Tafheem ul Quran

Surah 19 Maryam, Ayat 41-50

وَاذۡكُرۡ فِى الۡكِتٰبِ اِبۡرٰهِيۡمَ ۙ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا‏  ﴿19:41﴾ اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ يٰۤـاَبَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَ لَا يُغۡنِىۡ عَنۡكَ شَيۡـئًـا‏ ﴿19:42﴾ يٰۤـاَبَتِ اِنِّىۡ قَدۡ جَآءَنِىۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَاۡتِكَ فَاتَّبِعۡنِىۡۤ اَهۡدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا‏ ﴿19:43﴾ يٰۤـاَبَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّيۡطٰنَ​ ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِيًّا‏ ﴿19:44﴾ يٰۤاَبَتِ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اَنۡ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ فَتَكُوۡنَ لِلشَّيۡطٰنِ وَلِيًّا‏ ﴿19:45﴾ قَالَ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنۡ اٰلِهَتِىۡ يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ​ۚ لَـئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَهِ لَاَرۡجُمَنَّكَ​ وَاهۡجُرۡنِىۡ مَلِيًّا‏ ﴿19:46﴾ قَالَ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ​ۚ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَـكَ رَبِّىۡؕ اِنَّهٗ كَانَ بِىۡ حَفِيًّا‏  ﴿19:47﴾ وَ اَعۡتَزِلُـكُمۡ وَمَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَاَدۡعُوۡا رَبِّىۡ​ ​ۖ  عَسٰٓى اَلَّاۤ اَكُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّىۡ شَقِيًّا‏ ﴿19:48﴾ فَلَمَّا اعۡتَزَلَهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ۙ وَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ​ ؕ وَكُلًّا جَعَلۡنَا نَبِيًّا‏ ﴿19:49﴾ وَوَهَبۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِنَا وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِيًّا‏  ﴿19:50﴾

41 - اور اس کتاب میں ابراہیمؑ کا قصہ بیان کرو ، 26 بے شک وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا۔ 42 - (انہیں ذرا اُس موقع کی یاد دلاوٴ)جبکہ اُس نے اپنے باپ سے کہا”ابّا جان، آپ کیوں اُن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سُنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بنا سکتی ہیں؟ 43 - ابّا جان، میرے پاس ایک ایسا علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، آپ میرے پیچھے چلیں، میں آپ کو سیدھا راستہ بتاوٴں گا۔ 44 - ابّا جان، آپ شیطان کی بندگی نہ کریں، 27 شیطان تو رحمٰن کا نافرمان ہے۔ 45 - ابّا جان، مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمٰن کے عذاب میں مُبتلا نہ ہو جائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں۔“ 46 - باپ نے کہا ”ابراہیمؑ، کیا تُو میرے معبودوں سے پھر گیا ہے؟ اگر تُو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ بس تُو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہو جا۔“ 47 - ابراہیمؑ نے کہا”سلام ہے آپ کو۔ میں اپنے ربّ سے دُعا کروں گا کہ آپ کو معاف کردے، الف27 میرا ربّ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔ 48 - میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور اُن ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں۔ میں تو اپنے ربّ ہی کو پکاروں گا، اُمید ہے کہ میں اپنے ربّ کو پکار کے نامراد نہ رہوں گا۔“ 49 - پس جب وہ اُن لوگوں سے اور اُن کے معبُودانِ غیراللہ سے جُدا ہوگیا تو ہم نے اُس کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کونبی بنایا 50 - اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ان کو سچی نام وری عطا کی۔ 28 ؏ ۳


Notes

26. یہاں سے خطاب کا رُخ اہلِ مکہ کی طرف پھر رہا ہے جنہوں نے اپنے نوجوان بیٹوں، بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں کو اُسی طرح خدا پرستی کے جرم میں گھر چھوڑ نے پر مجبور کر دیا تھا جس طرح حضرت ابراہیم ؑ کو ان کے باپ اور بھائی بندوں نے دیس نکالا دیا تھا۔ اس غر ض کے لیے دوسرے انبیاء کو چھوڑ کر خاص طور پر حضرت ابراہیم ؑ کے قصّے کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ قریش کے لوگ ان کو اپنا پیشوا مانتے تھے اور انہی کی اولاد ہونے پر عرب میں اپنا فخر جتا یا کرتے تھے۔

27. اصل الفاظ ہیں لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰن ، یعنی”شیطان کی عبادت نہ کریں“۔ اگرچہ حضرت ابراہیم ؑ کے والد اور قوم کے دوسرے لوگ عبادت بُتوں کی کرتے تھے، لیکن چونکہ اطاعت وہ شیطان کی کر رہے تھے ، اس لیے حضرت ابراہیم نے ان کی اِس اطاعتِ شیطان کو بھی عبادتِ شیطان قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عبادت محض پوجا اور پرستش ہی کا نام نہیں بلکہ اطاعت کا نام بھی ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی پر لعنت کرتے ہوئے بھی اس کی بندگی بجا لائے تو وہ اُس کی عبادت کا مجرم ہے ، کیونکہ شیطان بہر حال کسی زمانے میں بھی لوگوں کا ”معبود“ (بمعنی معروف) نہیں رہا ہے بلکہ ان کے نام پر ہر زمانے میں لوگ لعنت ہی بھیجتے رہے ہیں۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم، الکہف، حاشیہ ۴۹ – ۵۰)۔