Tafheem ul Quran

Surah 22 Al-Haj, Ayat 11-22

وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّعۡبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرۡفٍ​ ​ۚ فَاِنۡ اَصَابَهٗ خَيۡرٌ اۨطۡمَاَنَّ بِهٖ​ ۚ وَاِنۡ اَصَابَتۡهُ فِتۡنَةُ اۨنقَلَبَ عَلٰى وَجۡهِهٖ​ۚ خَسِرَ الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةَ ​ ؕ ذٰ لِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ‏ ﴿22:11﴾ يَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهٗ وَمَا لَا يَنۡفَعُهٗ ​ؕ ذٰ لِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِيۡدُ​ ۚ‏ ﴿22:12﴾ يَدۡعُوۡا لَمَنۡ ضَرُّهٗۤ اَقۡرَبُ مِنۡ نَّـفۡعِهٖ​ؕ لَبِئۡسَ الۡمَوۡلٰى وَلَبِئۡسَ الۡعَشِيۡرُ‏ ﴿22:13﴾ اِنَّ اللّٰهَ يُدۡخِلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ​ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَفۡعَلُ مَا يُرِيۡدُ‏ ﴿22:14﴾ مَنۡ كَانَ يَظُنُّ اَنۡ لَّنۡ يَّـنۡصُرَهُ اللّٰهُ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ فَلۡيَمۡدُدۡ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لۡيَـقۡطَعۡ فَلۡيَنۡظُرۡ هَلۡ يُذۡهِبَنَّ كَيۡدُهٗ مَا يَغِيۡظُ‏ ﴿22:15﴾ وَكَذٰلِكَ اَنۡزَلۡنٰهُ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ يَهۡدِىۡ مَنۡ يُّرِيۡدُ‏ ﴿22:16﴾ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالصّٰبِـئِيۡنَ وَالنَّصٰرٰى وَالۡمَجُوۡسَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡۤا ​ۖ  اِنَّ اللّٰهَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ​ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدٌ‏ ﴿22:17﴾ اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسۡجُدُ لَهٗ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ وَالشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ وَالنُّجُوۡمُ وَ الۡجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ وَكَثِيۡرٌ مِّنَ النَّاسِ​ ؕ وَكَثِيۡرٌ حَقَّ عَلَيۡهِ الۡعَذَابُ​ؕ وَمَنۡ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ مُّكۡرِمٍ​ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ ۩  ؕ‏ ﴿22:18﴾ هٰذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِىۡ رَبِّهِمۡ​ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٌ مِّنۡ نَّارٍ ؕ يُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُءُوۡسِهِمُ الۡحَمِيۡمُ​ۚ‏ ﴿22:19﴾ يُصۡهَرُ بِهٖ مَا فِىۡ بُطُوۡنِهِمۡ وَالۡجُلُوۡدُؕ‏ ﴿22:20﴾ وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ‏ ﴿22:21﴾ كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا مِنۡ غَمٍّ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ‏ ﴿22:22﴾

