Tafheem ul Quran

Surah 23 Al-Mu'minun, Ayat 1-22

قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَۙ‏ ﴿23:1﴾ الَّذِيۡنَ هُمۡ فِىۡ صَلَاتِهِمۡ خَاشِعُوۡنَ ۙ‏ ﴿23:2﴾ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَۙ‏ ﴿23:3﴾ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فَاعِلُوۡنَۙ‏ ﴿23:4﴾ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰفِظُوۡنَۙ‏ ﴿23:5﴾ اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ​ۚ‏ ﴿23:6﴾ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓـئِكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ​ ۚ‏ ﴿23:7﴾ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رَاعُوۡنَ ۙ‏ ﴿23:8﴾ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ​ۘ‏ ﴿23:9﴾ اُولٰٓـئِكَ هُمُ الۡوَارِثُوۡنَ ۙ‏ ﴿23:10﴾ الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ‏ ﴿23:11﴾ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ طِيۡنٍ​ ۚ‏ ﴿23:12﴾ ثُمَّ جَعَلۡنٰهُ نُطۡفَةً فِىۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ‏ ﴿23:13﴾ ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَةَ مُضۡغَةً فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰهُ خَلۡقًا اٰخَرَ​ ؕ فَتَبٰـرَكَ اللّٰهُ اَحۡسَنُ الۡخٰلِقِيۡنَ ؕ‏ ﴿23:14﴾ ثُمَّ اِنَّكُمۡ بَعۡدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوۡنَؕ‏ ﴿23:15﴾ ثُمَّ اِنَّكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ تُبۡعَثُوۡنَ‏ ﴿23:16﴾ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآئِقَ ۖ  وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَـلۡقِ غٰفِلِيۡنَ‏ ﴿23:17﴾ وَاَنۡزَلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسۡكَنّٰهُ فِى الۡاَرۡضِ​ۖ وَاِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۢ بِهٖ لَقٰدِرُوۡنَ​ ۚ‏ ﴿23:18﴾ فَاَنۡشَاۡنَا لَـكُمۡ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّ اَعۡنَابٍ​ ۘ لَـكُمۡ فِيۡهَا فَوَاكِهُ كَثِيۡرَةٌ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ ۙ‏ ﴿23:19﴾ وَشَجَرَةً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَيۡنَآءَ تَنۡۢبُتُ بِالدُّهۡنِ وَصِبۡغٍ لِّلۡاٰكِلِيۡنَ‏ ﴿23:20﴾ وَ اِنَّ لَـكُمۡ فِى الۡاَنۡعَامِ لَعِبۡرَةً​   ؕ نُسۡقِيۡكُمۡ مِّمَّا فِىۡ بُطُوۡنِهَا وَلَـكُمۡ فِيۡهَا مَنَافِعُ كَثِيۡرَةٌ وَّمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ ۙ‏ ﴿23:21﴾ وَعَلَيۡهَا وَعَلَى الۡـفُلۡكِ تُحۡمَلُوۡنَ‏ ﴿23:22﴾

