Tafheem ul Quran

Surah 22 Al-Haj, Ayat 26-33

وَاِذۡ بَوَّاۡنَا لِاِبۡرٰهِيۡمَ مَكَانَ الۡبَيۡتِ اَنۡ لَّا تُشۡرِكۡ بِىۡ شَيۡـئًـا وَّطَهِّرۡ بَيۡتِىَ لِلطَّآئِفِيۡنَ وَالۡقَآئِمِيۡنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوۡدِ‏ ﴿22:26﴾ وَاَذِّنۡ فِى النَّاسِ بِالۡحَجِّ يَاۡتُوۡكَ رِجَالًا وَّعَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ يَّاۡتِيۡنَ مِنۡ كُلِّ فَجٍّ عَمِيۡقٍ ۙ‏ ﴿22:27﴾ لِّيَشۡهَدُوۡا مَنَافِعَ لَهُمۡ وَيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ فِىۡۤ اَ يَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۡۢ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ​​ ۚ فَكُلُوۡا مِنۡهَا وَاَطۡعِمُوا الۡبَآئِسَ الۡفَقِيۡـرَ‏ ﴿22:28﴾ ثُمَّ لۡيَـقۡضُوۡا تَفَثَهُمۡ وَلۡيُوۡفُوۡا نُذُوۡرَهُمۡ وَلۡيَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَيۡتِ الۡعَتِيۡقِ‏ ﴿22:29﴾ ذٰلِكَ وَمَنۡ يُّعَظِّمۡ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّهٗ عِنۡدَ رَبِّهٖ​ؕ وَاُحِلَّتۡ لَـكُمُ الۡاَنۡعَامُ اِلَّا مَا يُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ​ فَاجۡتَنِبُوا الرِّجۡسَ مِنَ الۡاَوۡثَانِ وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِۙ‏ ﴿22:30﴾ حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَيۡرَ مُشۡرِكِيۡنَ بِهٖ​ؕ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخۡطَفُهُ الطَّيۡرُ اَوۡ تَهۡوِىۡ بِهِ الرِّيۡحُ فِىۡ مَكَانٍ سَحِيۡقٍ‏ ﴿22:31﴾ ذٰلِكَ وَمَنۡ يُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنۡ تَقۡوَى الۡقُلُوۡبِ‏  ﴿22:32﴾ لَـكُمۡ فِيۡهَا مَنَافِعُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الۡبَيۡتِ الۡعَتِيۡقِ‏ ﴿22:33﴾

26 - یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے ابراہیمؑ کے لیے اِس گھر (خانہ کعبہ)کی جگہ تجویز کی تھی اِس ہدایت کے ساتھ)کہ ”میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو، 45 27 - اور لوگوں کو حج کے لیے اِذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دُور دراز مقام سے پیدل اور اُونٹوں 46 پر سوار آئیں، 47 28 - تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں اُن کے لیے رکھے گئے ہیں، 48 اور چند مقرر دنوں میں اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے انھیں بخشے ہیں، 49 خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں، 50 29 - پھر اپنا مَیل کچَیل دُور کریں 51 اور اپنی نذریں پُوری کریں، 52 اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔ 53 30 - یہ تھا (تعمیرِ کعبہ کا مقصد)اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حُرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے ربّ کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے۔ 54 اور تمہارے لیے مویشی جانور حلال کیے گئے، 55 ماسوا اُن چیزوں کے جو تمہیں بتائی جاچکی ہیں۔ 56 پس بُتوں کی گندگی سے بچو، 57 جھُوٹی باتوں سے پرہیز کرو، 58 31 - یکسُو ہو کر اللہ کے بندے بنو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گِر گیا، اب یا تو اُسے پرندے اُچک لے جائیں گے یا ہوا اُس کو ایسی جگہ لے جاکر پھینک دے گی جہاں اُس کے چیتھڑے اُڑ جائیں گے۔ 59 32 - یہ ہے اصل معاملہ( اِسے سمجھ لو)اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر 60 کا احترام کرے تو یہ دِلوں کے تقویٰ سے ہے۔ 61 33 - تمہیں ایک وقتِ مقرر تک اُن (ہدی کے جانوروں)سے فائدہ اُٹھانے کا حق ہے، 62 پھر اُن (کے قربان کرنے)کی جگہ اسی قدیم گھر کے پاس ہے۔ 63 ؏ ۴