11 - اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ بندگی کرتا ہے، 15 اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہو گیا اور جو کوئی مصیبت آگئی تو اُلٹا پھر گیا۔ 16 اُس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی۔ یہ ہے صریح خسارہ۔ 17 12 - پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارتا ہے جو نہ اُس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ، یہ ہے گمراہی کی انتہا۔ 13 - وہ اُن کو پکارتا ہے جن کا نقصان اُن کے نفع سے قریب تر ہے، 18 بدترین ہے اُس کا مولیٰ اور بدترین ہے اُس کا رفیق۔ 19 14 - (اِس کے برعکس)اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، 20 یقیناً ایسی جنتّوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے۔ 21 15 - جو شخص یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ دُنیا اور آخرت میں اُس کی کوئی مدد نہ کرے گا اُسے چاہیے کہ ایک رسّی کے ذریعے آسمان تک پہنچ کر شگاف لگائے، پھر دیکھ لے کہ آیا اُس کی تدبیر کسی ایسی چیز کو رد کر سکتی ہے جو اس کے ناگوار ہے 22 16 - ۔۔۔۔ ایسی ہی کھُلی کھُلی باتوں کے ساتھ ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے، اور ہدایت اللہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ 17 - جو لوگ ایمان لائے، 23 اور جو یہوُدی ہوئے، 24 اور صابئی، 25 اور نصاریٰ، 26 اور مجوس 27 ، اور جن لوگوں نے شرک کیا، 28 ان سب کے درمیان اللہ قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا، ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے۔ 18 - کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سر بسجُود ہیں 30 وہ سب جو آسمانوں میں ہیں 31 اور جو زمین میں ہیں؟ سُورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان 32 اور بہت سے وہ لوگ بھی جو عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔ 33 اور جسے اللہ ذلیل و خوار کردے اُسے پھر کوئی عزّت دینے والا نہیں ہے 34 ، اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے۔ 35 ۵ السجدة 19 - یہ دو فریق ہیں جن کے درمیان اپنے ربّ کے معاملے میں جھگڑا ہے۔ 36 اِن میں سے وہ لوگ جنہوں نے کُفر کیا اُن کے لیے آگ کے لباس کاٹے جا چکے ہیں، 37 اُن کے سروں پر کھَولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا 20 - جس سے اُن کی کھالیں ہی نہیں پیٹ کے اندر کے حصّے تک گل جائیں گے، 21 - اور اُن کو خبر لینے کے لیے لوہے کے گُرز ہوں گے۔ 22 - جب کبھی وہ گھبرا کر جہنّم سے نکلنے کی کوشش کریں گے پھر اُسی میں دھکیل دیے جائیں گے کہ چکھّو اب جلنے کی سزا کا مزہ۔ ؏ ۲


Notes

15. یعنی دائرہ ٔ دین کے وسط میں نہیں بلکہ کنارے پر ، یا بلفاظِ دیگر کفر و اسلام کی سرحد پر کھڑا ہو کر بندگی کرتا ہے۔ جیسے ایک مذبذب آدمی کسی فوج کے کنارے پر کھڑا ہو ، اگر فتح ہوتی دیکھے تو ساتھ آملے اور شکست ہوتی دیکھے تو چپکے سے سٹک جائے۔

16. اس سے مراد ہیں وہ خام سیرت ، مضطرب العقیدہ اور بندۂ نفس لوگ جو اسلام قبول تو کرتے ہیں مگر فائدے کی شرط کے ساتھ۔ ان کا ایمان اس شرط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے کہ ان کی مرادیں پوری ہوتی رہیں ، ہر طرح چین ہی چین نصیب ہو ، نہ خدا کا دین ان سے کسی قربانی کا مطالبہ کرے ، اور نہ دنیا میں ان کی کوئی خواہش اور آرزو پوری ہونے سے رہ جائے۔ یہ ہو تو خدا سے وہ راضی ہیں اور اس کا دین ان کے نزدیک بہت اچھا ہے ۔ لیکن جہاں کوئی آفت آئی، یا خدا کی راہ میں کسی مصیبت اور مشقت اور نقصان سے سابقہ پیش آگیا، یا کوئی تمنا پوری ہونے سے رہ گئی ، پھر ان کو خدا کی خدائی اور رسول کی رسالت اور دین کی حقانیت، کسی چیز پر بھی اطمینان نہیں رہتا ۔ پھر وہ ہر اُس آستانے پر جھکنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں جہاں سے ان کو فائدے کی امید اور نقصان سے بچ جانے کی توقع ہو۔

17. یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے جو چند لفظوں میں بیان کر دی گئی ہے۔ مذبذب مسلمان کا حال درحقیقت سب سے بدتر ہوتا ہے۔ کافر اپنے ربّ سے بے نیاز ، آخرت سے بے پروا ، اور قوانینِ الہٰی کی پابندیوں سے آزاد ہو کر جب یکسُوئی کے ساتھ مادّی فائدوں کے پیچھے پڑ جاتا ہے تو چاہے وہ اپنی آخرت کھودے، مگر دنیا تو کچھ نہ کچھ بنا ہی لیتا ہے۔ اور مومن جب پورے صبر و ثبات اور عزم و استقلال کے ساتھ خدا کے دین کی پیر وی کرتا ہے تو اگر چہ دنیا کی کامیابی بھی آخر کار اس کے قدم چوم کر ہی رہتی ہے ، تاہم اگر دنیا بالکل ہی اس کےہاتھ سے جاتی رہے ، آخرت میں بہر حال اس کی فلاح و کامرانی یقینی ہے ۔ لیکن یہ مذبذب مسلمان نہ اپنی دنیا ہی بنا سکتا ہے اور نہ آخرت ہی میں اس کے لیے فلاح کا کوئی امکان ہے۔ دنیا کی طرف لپکتا ہے تو کچھ نہ کچھ خدا اور آخرت کے ہونے کا گمان جو اس کے دل و دماغ کے کسی کونے میں رہ گیا ہے، اور کچھ نہ کچھ اخلاقی حدُود کا لحاظ جو اسلام سے تعلق نے پیدا کر دیا ہے، اس کا دامن کھینچتا رہتا ہے ، اور خالص دنیا طلبی کے لیے جس یکسُوئی و استقامت کی ضرورت ہے وہ کافر کی طرح اسے بہم نہیں پہنچتی۔ آخرت کا خیال کرتا ہے تو دنیا کے فائدوں کا لالچ اور نقصانات کا خوف، اور خواہشات پر پابندیاں قبول کرنے سے طبیعت کا انکار اُس طرف جانے نہیں دیتا بلکہ دنیا پرستی اس کے عقیدے اور عمل کو اتنا کچھ بگاڑ دیتی ہے کہ آخرت میں اس کا عذاب سے بچنا ممکن نہیں رہتا۔ اس طرح وہ دنیا بھی کھوتا ہے اور آخر ت بھی۔

18. پہلی آیت میں معبود انِ غیراللہ کے نافع و ضار ہونے کی قطعی نفی کی گئی ہے، کیونکہ حقیقت کے اعتبار سے وہ کسی نفع و ضرر کی قدرت نہیں رکھتے۔ دوسری آیت میں اُن کے نقصان کو اُن کے نفع سے قریب تر بتایا گیا ہے، کیونکہ ان سے دعائیں مانگ کر اور ان کے آگے حاجت روائی کے لیے ہاتھ پھیلا کر وہ اپنا ایمان تو فوراً اور یقیناً کھودیتا ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ نفع اسے حاصل ہو جس کی امید پر اس نے انہیں پکارا تھا، تو حقیقت سے قطع نظر ، ظاہر حال کے لحاظ سے بھی وہ خود مانے گا کہ اس کا حصول نہ تو یقینی ہے اور نہ قریب الوقوع ۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ اس کو مزید فتنے میں ڈالنے کے لیے کسی آستانے پر اس کی مراد بر لائے، اور ہو سکتا ہے کہ اُس آستانے پر وہ اپنا ایمان بھی بھینٹ چڑھا آئے اور اپنی مراد بھی نہ پائے۔

19. یعنی جس نے بھی اس کو اس راستے پر ڈالا ، خواہ وہ کوئی انسان ہو یا شیطان ، وہ بدترین کار ساز و سرپرست اور بدترین دوست اور ساتھی ہے۔

20. یعنی جن کا حال اس مطلب پرست ، مذبذب اور بے یقین مسلمان کا سا نہیں ہے، بلکہ جو ٹھنڈے دل سے خوب سوچ سمجھ کر خدا اور رسول اور آخرت کو ماننے کا فیصلہ کر تے ہیں، پھر ثابت قدمی کے ساتھ راہِ حق پر چلتےرہتے ہیں ، خواہ اچھے حالات سے سابقہ پیش آئے یا بُرے حالات سے ، خواہ مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں یا انعامات کی بارشیں ہونے لگیں۔

21. یعنی اللہ کے اختیارات غیر محدود ہیں۔ دنیا میں، یا آخرت میں ، یا دونوں جگہ ، وہ جس کو جو کچھ چاہتا ہے دیتا ہے اور جس سے جو کچھ چاہتا ہے روک لیتا ہے۔ وہ دینا چاہے تو کوئی روکنے والا نہیں۔ نہ دینا چاہے تو کوئی دِلوانے والا نہیں۔