1 - یقیناً فلاح پائی ہے ایمان لانے والوں نے 1 2 - جو: 2 اپنی نماز میں خشوع 3 اختیار کرتے ہوں، 3 - لغویات سے دُور رہتے ہیں۔ 4 4 - زکوٰة کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں۔ 5 5 - اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، 6 6 - سوائے اپنی بیویوں کے اور اُن عورتوں کے جو ان کی مِلکِ یمین میں ہوں کہ ان پر (محفوظ رکھنے میں)وہ قابلِ ملامت نہیں ہیں، 7 - البتہ جو اُس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں، 7 8 - اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں، 8 9 - اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔ 9 10 - یہی لوگ وہ وارث ہیں 11 - جو میراث میں فردوس 10 پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ 11 12 - ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا ، 13 - پھر اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا، 14 - پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی، پھر لوتھڑے کو بوٹی بنا دیا، پھر بوٹی کو ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، 12 پھر اسے ایک دُوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا۔ 13 پس بڑا ہی بابرکت ہے 14 اللہ، سب کاریگروں سے اچھا کاریگر۔ 15 - پھر اس کے بعد تم کو ضرور مرنا ہے، 16 - پھر قیامت کے روز یقیناً تم اُٹھائے جاوٴ گے۔ 17 - اور تمہارے اُوپر ہم نے سات راستے بنائے، 15 تخلیق کے کام سے ہم کچھ نابلد نہ تھے۔ 16 18 - اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اُتارا اور اس کو زمین میں ٹھہرا دیا، 17 ہم اُسے جس طرح چاہیں غائب کر سکتے ہیں۔ 18 19 - پھر اس پانی کے ذریعہ سے ہم نے تمہارے لیے کھجُور اور انگور کے باغ پیدا کر دیے، تمہارے لیے ان باغوں میں بہت سے لذیز پھل ہیں 19 اور ان سے تم روزی حاصل کرتے ہو۔ 20 20 - اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طوُرِ سیناء سے نکلتا ہے، 21 تیل بھی لیے ہوئے اُگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی۔ 21 - اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے۔ ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں سے ایک چیز ہم تمہیں پلاتے ہیں، 22 اور تمہارے لیے ان میں بہت سے دُوسرے فائدے بھی ہیں۔ اُن کو تم کھاتے ہو 22 - اور اُن پر اور کشتیوں پر سوار بھی کیے جاتے ہو۔ 23 ؏ ۱


Notes

1. ایمان لانے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کر لی، آپ کو اپنا ہادی و رہبر مان لیا، اور اُس طریقِ زندگی کی پیروی پر راضی ہوگئے جسے آپ نے پیش کیا ہے۔

فلاح کے معنی ہیں کامیابی و خوشحالی۔ یہ لفظ خُسران کی ضد ہے جو ٹوٹے اور گھاٹے اور نا مرادی کے معنی میں بولا جاتا ہے ۔ اَفْلَحَ الرّجل کے معنی ہیں فلاں شخص کامیاب ہوا، اپنی مراد کو پہنچا، آسودہ و خوشحال ہو گیا، اس کی کوشش بارآور ہوئی، اس کی حالت اچھی ہو گئی۔

قَدْ اَفْلَحَ ”یقینًا فلاح پائی“۔ آغازِ کلام اِن الفاظ سے کرنے کی معنویت اُس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتی جب تک وہ ماحول نگاہ میں نہ رکھا جائے جس میں یہ تقریر کی جا رہی تھی۔ اُس وقت ایک طرف دعوتِ اسلامی کے مخالف سردارانِ مکّہ تھے جن کی تجارتیں چمک رہی تھیں ، جن کے پاس دولت کی ریل پیل تھی ، جن کو دنیوی خوشحالی کے سارے لوازم میسر تھے۔ اور دوسری طرف دعوتِ اسلامی کے پیرو تھے جن میں سے اکثر تو پہلے ہی غریب اور خستہ حال تھے ، اور بعض جو اچھے کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے یا اپنے کاروبار میں پہلے کامیاب تھے، ان کو بھی اب قوم کی مخالفت نے بدحال کردیا تھا۔ اس صورتِ حال میں جب تقریر کا آغاز اس فقرے سے کیا گیا کہ”یقیناً فلاح پائی ایمان لانے والوں نے“ تو اس سے خود بخود یہ مطلب نکلا کہ تمہارا معیار فلاح و خسران غلط ہے ، تمہارے اندازے غلط ہیں ، تمہاری نگاہ دور رَس نہیں ہے، تم اپنے جس عارضی و محدود خوشحالی کو فلاح سمجھ رہے ہو وہ فلاح نہیں خسران ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو جو تم ناکام و نامراد سمجھ رہے ہو وہ دراصل کامیاب و بامراد ہیں۔ اس دعوتِ حق کو مان کو انہوں نے خسارے کا سودا نہیں کیا ہے بلکہ وہ چیز پائی ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں ان کو پائدار خوشحالی سے ہم کنار کرے گی۔ اور اسے رد کر کے دراصل خسارے کا سودا تم نے کیا ہے جس کے بُرے نتائج تم یہاں بھی دیکھو گے اور دنیا سے گزر کر دوسری زندگی میں بھی دیکھتے رہو گے۔

