحشہ ماں سے پوچھا کیا مانگوں ؟ ماں نے کہا کہ یحیی ٰ کا سر مانگ لے۔ چنانچہ اس نے ہیرود کے سامنے ہاتھ باندھ کر عرض کیا مجھے یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر ایک تھال میں رکھوا کر ابھی منگوا دیجیے۔ ہیرود یہ سُن کر بہت غمگین ہوا ، مگر محبوبہ کی بیٹی کا تقاضا کیسے رد کر سکتا تھا ۔ اس نے فوراً قید خانے سے یحییٰ علیہ السّلام کا سرکٹوا کر منگوایا اور ایک تھا ل میں رکھوا کر رقاصہ کی نذر کر دیا (متی ۳:۱۴ – ۱۲ ۔ مرقس ۱۷:۶ – ۲۹۔ لوقا ۱۹:۳ – ۲۰)۔