Notes

45. بعض مفسرین نے ”پاک رکھو“ پر اُس فرمان کو ختم کر دیا ہے جو حضرت ابراہیم ؑ کو دیا گیا تھا، اور ”حج کے لیے اذنِ عام دے دو“ کا خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مانا ہے۔ لیکن اندازِکلام صاف بتا رہا ہے کہ یہ خطاب بھی حضرت ابراہیم ؑ ہی کی طرف ہے اور اُسی حکم کا ایک حصّہ ہے جو اُن کو خانۂ کعبہ کی تعمیر کے وقت دیا گیا تھا۔ علاوہ بریں مقصودِ کلام بھی یہاں یہی بتانا ہے کہ اوّل روز ہی سے یہ گھر خدائے واحد کی بندگی کے لیے تعمیر کیا گیا تھا اور تما م خدا پرستوں کو یہاں حج کے لیے آنے کا اذنِ عام تھا۔

46. اصل میں لفظ ”ضامر“ استعمال ہوا ہے جو خاص طور پر دُبلے اُونٹوں کے لیے بولتے ہیں۔ اس سے اُن مسافروں کی تصویر کھینچنا مقصود ہے جو دور دراز مقامات سے چلے آرہے ہوں اور راستے میں اُن کے اُونٹ چارہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے دُبلے ہو گئے ہوں۔

47. یہاں وہ حکم ختم ہوتا ہے جو ابتداءً حضرت ابراہیمؑ کو دیا گیا تھا، اور آگے کا ارشاد اس پر اضافہ ہے جو بطور تشریح مزید کیا گیا ہے ۔ ہماری اس رائے کی وجہ یہ ہے کہ اِس کلام کا خاتمہ”اِس قدیم گھر کا طواف کریں“ پر ہوا ہے، جو ظاہر ہے کہ تعمیر خانۂ کعبہ کے وقت نہ فرمایا گیا ہوگا۔ (حضرت ابراہیم ؑ کی تعمیر خانۂ کعبہ کے متعلق مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو ، سورۂ بقرہ، آیات ۱۲۵ – ۱۲۹ ۔ آل ِ عمران ، آیات ۹۶ – ۹۷۔ ابراہیم، آیات ۳۵ – ۴۱)۔

48. اس سے مراد صرف دینی فائدے ہی نہیں ہیں بلکہ دنیوی فائدہ بھی ہیں۔ یہ اسی خانہ ٔ کعبہ اور اس کے حج کی برکت تھی کہ حضرت ابراہیم ؑ کے زمانہ سے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک ڈھائی ہزار برس کی مدت میں عربوں کو ایک مرکزِ وحدت حاصل رہا جس نے اُن کی عربیت کو قبائلیت میں بالکل گم ہوجانے سے بچائے رکھا۔ اس کے مرکز سے وابستہ ہونے اور حج کے لیے ہر سال ملک کے تمام حصوں سے آتے رہنے کی بدولت ان کی زبان ایک رہی، ان کی تہذیب ایک رہی، ان کے اندر عرب ہونے کا احساس باقی رہا، اور ان کو خیالات ، معلومات اور تمدنی طریقوں کی اشاعت کے مواقع ملتے رہے۔ پھر یہ بھی اسی حج کی برکت تھی کہ عرب کی اس عام بد امنی میں کم از کم چار مہینے ایسے امن کے میسر آجاتے تھے جن میں ملک کے ہر حصّے کا آدمی سفر کر سکتا تھا اور تجارتی قافلے بھی بخیریت گزر سکتے تھے۔ اس لیے عرب کی معاشی زندگی کے لیے بھی حج ایک رحمت تھا۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، آلِ عمران، حواشی ۸۰ – ۸۱۔ المائدہ ، حاشیہ ۱۱۳)۔

اسلام کے بعد حج کے دینی فائدوں کے ساتھ اس کے دنیوی فائدے بھی کئی گنے زیادہ ہو گئے۔ پہلے وہ صرف عرب کے لیے رحمت تھا۔ اب وہ ساری دنیا کے اہلِ توحید کے لیے رحمت ہو گیا۔

49. جانوروں سے مراد مویشی جانور ہیں ، یعنی اونٹ، گائے، بھیڑ ، بکری ، جیسا کہ سورۂ انعام آیات ۱۴۲ – ۱۴۴ میں بصراحت بیا ن ہو اہے۔