یہی اس سورے کا مرکزی مضمون ہے اور ساری تقریر اول سے آخر تک اسی مدّعا کو ذہن نشین کرنے کے لیے کی گئی ہے۔

2. یہاں سے آیت نمبر ۹ تک ایمان لانے والوں کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ گویا دلیلں ہیں اس دعوے کی کہ انہوں نے ایمان لا کر درحقیقت فلاح پائی ہے۔ با لفاظِ دیگر گویا یوں کہا جا رہا ہے کہ ایسے لوگ آخر کیوں کر فلاح یاب نہ ہوں جن کی یہ اور یہ صفات ہیں۔ اِن اوصاف کے لوگ ناکام و نامراد کیسے ہو سکتے ہیں۔ کامیابی اِنہیں نصیب نہ ہو گی تو اور کنھیں ہو گی۔

3. خشوع کے اصل معنی ہیں کسی کے آگے جھک جانا ، دب جانا، اظہارِ عجز و انکسار کرنا۔ اس کیفیت کا تعلق دل سے بھی ہے اور جسم کی ظاہری حالت سے بھی۔ دل کا خشوع یہ ہے کہ آدمی کسی کی ہیبت اور عظمت و جلال سے مرعوب ہو۔ اور جسم کا خشوع یہ ہے کہ جب وہ اُس کے سامنے جائے تو سر جھک جائے ، اعضاء ڈھیلے پڑ جائیں، نگاہ پست ہو جائے، آواز دب جائے ، اور ہیبت زدگی کے وہ سارے آثار اس پر طاری ہو جائیں جو اُس حالت میں فطرتًا طاری ہو جایا کرتے ہیں جبکہ آدمی کسی زبردست با جبروت ہستی کے حضور پیش ہو۔ نماز میں خشوع سے مراد دل اور جسم کی یہی کیفیت ہے اور یہی نماز کی اصل روح ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہا ہے اور ساتھ ساتھ ڈاڑھی کے بالوں سے کھیلتا جاتا ہے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا لوخشع قلبہ خشعت جوارحہٗ ”اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے جسم پر بھی خشوع طاری ہوتا“۔

اگر چہ خشوع کا تعلق حقیقت میں دل سے ہے اور دل کا خشوع آپ سے آپ جسم پر طاری ہوتا ہے، جیسا کہ مذکورہ ٔ بالا حدیث سے ابھی معلوم ہوا ۔ لیکن شریعت میں نماز کے کچھ ایسے آداب بھی مقرر کر دیے گئے ہیں جو ایک طرف قلبی خشوع میں مددگار ہوتے ہیں اور دوسری طرف خشوع کی گھٹتی بڑھتی کیفیات میں فعل نماز کم از کم ظاہری حیثیت سے ایک معیارِ خاص پر قائم رکھتے ہیں۔ ان آداب میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی دائیں بائیں نہ مڑے اور نہ سر اُٹھا کر اوپر کی طرف دیکھے (زیادہ سے زیادہ صرف گوشۂ چشم سے اِدھر اُدھر دیکھا جا سکتا ہے۔ حنفیہ اور شافعیہ کے نزدیک نگاہ سجدہ گاہ سے متجاوز نہ ہونی چاہیے ، مگر مالیکیہ اس بات کے قائل ہیں کہ نگا ہ سامنے کی طرف رہنی چاہیے)۔ نماز میں ہلنا اور مختلف سمتوں میں جُھکنا بھی ممنوع ہے۔ کپڑوں کو بار بار سمیٹنا ، یا ان کو جھاڑنا ، یا اُن سے شغل کرنا بھی ممنوع ہے۔ اس بات سے بھی منع کیا گیا ہے کہ سجدے میں جاتے وقت آدمی اپنے بیٹھنے کی جگہ یا سجدے کی جگہ صاف کرنے کی کوشش کرے۔ تن کر کھڑے ہونابہت بلند آواز سے کڑک کر قرأت کرنا ، یا قرأ ت میں گانا بھی آداب نماز کے خلا ف ہے۔ زور زور سے جمائیاں لینا اور ڈکاریں مارنا بھی نماز میں بے ادبی ہے۔ جلدی جلدی مارا مار نماز پڑھنا بھی سخت ناپسندیدہ ہے۔ حکم یہ ہےکہ نماز کا ہر فعل پوری طرح سکون اور اطمینان سے ادا کیا جائے اور ایک فعل ، مثلًا رکوع یا سجود یا قیام یا قعود جب تک مکمل نہ ہو لے دوسرا فعل شروع نہ کیا جائے۔ نماز میں اگر کوئی چیز اذیت دے رہی ہو تو اسے ایک ہاتھ سے دفع کیا جا سکتا ہے، مگر بار بار ہاتھوں کو حرکت دینا، یا دونوں ہاتھوں کو استعمال کر نا ممنوع ہے۔