22. اس آیت کی تفسیر میں بکثرت اختلافات ہوئے ہیں۔ مختلف مفسرین کے بیان کردہ مطالب کا خلاصہ یہ ہے:

(۱) جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اُس کی (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی) مدد نہ کرے گا وہ چھت سے رسی باندھ کر خود کشی کر لے۔

(۲) جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اُس کی (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی) مدد نہ کرے گا وہ کسی رسی کے ذریعے آسمان پر جانے اور مدد بند کرانے کی کوشش کر دیکھے۔

(۳) جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اُس کی (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی) مدد نہ کرے گا وہ آسمان پر جا کر وحی کا سلسلہ منقطع کر نے کی کوشش کر دیکھے۔

(۴) جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اُس کی (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی) مدد نہ کرے گا وہ آسمان پر جا کر اس کا رزق بند کرانے کی کوشش کر دیکھے۔

(۵) جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اس کی (یعنی خود اس طرح کا خیال کرنے والے کی) مدد نہ کرے گا وہ اپنے گھر کی چھت سے رسی لٹکائے اور خودکشی کر لے۔

(۶) جس کا یہ خیال ہو کہ اللہ اس کی (یعنی خود اس طرح کا خیال کرنے والے کی) مدد نہ کرے گا وہ آسمان تک پہنچ کر مدد لانے کی کوشش کر دیکھے۔

ان میں سے پہلے چار مفہومات تو بالکل ہی سیاق و سباق سے غیر متعلق ہیں۔ اور آخری دو مفہوم اگرچہ سیاق و سباق سے قریب تر ہیں ، لیکن کلام کے ٹھیک مدّعا تک نہیں پہنچتے ۔ سلسلۂ تقریر کو نگاہ میں رکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ گمان کرنے والا شخص وہی ہے جو کنارے پر کھڑا ہو کر بندگی کرتا ہے، جب تک حالات اچھے رہتے ہیں مطمئن رہتا ہے ، اور جب کوئی آفت یا مصیبت آتی ہے، یا کسی ایسی حالت سے دوچار ہوتا ہے جو اسے ناگوار ہے ، تو خدا سے پھر جاتا ہے اور ایک ایک آستانے پر ماتھا رگڑنے لگتا ہے۔ اس شخص کی یہ کیفیت کیوں ہے؟ اس لیے کہ وہ قضائے الہٰی پر راضی نہیں ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ قسمت کے بناؤ اور بگاڑ کے سررشتے اللہ کے سوا کسی اور کے ہاتھ میں بھی ہیں، اور اللہ سے مایوس ہو کر دوسرے آستانوں سے امیدیں وابستہ کرتا ہے۔ اس بنا پر فرمایا جارہا ہے کہ کہ جس شخص کے یہ خیالات ہوں وہ اپنا سارا زور لگا کر دیکھ لے ، حتٰی کہ آگر آسمان کو پھاڑ کر تھِگلی لگا سکتا ہو تو یہ بھی کر کے دیکھ لے کہ آیا اس کی کوئی تدبیر تقدیر ِ الہٰی کے کسی ایسے فیصلے کو بدل سکتی ہے جو اس کو ناگوار ہے۔ آسمان پر پہنچنے اور شگاف دینے سے مراد ہے وہ بڑی سے بڑی کوشش جس کا انسان تصوّر کر سکتا ہو۔ ان الفاظ کا کوئی لفظی مفہوم مراد نہیں ہے۔

23. یعنی”مسلمان“ جنہوں نے اپنے اپنے زمانے میں خدا کے تمام انبیاء ، اور اس کی کتابوں کو مانا، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جنہوں نے پچھلے انبیاء کے ساتھ آپ پر بھی ایمان لانا قبول کیا۔ ان میں صادق الایمان بھی شامل تھے اور وہ بھی تھے جو ماننے والوں میں شامل تو ہو جاتے تھے مگر”کنارے “ پر رہ کر بندگی کرتے تھے، اور کفر و ایمان کے درمیان مذبذب تھے۔

24. تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القران جلد اوّل، النساء، حاشیہ نمبر ۷۲۔