اُن پر اللہ کا نام لینے سے مراد اللہ کے نام پر اور اُس کا نام لے کر انہیں ذبح کرنا ہے ، جیسا کہ بعد کا فقرہ خود بتا رہا ہے ۔ قرآن مجید میں قربانی کے لیے بالعموم”جانور پر اللہ کا نام لینے“ کا استعارہ استعمال کیا گیا ہے، اور ہر جگہ اس سے مراد اللہ کے نام پر جانور کو ذبح کرنا ہی ہے۔ اس طرح گویا اس حقیقت پر متنبہ کیا گیا ہے کہ اللہ کا نام لیے بغیر، یا اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر جانور ذبح کرنا کفار و مشرکین کا طریقہ ہے۔ مسلمان جب کبھی جانور کو ذبح کر ے گا اللہ کا نام لے کر کرے گا ، اور جب کبھی قربانی کرے گا اللہ کے لیے کرے گا۔

ایّام معلومات (چند مقرر دنوں) سے مراد کون سے دن ہیں؟ اس میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان سے مراد ذی الحجہ کے پہلے دس دن ہیں۔ ابن عباس ؓ ، حسن بصری، ابراہیم نخعی، قتادہ اور متعدد دوسرے صحابہ و تابعین سے یہ قول منقول ہے۔ امام ابو حنیفہ ؒ بھی اسی طرف گئے ہیں۔ امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کا بھی ایک قول اسی کی تائید میں ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد یوم النحر (یعنی ۱۰ ذی الحجہ) اور اس کے بعد کے تین دن ہیں۔ اس کی تائید میں ابنِ عباس ؓ، ابن عمر ؓ، ابراہیم نخعی، حسن اور عطاء کے اقوال پیش کیے جاتے ہیں، اور امام شافعی ؒ و احمدؒ سے بھی ایک ایک قول اس کے حق میں منقول ہوا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد تین دن ہیں، یوم النحر اور دو دن اس کے بعد۔ اس کی تائید میں حضرات عمر ، علی، ابن عمر، ابن عباس، انس بن مالک، ابوہریرہ، سعید بن مُسَیَّب وار سعید بن جُبَیر رضی اللہ عنہم کے اقوال منقول ہوئے ہیں۔ فقہاء میں سے سُفیانؒ ثوری، امام مالکؒ، امام ابو یوسفؒ اور امام محمد ؒ نے یہی قول اختیار کیا ہے اور مذہب حنفی و مالکی میں اسی پر فتوٰی ہے۔ باقی کچھ شاذ اقوال بھی ہیں، مثلًا کسی نے یکم محرم تک قربانی کے ایام کو دراز کیا ہے،کسی نے صرف یوم النحر تک اسے محدود کر دیا ہے، اور کسی نے یوم النحر کے بعد صرف ایک دن مزید قربانی کا مانا ہے۔ لیکن یہ کمزور اقوال ہیں جن کی دلیل مضبوط نہیں ہے۔

50. ”بعض لوگوں نے اس ارشاد کا یہ مطلب لیا ہے کہ کھانا اور کھلانا دونوں واجب ہیں، کیونکہ حکم بصیغۂ امر دیا گیا ہے۔ دوسرا گروہ اس طرف گیا ہے کہ کھانا مستحب ہے اور کھلانا واجب۔ یہ رائے امام شافعیؒ اور امام مالکؒ کی ہے ۔ تیسرا گروہ کہتا ہے کہ کھانا اور کھلانا دونوں مستحب ہیں۔ کھانا اس لیے مستحب ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگ اپنی قربانی کا گوشت خود کھانا ممنوع سمجھتے تھے ، اور کھلانا اس لیے پسند یدہ کہ اس میں غریبوں کی امداد و اعانت ہے۔ یہ امام ابو حنیفہ ؒ کا قول ہے۔ ابن جریر نے حسن بصری، عطاء، مجاہد اور ابراہیم نخعی کے یہ اقوال نقل کیے ہیں کہ فَکُلُوْ ا مِنْھَا میں صیغہْ امر کے استعمال سے کھانے کا وجوب ثابت نہیں ہوتا۔ یہ امر ویسا ہی ہے جیسے فرمایا وَاِ ذَا حَلَلْتُمْ فَا صطَادُوْا ،” جب تم حالتِ اِحرام سے نکل آؤ تو پھر شکار کرو“۔(المائدہ۔ آیت ۲) اور فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلوٰ ۃُ فَانْتَشِرُوْ ا فِی الْاَرْضِ، ”پھر جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ “(الجمعہ ۔ آیت ۱۰)۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ احرام سے نکل کر شکا ر کرنا اور نماز جمعہ کے بعد زمین میں پھیل جانا واجب ہے ۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ پھر ایسا کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔ اسی طرح یہاں بھی چونکہ لوگ اپنی قربانی کا گوشت خود کھانے کو ممنوع سمجھتے ہیں اس لیے فرمایا گیا کہ نہیں، اسے کھاؤ، یعنی اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔

تنگ دست فقیر کو کھلانے کے متعلق جو فرمایا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ غنی کو نہیں کھلایا جاسکتا ۔ دوست، ہمسائے، رشتہ دار، خواہ محتاج نہ ہوں، پھر بھی انہیں قربانی کے گوشت میں سے دینا جائز ہے۔ یہ بات صحابۂ کرام کے عمل سے ثابت ہے۔ عَلْقَمَہ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے میرے ہاتھ قربانی کے جانور بھیجے اور ہدایت فرمائی کہ یوم النحر کو انہیں ذبح کرنا ، خود بھی کھانا، مساکین کو بھی دینا اور میرے بھائی کے گھر بھی بھیجنا۔ ابن عمر کا بھی یہی قول ہے کہ ایک حصّہ کھاؤ، ایک حصّہ ہمسایوں کو دو، اور ایک حصّہ مساکین میں تقسیم کرو۔

51. یعنی یوم النحر (۱۰ ذی الحجہ ) کو قربانی سے فارغ ہو کر احرام کھول دیں، حجامت کرائیں، نہائیں ، دھوئیں اور وہ پابندیاں ختم کر دیں جو احرام کی حالت میں عائد ہو گئی تھیں۔ لغت میں تَفَث کے اصل معنی اُس غبار اور مَیل کچیل کے ہیں جو سفر میں آدمی پر چڑھ جاتا ہے ۔ مگر حج کے سلسلے میں جب میل کچیل دُور کرنے کا ذکر کیا گیا ہے تو اس کا مطلب وہی لیا جائے گا جو اوپر بیان ہوا ہے ۔ کیونکہ حاجی جب تک مناسِک حج اور قربانی سے فارغ نہ ہو جائے ، وہ نہ بال ترشوا سکتا ہے ، نہ ناخن کٹوا سکتا ہے ، اور نہ جسم کی دوسری صفائی کر سکتا ہے۔ (اس سلسلہ میں یہ بات جان لینی چاہیے کہ قربانی سے فراغت کے بعد دوسری تمام پابندیاں تو ختم ہو جاتی ہیں، مگر بیوی کے پاس جانا اُس وقت تک جائز نہیں ہوتا جب تک آدمی طوافِ افاضہ نہ کرلے)۔

52. یعنی جو نذر بھی کسی نے اِس موقع کے لیے مانی ہو۔

53. کعبہ کے لیے”بیتِ عتیق“ کا لفظ بہت معنی خیز ہے۔”عتیق“عربی زبان میں تین معنوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایک قدیم۔ دوسرے آزاد، جس پر کسی کی ملکیت نہ ہو۔ تیسرے ، مکرم اور معزّز ۔ یہ تینوں ہی معنی اس پاک گھر پر صادق آتے ہیں۔

طواف سے مراد طوافِ افاضہ، یعنی طوافِ زیارت ہے جو یوم النحر کو قربانی کرنے اور اِحرام کھول دینے کے بعد کیا جاتا ہے۔ یہ ارکانِ حج میں سے ہے۔ اور چونکہ قضائے تَفَث کے حکم سے متصل اس کا ذکر کیا گیا ہے اس لیے یہ ارشاد اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ طواف قربانی کرنے اور اِحرام کھول کر نہا دھو لینے کے بعد کیا جانا چاہیے۔