ان ظاہری آداب کے ساتھ یہ چیز بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ آدمی نماز میں جان بوجھ کر غیر متعلق باتیں سوچنے سے پرہیز کرے ۔ بلا ارادہ خیالات ذہن میں آئیں اور آتے رہیں تو یہ نفسِ انسانی کی ایک فطری کمزوری ہے۔ لیکن آدمی کی پوری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ نماز کے وقت اس کا دل خدا کی طرف متوجہ ہو اور جو کچھ وہ زبان سے کہہ رہا ہو وہی دل سے بھی عرض کرے۔ اس دوران میں اگر بے اختیار دوسرے خیالات آجائیں تو جس وقت بھی آدمی کو اُس کا احساس ہو اُسی وقت اسے اپنی توجہ اُن سے ہٹا کر نماز کی طرف پھیر لینی چاہیے۔

4. ”لغو“ ہر اس بات اور کام کو کہتے ہیں جو فضول ، لایعنی اور لاحاصل ہو۔ جن باتوں یا کاموں کا کوئی فائدہ نہ ہو، جن سے کوئی مفید نتیجہ برآمد نہ ہو، جن کی کوئی حقیقی ضرورت نہ ہو، جن سے کوئی اچھا مقصد حاصل نہ ہو، وہ سب ”لغویات“ ہیں۔

”معرضون“ کا ترجمہ ہم نے ”دُور رہتے ہیں“ کیا ہے۔ مگر اس سے بات پوری طرح ادا نہیں ہوتی۔ آیت کا پورا مطلب یہ ہےکہ وہ لغویات کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ ان کی طرف رُخ نہیں کرتے۔ ان میں کو ئی دلچسپی نہیں لیتے۔ جہاں ایسی باتیں ہو رہی ہوں یا ایسے کام ہو رہے ہوں وہاں جانے سے پرہیز کرتے ہیں، ان میں حصّہ لینے سے اجتناب کرتے ہیں، اور اگر کہیں ان سے سابقہ پیش آہی جائے تو ٹل جاتے ہیں، کترا کر نِکل جاتے ہیں ، یا بدرجہ آخر بے تعلق ہو رہتے ہیں۔ اسی بات کو دوسری جگہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ وَاِذَا مَرُّوْ ا بِاللَّغْوِ مَرُّوْ ا کِرَ امًا۔ (الفرقان۔ آیت۷۲) یعنی جب کسی ایسی جگہ سے ان کا گزر ہوتا ہے جہاں لغو باتیں ہو رہی ہوں ، یا لغو کام ہو رہے ہوں وہاں سے مہذب طریقے پر گزر جاتے ہیں۔