25. صابئی کے نام سے قدیم زمانے میں دو گروہ مشہور تھے۔ ایک حضرت یحییٰ علیہ السلام کے پیرو، جو بالائی عراق (یعنی الجزیرہ) کے علاقے میں اچھی خاصی تعداد میں پائے جاتے تھے ،اور حضرت یحییٰ کی پیروی میں اصطباغ کے طریقے پر عمل کرتے تھے۔ دوسرے ستارہ پرست لوگ جو اپنے دین کو حضرت شیث اور حضرت ادریس علیہماالسلام کی طرف منسوب کرتے تھے اور عناصر پر سیّاروں کی اور سیّاروں پر فرشتوں کی فرماں روائی کے قائل تھے۔ ان کا مرکزحَرّاں تھا اور عراق کے مختلف حصّوں میں ان کی شاخیں پھیلی ہوئی تھیں۔ یہ دوسرا گروہ اپنے فلسفہ و سائنس اور فنِ طِب کے کمالات کی وجہ سے زیادہ مشہور ہوا ہے ۔ لیکن اغلب یہ ہے کہ یہاں پہلا گروہ مراد ہے۔ کیونکہ دوسرا گروہ غالبًا نزولِ قرآن کے زمانے میں اس نام سے موسوم نہ تھا۔

26. تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، المائدہ ، حاشیہ نمبر ۳۶۔

27. یعنی ایران کے آتش پرست جو روشنی اور تاریکی کے دو خدا مانتے تھے اور اپنے آپ کو زردشت کا پیرو کہتے تھے ۔ ان کے مذہب و اخلاق کو مَزْدَک کی گمراہیوں نے بری طرح مسخ کر کے رکھ دیا تھا ، حتٰی کہ سگی بہن سے نکاح تک ان میں رواج پایا گیا تھا۔

28. یعنی عرب اور دوسرے ممالک کے مشرکین جو مذکورۂ بالا گروہوں کی طرح کسی خاص نام سے موسوم نہ تھے۔ قرآن مجید ان کو دوسرے گروہوں سے ممیز کرنے کے لیے مُشْرِکِیْن اور اَلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْ کے اصطلاحی ناموں سے یاد کر تا ہے، اگرچہ اہلِ ایمان کے سوا باقی سب کے ہی عقائد و اعمال میں شرک داخل ہو چکا تھا۔

30. تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الرعد، حاشیہ نمبر ۲۴ – ۲۵، النحل، حاشیہ نمبر ۴۱ – ۴۲۔

31. یعنی فرشتے، اَجرامِ فلکی ، اور وہ سب مخلوقات جو زمین کے ماورا ء دوسرے جہانوں میں ہیں خواہ وہ انسان کی طرح ذی عقل و اختیار ہوں ، یا حیوانات ، نباتات ، جمادات اور ہوا روشنی کی طرح بے عقل و بے اختیار۔

32. یعنی وہ جو محض مجبورً ا ہی نہیں بلکہ بالارادہ اور بطوع و رغبت بھی اُس کو سجدہ کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں دوسرا انسانی گروہ جس کا بعد کے فقرے میں ذکر آرہا ہے، وہ ہے جو اپنے ارادے سے خدا کے آگے جھکنے سے انکار کرتا ہے ، مگر دوسری بے اختیار مخلوقات کی طرح وہ بھی قانونِ فطرت کی گرفت سے آزاد نہیں ہے اور سب کے ساتھ مجبورًا سجدہ کرنے والوں میں شامل ہے۔ اس کے مستحق عذاب ہونے کی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں بغاوت کی روش اختیار کرتا ہے۔

33. مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ان مختلف گروہوں کے جھگڑے کا فیصلہ تو قیامت ہی کے روز چکایا جائے گا، لیکن کوئی آنکھیں رکھتا ہو تو وہ آج بھی دیکھ سکتا ہے کہ حق پر کون ہے اور آخری فیصلہ کس کے حق میں ہونا چاہیے۔ پوری کائنات کا نظام اس بات پر شاہد ہے کہ زمین سے آسمانوں تک ایک ہی خدا کی خدائی پورے زور اور پوری ہمہ گیری کے ساتھ چل رہی ہے۔ زمین کے ایک ذرے سے لےکر آسمان کے بڑے بڑے سیّاروں تک سب ایک قانون میں جکڑے ہوئے ہیں جس سے بال برابر بھی جنبش کرنے کا کسی کو یارا نہیں ہے ۔ مومن تو خیر دل سے اس کے آگے سر جھکاتا ہے ، مگر وہ دہریہ جو اس کے وجود تک کا انکار کررہا ہے اور وہ مشرک جو ایک ایک بے اختیار ہستی کے آگے جھک رہا ہے وہ بھی اُس کی اطاعت پر اُسی طرح مجبور ہے جس طرح ہوا اور پانی ۔ کسی فرشتے ،کسی جن، کسی نبی اور ولی ، اور کسی دیوی یا دیوتا کے پاس خدائی کی صفات اور اختیارات کا ادنیٰ شائبہ تک نہیں ہے کہ اس کو الوہیت اور معبودیت کا مقام دیا جا سکے ، یا خداوند ِ عالم کا ہم جنس یا مثیل ٹھیرایا جا سکے۔ کسی قانون ِ بے حاکم اور فطرتِ بے صانع اور نظامِ بے ناظم کے لیے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اتنی بڑی کائنات کو وجود میں لا سکے اور باقاعدگی کے ساتھ خود ہی چلاتا رہے او ر قدرت و حکمت کے وہ حیرت انگیز کرشمے دکھا سکے جو اس کائنات کے گوشے گوشے میں ہر طرف نظر آرہے ہیں۔ کائنات کی یہ کھلی کتاب سامنے ہوتے ہوئے بھی جو شخص انبیاء کی بات نہیں مانتا اور مختلف خود ساختہ عقیدے اختیار کر کے خدا کے بارے میں جھگڑتا ہے اس کا برسر ِ باطل ہونا آج بھی اسی طرح ثابت ہے جس طرح قیامت کے روز ثابت ہو گا۔

34. یہاں ذلت اور عزّت سے مراد حق کا انکار اور اس کی پیروی ہے ، کیونکہ اس کا لازمی نتیجہ ذلّت اور عزّت ہی کی شکل میں ظاہر ہونا ہے۔ جو شخص کھلے کھلے اور روشن حقائق کو آنکھیں کھول کر نہ دیکھے، اور سمجھانے والے کی بات بھی سن کر نہ دے وہ خود ہی ذلت و خواری کو اپنے اوپر دعوت دیتا ہے ، اور اللہ وہی چیز اس کے نصیب میں لکھ دیتا ہے جو اس نے خود مانگی ہے۔ پھر جب اللہ ہی نے اس کو پیروی ِ حق کی عزت نہ دی تو اب کون ہے جو اس کو اِس عزت سے سرفراز کردے۔

35. یہاں سجدہ ٔ تلاوت واجب ہے ، اور سورۂ حج کا یہ سجدہ متفق علیہ ہے ۔ سجدہ ٔ تلاوت کی حکمت اور اس کے احکام کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف، حاشیہ نمبر ۱۵۷۔

36. یہاں خدا کے بارے میں جھگڑا کرنے والے تمام گروہوں کو ان کی کثرت کے باوجود دو فریقوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ایک فریق وہ جو انبیاء کی بات مان کر خدا کی صحیح بندگی اختیار کرتا ہے۔ دوسرا وہ جو ان کی بات نہیں مانتا اور کفر کی راہ اختیار کرتا ہے ، خواہ اس کے اندر آپس میں کتنے ہی اختلافات ہوں اور اس کے کفر نے کتنی ہی مختلف صورتیں اختیار کر لی ہوں۔

37. مستقبل میں جس چیز کا پیش آنا بالکل قطعی اور یقینی ہو اس کو زور دینے کے لیے اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ گویا وہ پیش آچکی ہے ۔ آگ کے کپڑوں سے مراد غالبًا وہی چیز ہے جسے سُورۂ ابراہیم آیت ۵۰ میں سَرَ ابِیْلُھُمْ مِنْ قَطِرَانٍ فرمایا گیا ہے۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، ابراہیم، حاشیہ نمبر ۵۸۔