54. بظاہر یہ ایک عام نصیحت ہے جو اللہ کی قائم کی ہوئی تمام حرمتوں کا احترام کرنے کے لیے فرمائی گئی ہے، مگر اس سلسلہ ٔ کلام میں وہ حرمتیں بدرجۂ اولیٰ مراد ہیں جو مسجد حرام اور حج اور عمرے اور حرمِ مکّہ کےباب میں قائم کی گئی ہیں۔ نیز اس میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ قریش نے حرم سے مسلمانوں کو نکال کر اور ان پر حج کا راستہ بندکر کے اور مناسکِ حج میں مشرکانہ و جاہلانہ رسمیں شامل کر کے اور بیت اللہ کو شرک کی گندگی سے ملوث کر کے اُن بہت سی حرمتوں کی ہتک کر ڈالی ہے جو ابراہیم علیہ السّلام کے وقت سے قائم کر دی گئی تھیں۔

55. اس موقع پر مویشی جانوروں کی حِلّت کا ذکر کرنے سے مقصُود دو غلط فہمیوں کو رفع کرنا ہے۔ اوّل یہ کہ قریش اور مشرکینِ عرب بَحِیرہ اور سائبہ اور وصیلہ اور حام کو بھی اللہ کی قائم کی ہوئی حرمتوں میں شمار کرتے تھے ۔ اس لیے فرمایا گیا کہ یہ اس کی قائم کردہ حرمتیں نہیں ہیں، بلکہ اس نے تمام مویشی جانور حلال کیے ہیں۔ دوم یہ کہ حالت ِ احرام میں جس طرح شکار حرام ہے اُس طرح کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ مویشی جانوروں کا ذبح کرنا اور ان کو کھانا بھی حرام ہے۔ اس لیے بتایا گیا کہ یہ اللہ کی قائم کی ہوئی حرمتوں میں سے نہیں ہے۔

56. اشارہ ہے اس حکم کی طرف جو سورۂ انعام اور سورۂ نحل میں ارشاد ہوا ہے کہ (اللہ نے جن چیزوں کو حرام کیا ہے وہ ہیں مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جانور جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا جائے)۔ (الانعام، آیت ۱۴۵۔ النحل، آیت ۱۱۵)۔

57. یعنی بتوں کی پرستش سے اس طرح بچو جیسے غلاظت سے آدمی گھِن کھاتا ہے اور دُور ہٹتا ہے۔ گویا کہ وہ نجاست سے بھرے ہوئے ہیں اور قریب جاتے ہی آدمی اُن سے نجس اور پلید ہو جائے گا۔

58. ”اگرچہ الفاظ عام ہیں، اور ان سے ہر جھوٹ، بہتان، اور جھوٹی شہادت کی حرمت ثابت ہوتی ہے، مگر اس سلسلۂ کلام میں خاص طور پر اشارہ اُن باطل عقائد اور احکام اور رسوم اور اوہام کی طرف ہے جن پر کفر و شرک کی بنیا دہے۔ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھیرانا اور اس کی ذات ، صفات ، اختیارات اور حقوق میں اس کے بندوں کو حصہ دار بنانا وہ سب بڑا جھوٹ ہے جس سے یہاں منع کیا گیا ہے۔ اور پھر وہ جھوٹ بھی اس فرمان کی براہِ راست زد میں آتا ہے جس کی بنا پر مشرکینِ عرب بَحِیرہ اور سائبہ اور حام وغیرہ کو حرام قرار دیتے تھے، جیسا کہ سورۂ نحل میں فرمایا وَلَا نَقُوْلُوْ ا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّ ھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْ ا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ، ”اور یہ جو تمہاری زبانیں جھوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور وہ حرام، تو اس طرح کے حکم لگا کر اللہ پر جھوٹ نہ باندھا کرو“۔( آیت ۱۱۶)

اس کے ساتھ جھوٹی قسم اور جھوٹی شہادت بھی اسی حکم کے تحت آتی ہے، جیسا کہ صحیح احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا عُدِلت شھادۃ الزور بالا شراک باللہ، ”جھُوٹی گواہی شرک باللہ کے برابر رکھی گئی ہے“،اور پھر آپؐ نے ثبوت میں یہی آیت پیش فرمائی۔ اسلامی قانون میں یہ جرم مستلزم تعزیر ہے۔ امام ابو یوسف ؒ اور امام محمد ؒ کا فتویٰ یہ ہے کہ جو شخص عدالت میں جھوٹا گواہ ثابت ہو جائے اُ س کی تشہیر کی جائے اور لمبی قید کی سزا دی جائے۔ یہی حضرت عمر ؓ کا قول اور فعل بھی ہے۔ مَکْحول کی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا یُضْرب ظھرہ و یحلق رأ سہ و یسخم و جھہ و یطال حبسہ، ”اس کی پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں، اس کا سر مونڈا جائے اور منہ کالا کیا جائے اور لمبی قید کی سزا دی جائے“۔ عبداللہ بن عامر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کی عدالت میں ایک شخص کی گواہی جھوٹی ثابت ہوگئی تو انہوں نے اس کو ایک دن برسرِ عام کھڑا رکھ کر اعلان کرایا کہ یہ فلاں بن فلاں جھوٹا گواہ ہے ، اِسے پہچان لو، پھر اس کو قید کردیا۔ موجودہ زمانے میں ایسے شخص کا نام اخبارات میں نکال دینا تشہیر کا مقصد پورا کر سکتا ہے۔