یہ چیز ، جسے اس مختصر سے فقرے میں بیان کیا گیا ہے ، دراصل مومن کی اہم ترین صفات میں سے ہے ۔ مومن وہ شخص ہوتا ہے جسے ہر وقت اپنی ذمہ داری کا احساس رہتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ دنیا دراصل ایک امتحان گاہ ہے اور جس چیز کو زندگی اور عمر اور وقت کے مختلف ناموں سے یا د کیا جاتا ہے وہ درحقیقت ایک نپی تُلی مدّت ہے جو اسے امتحان کے لیے دی گئی ہے ۔ یہ احساس اس کو بالکل اُس طالب علم کی طرح سنجیدہ اور مشغول اور منہمک بنا دیتا ہے جو امتحان کے کمرے میں بیٹھا اپنا پرچہ حل کر رہا ہو۔ جس طرح اُس طالب علم کو یہ احساس ہوتا ہے کہ امتحان کے یہ چند گھنٹے اس کی آئندہ زندگی کے لیے فیصلہ کُن ہیں، اور اس احساس کی وجہ سے وہ اُن گھنٹوں کا ایک ایک لمحہ اپنے پرچے کو صحیح طریقے سے حل کرنے کی کوشش میں صرف کر ڈالنا چاہتا ہے اور ان کا کوئی سیکنڈ فضول ضائع کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، ٹھیک اسی طرح مومن بھی دنیا کی اس زندگی کو اُنہی کاموں میں صرف کرتا ہے جو انجام کار کے لحاظ سے مفید ہوں ۔ حتیٰ کہ وہ تفریحات اور کھیلوں میں سے بھی اُن چیزوں کا انتخاب کرتا ہے جو محض تضیع وقت نہ ہوں بلکہ کسی بہتر مقصد کے لیے اُسے تیار کرنے والی ہوں۔ اُس کے نزدیک وقت”کاٹنے“ کی چیز نہیں ہوتی بلکہ استعمال کرنے کی چیز ہوتی ہے۔

علاوہ بریں مومن ایک سلیم الطبع، پاکیزہ مزاج، خوش ذوق انسان ہوتا ہے۔ بیہودگیوں سے اس کی طبیعت کو کسی قسم کا لگاؤ نہیں ہوتا۔ وہ مفید باتیں کر سکتا ہے، مگر فضول گپیں نہیں ہانک سکتا ۔ وہ ظرافت اور مزاح اور لطیف مذاق کی حد تک جا سکتا ہے، مگر ٹھٹھے بازیاں نہیں کر سکتا ، گندہ مذاق اور مسخرہ پن برداشت نہیں کر سکتا، تفریحی گفتگو ؤں کو اپنا مشغلہ نہیں بنا سکتا ۔ اُس کے لیے تو وہ سوسائیٹی ایک مستقل عذاب ہوتی ہے جس میں کان کسی وقت بھی گالیوں سے ، غیبتوں اور تہمتوں اور جھوٹی باتوں سے ، گندے گانوں اور فحش گفتگوؤں سے محفوظ نہ ہوں۔ اس کو اللہ تعالیٰ جس جنت کی امید دلاتا ہے اُس کی نعمتوں میں اے ایک نعمت یہ بھی بیان کرتا ہے کہ لَا تَسمَعُ فِیْھَا لَاغِیَہ۔”وہاں تُو کوئی لغو بات نہ سُنے گا“۔

5. ”زکوٰۃدینے“ اور ”زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہونے“ میں معنی کے اعتبار سے بڑا فرق ہے جسے نظر انداز کر کے دونوں کو ہم معنی سمجھ لینا صحیح نہیں ہے ۔ آخر کوئی بات تو ہے جس کی وجہ سے یہاں مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے یُؤْتُوْنَ الزَّکوٰۃَ کا معروف انداز چھوڑ کر لِلزَّکٰوۃِ فَاعِلُوْنَ کا غیر معمولی طرزِ بیان اختیار کیا گیا ہے۔ عربی زبان میں زکوٰۃ کا مفہوم دو معنوں سے مرکب ہے۔ ایک ”پاکیزگی“۔ دوسرے”نشونما“۔ کسی چیز کی ترقی میں جو چیزیں مانع ہوں اُن کو دُور کرنا ، اور اس کے اصل جوہر کو پروان چڑھانا ، یہ دو تصوّرات مِل کر زکوٰۃ کا پورا تصوّر بناتے ہیں۔ پھر یہ لفظ جب اسلامی اصطلاح بنتا ہے تو اس کا اطلاق دو معنوں پر ہوتا ہے۔ ایک وہ مال جو مقصدِ تزکیہ کے لیے نکالا جائے۔ دوسرے بجائے خود تزکیہ کا فعل۔ اگر یُؤْ تُوْنَ الزَّکوٰ ۃَ کہیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ تزکیہ کی غرض سے اپنے مال کا ایک حصّہ دیتے یا ادا کرتے ہیں۔ اس طرح بات صرف مال دینے تک محدود ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر لِلزَّکٰوۃَ فَاعِلُوْنَ کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ تزکیہ کا فعل کرتے ہیں، اور اس صورت میں بات صرف مالی زکوٰۃ ادا کرنے تک محدود نہ رہے گی بلکہ تزکیۂ نفس ، تزکیۂ اخلاق، تزکیۂ زندگی، تزکیۂ مال، غرض ہر پہلو کے تزکیے تک وسیع ہو جائے گی۔ اور مزید براں ، اس کا مطلب صرف اپنی ہی زندگی کے تزکیے تک محدود نہ رہے گا بلکہ اپنے گردوپیش کی زندگی کے تزکیے تک بھی پھیل جائے گا۔ لہٰذا دوسرے الفاظ میں اس آیت کا ترجمہ یوں ہو گا کہ”وہ تزکیے کا کام کرنے والے لوگ ہیں،“یعنی اپنے آپ کو بھی پاک کرتے ہیں اور دوسروں کو پاک کرنے کی خدمت بھی انجام دیتے ہیں، اپنے اندر بھی جوہرِ انسانیت کو نشونما دیتے ہیں اور باہر کی زندگی میں بھی اس کی ترقی کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ یہ مضمون قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی بیان فرمایا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ اعلیٰ میں فرمایا قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰیo وَذَکَرَاسْمِ ربِّہٖ فَصَلّٰی o ” فلاح پائی اُس شخص نے جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے ربّ کا نام یاد کر کے نماز پڑھی“۔ اور سورۂ شمس میں فرمایا قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا o وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا o ”بامراد ہوا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا، اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبا دیا“۔ مگر یہ آیت ان دونوں کی بہ نسبت وسیع تر مفہوم کی حامل ہے، کیونکہ وہ صرف اپنے نفس کے تزکیے پر زور دیتی ہیں، اور یہ بجائے خود فعل تز کیہ کی اہمیت بیان کرتی ہے جو اپنی ذات اور معاشرے کی زندگی ، دونوں ہی کے تزکیے پر حاوی ہے۔

6. اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اپنے جسم کے قابلِ شرم حصوں کو چھپا کر رکھتے ہیں ، یعنی عریانی سے پرہیز کرتے ہیں اور اپنا ستر دوسروں کے سامنے نہیں کھولتے ۔ دوسرے یہ کہ وہ اپنی عصمت و عفت کو محفوظ رکھتے ہیں ، یعنی صنفی معاملات میں آزادی نہیں برتتے اور قوت شہوانی کے استعمال میں بے لگام نہیں ہوتے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، النور ، حواشی ۳۰ – ۳۲)۔

7. یہ جملۂ معترضہ ہے جو اُس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے ارشاد ہوا ہے جو ”شرمگاہوں کی حفاظت“ کے لفظ سے پیدا ہوتی ہے۔ دنیا میں پہلے بھی یہ سمجھا جاتا رہا ہے اور آج بھی بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ قوتِ شہوانی بجائے خود ایک بڑی چیز ہے اور اس کے تقاضے پورے کرنا، خوا ہ جائز طریقے ہی سے کیوں نہ ہو ، بہر حال نیک اور اللہ والے لوگوں کے لیے موزوں نہیں ہے۔ اس غلط فہمی کو تقویت پہنچ جاتی اگر صرف اتنا ہی کہہ کر بات ختم کر دی جاتی کہ فلاح پانے والے اہلِ ایمان اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھتے ہیں۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ لیا جا سکتا تھا کہ وہ لنگوٹ بندر ہتے ہیں، راہب اور سنیاسی قسم کے لوگ ہوتے ہیں، شادی بیاہ کے جھگڑوں میں نہیں پڑتے۔ اس لیے ایک جملۂ معترضہ بڑھا کر حقیقت واضح کر دی گئی کہ جائز مقام پر اپنی خواہشِ نفس پوری کرنا کوئی قابلِ ملامت چیز نہیں ہے، البتہ گناہ یہ ہے کہ آدمی شہوت رانی کے لیے اس معروف اور جائز صورت سے تجاوز کر جائے۔