59. اس تمثیل میں آسمان سے مراد ہے انسان کی فطری حالت جس میں وہ ایک خدا کے سوا کسی کا بندہ نہیں ہوتا اور توحید کے سوا اُس کی فطرت کسی اور مذہب کو نہیں جانتی۔ اگر انسان انبیاء کی دی ہوئی رہنمائی قبول کرلے تو وہ اسی فطری حالت پر علم اور بصیرت کے ساتھ قائم ہو جاتا ہے ، اور آگے اس کی پرواز مزید بلندیوں ہی کی طرف ہوتی ہے نہ کہ پستیوں کی طرف ۔ لیکن شرک (اور صرف شرک ہی نہیں بلکہ دہریت اور الحاد بھی) اختیار کرتے ہی وہ اپنی فطرت کے آسمان سے یکایک گر پڑتا ہے اور پھر اس کو دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت لازمًا پیش آتی ہے۔ ایک یہ کہ شیاطین اور گمراہ کرنے والے انسان ، جن کو اس تمثیل میں شکاری پرندوں سے تشبیہ دی گئِ ہے، اس کی طرف جھپٹتے ہیں اور ہر ایک اسے اچک لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کی اپنی خواہشاتِ نفس اور اس کے اپنے جذبات اور تخیلات، جن کو ہوا سے تشبیہ دی گئی ہے، اسے اُڑائے اُڑائے لیے پھرتے ہیں اور آخر کار اُس کو کسی گہرے کھڈ میں لے جا کر پھینک دیتے ہیں۔

سَحیق کا لفظ سحق سے نکلا ہے جس کے اصل معنی پیسنے کے ہیں۔ کسی جگہ کو سحیق اُس صورت میں کہیں گے جبکہ وہ اتنی گہری ہو کہ جو چیز اس میں گرے وہ پاش پاش ہو جائے۔ یہاں فکر و اخلاق کی پستی کو اس گہرے کھڈ سے تشبیہ دی گئی ہے جس میں گر کر آدمی کے پُرزے اُڑ جائیں۔

60. یعنی خدا پرستی کی علامات ، خواہ وہ اعمال ہوں جیسے نماز ، روزہ، حج وغیرہ ، یا اشیاء ہوں جیسے مسجد اور ہدی کے اونٹ وغیرہ۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اوّل ، المائدہ، حاشیہ نمبر ۵۔

61. یعنی یہ احترام دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ آدمی کے دل میں کچھ نہ کچھ خدا کا خوف ہے تبھی تو وہ اس کے شعائر کا احترام کررہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اگر کوئی شخص جان بوجھ کر شعائر اللہ کی ہتک کرے تو یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ اس کا دل خدا کے خوف سے خالی ہو چکا ہے، یا تو وہ خدا کا قائل ہی نہیں ہے ، یا ہے تو اس کے مقابلے میں باغیانہ روش اختیار کرنے پر اُتر آیا ہے۔

62. پہلی آیت میں شعائر اللہ کے احترام کا عام حکم دینے اور اسے دل کے تقویٰ کی علامت ٹھیرانے کے بعد یہ فقرہ ایک غلط فہمی کو رفع کرنے کےلیے ارشاد فرمایا گیاہے۔ شعائر اللہ میں ہدی کے جانور بھی داخل ہیں ،جیسا کہ اہلِ عرب مانتے تھے اور قرآن خود بھی آگے چل کر کہتا ہے کہ وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰھَا لَکُمْ مِّنْ شَعَآ ءِ رِ اللہِ، ”اور ان ہدی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے شعائراللہ میں شامل کیا ہے “۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ شعائر اللہ کی تعظیم کا جو حکم اوپر دیا گیا ہے کیا اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہدی کےجانوروں کو بیت اللہ کی طرف جب لے جانے لگیں تو ان کو کسی طرح بھی استعمال نہ کیا جائے ؟ ان پر سوار ی کرنا ، یا سامان لادنا، یا ان کے دودھ پینا تعظیم شعائر اللہ کے خلاف تو نہیں ہے ؟ عرب کے لوگوں کا یہی خیال تھا۔ چنانچہ وہ ان جانوروں کو بالکل کوتَل لے جاتے تھے۔ راستے میں ان سے کسی طرح کا فائدہ اُٹھانا ان کے نزدیک گناہ تھا۔ اِسی غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ قربانی کی جگہ پہنچنے تک تم ان جانوروں سے فائدہ اُٹھا سکتے ہو، ایسا کرنا تعظیم شعائراللہ کے خلاف نہیں ہے ۔ یہی بات اُن احادیث سے معلوم ہوتی ہے جس اس مسئلے میں حضرت ابو ہریرہ ؓ اور حضرت انس ؓ سے مروی ہیں۔ ان میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص اونٹ کی مہار تھامے پیدل چلا جا رہا ہے اور سخت تکلیف میں ہے۔ آپؐ نے فرمایا اس پر سوار ہو جاؤ۔ اُس نے عرض کیا یہ ہَدی کا اونٹ ہے۔ آپؐ نے فرمایا”ارے سوار ہوجا“۔

مفسرین میں سے ابن عباس، قتادہ، مجاہد، ضَحّاک اور عطاء خراسانی اس طرف گئے ہیں کہ اس آیت میں”ایک وقت مقرر تک“ سے مراد”جب تک جانور کو قربانی کے لیے نامزد اور ہدی سے موسوم نہ کر دیا جائے“ ہے۔ اس تفسیر کی رُو سے آدمی ان جانوروں سے صرف اس وقت تک فائدہ اُٹھا سکتا ہے جب تک کہ وہ اسے ہَدی کے نام سے موسوم نہ کر دے۔ اور جونہی کہ وہ اسے ہدی بنا کر بیت اللہ لے جانے کی نیت کر لے ، پھر اسے کوئی فائدہ اُٹھانے کا حق نہیں رہتا۔ لیکن یہ تفسیر کسی طرح صحیح معلوم نہیں ہوتی۔ اوّل تو اس صورت میں استعمال اور استفادے کی اجازت دینا ہی بے معنی ہے ۔ کیونکہ”ہدی“ کے سوا دوسرے جانوروں سے استفادہ کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں کوئی شک پیدا ہی کب ہو اتھا کہ اسے اجازت کی تصریح سے رفع کرنے کی ضرورت پیش آتی۔ پھر آیت صریح طور پر کہہ رہی ہے کہ اجازت ان جانوروں کے استعمال کی دی جا رہی ہے جن پر ”شعائراللہ“ کا اطلاق ہوا ، اور ظاہر ہے کہ یہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ انہیں ہدی قرار دے دیا جائے۔

دُوسرے مفسرین ، مثلاً عُرْوَہ بن زبیر اور عطاء بن ابی رَباح کہتے ہیں کہ” وقتِ مقرر “ سے مراد”قربانی کا وقت“ ہے۔ قربانی سے پہلے ہدی کے جانوروں کو سواری کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں ، ان کے دودھ بھی پی سکتے ہیں ، ان کے بچے بھی لے سکتے ہیں اور اُن کا اون، صوف، بال وغیرہ بھی اتار سکتے ہیں۔ امام شافعیؒ نے اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے ۔ حنفیہ اگرچہ پہلی تفسیر کے قائل ہیں ، لیکن وہ اس میں اتنی گنجائش نکال دیتے ہیں کہ بشرطِ ضرورت استفادہ جائز ہے۔

63. جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ھَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَۃِ (المائدہ ۔ آیت نمبر ۹۵) اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ کعبہ پر ، یا مسجد حرام میں قربانی کی جائے، بلکہ حرام کے حدود میں قربانی کرنا مراد ہے۔ یہ ایک اور دلیل ہے اس امر کی کہ قرآن کعبہ ، یا بیت اللہ ، یا مسجد حرام بول کر بالعموم حرمِ مکّہ مراد لیتا ہے نہ کہ صرف وہ عمارت۔