اس جملۂ معترضہ سے چند احکام نکلتے ہیں جن کو ہم اختصار کے ساتھ یہاں بیان کرتے ہیں۔

(۱) شرمگاہوں کی حفاظت کے حکم عام سے دو قسم کی عورتوں کو مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ ایک ازواج ، دوسرے مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ۔”ازواج“ کا اطلاق عربی زبان کے معروف استعمال کی رو سے بھی اور خود قرآن کی تصریحات کے مطابق بھی صرف اُن عورتوں پر ہوتا ہے جن سے باقاعدہ نکاح کیا گیا ہو، اور یہی اس کے ہم معنی اردو لفظ ”بیوی“ کا مفہوم ہے۔ رہا لفظ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ، تو عربی زبان کے محاورے اور قرآن کے استعمالات دونوں اس پر شاہد ہیں کہ اس کا اطلاق لونڈی پر ہوتا ہے ، یعنی وہ عورت جو آدمی کی مِلک میں ہو۔ اِس طرح یہ آیت صاف تصریح کر دیتی ہے کہ منکوحہ بیوی کی طرح مملوکہ لونڈی سے بھی صنفی تعلق جائز ہے، اور اس کے جواز کی بنیاد نکاح نہیں بلکہ مِلک ہے۔ اگر اس کے لیے بھی نکاح شرط ہوتا تو اسےا زواج سے الگ بیان کرنے کی کوئی حاجت نہ تھی کیونکہ منکوحہ ہونے کی صورت میں وہ بھی ازواج میں داخل ہوتی۔ اج کل کے بعض مفسرین جنہیں لونڈی سے تمتع کا جواز تسلیم کرنے سے انکار ہے ، سورۂ نساء کی آیت وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤ مِنٰتِ (آیت ۲۵) سے استدلال کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ لونڈی سے تمتع بھی صرف نکاح ہی کر کے کیا جا سکتا ہے ، کیونکہ وہاں یہ حکم دیا گیا ہےکہ اگر تمہاری مالی حالت کسی آزاد خاندانی عورت سے شادی کرنے کی متحمل نہ ہو تو کسی لونڈی سے ہی نکاح کر لو۔ لیکن اِن لوگوں کی یہ عجیب خصوصیت ہے کہ ایک ہی آیت کے ایک ٹکڑے کو مفید مطلب پا کر لے لیتے ہیں، اور اسی آیت کا جو ٹکڑا ان کے مدّعا کے خلاف پڑتا ہو اسے جان بوجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس آیت میں لونڈیوں سے نکاح کرنے کی ہدایت جن الفاظ میں دی گئی ہے وہ یہ ہیں:- فَا نْکِحُوْ ھُنَّ بِاِزْنِ اَھْلِھِنَّ وَاٰتُوْ ھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ بِا لْمَعْرُوْفِ ، ”پس ان (لونڈیوں) سے نکاح کر لو اُن کے سرپرستوں کی اجازت سے اور اُن کو معروف طریقہ سے ان کے مہر ادا کرو“۔ یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ یہاں خود لونڈی کے مالک کا معاملہ زیرِ بحث نہیں ہے بلکہ کسی ایسے شخص کا معاملہ زیرِ بحث ہے جو آزاد عورت سے شادی کا خرچ نہ برداشت کر سکتا ہو اور اس بنا پر کسی دوسرے شخص کی مملوکہ لونڈی سے نکاح کرنا چاہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اگر معاملہ اپنی ہی لونڈی سے نکاح کرنے کا ہوتو اس کے وہ”اہل“ (سرپرست) کون ہو سکتے ہیں جن سے اس کو اجازت لینے کی ضرورت ہو؟ مگر قرآن سے کھیلنے والے صرف فَا نْکِحُوْ ھُنَّ کو لے لیتے ہیں اور اس کے بعد ہی بِاِ ذْنَ اَھْلِھِنَّ کے جو الفاظ موجود ہیں انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مزید برآں وہ ایک آیت کا ایسا مفہوم نکالتے ہیں جو اسی موضوع سے متعلق قرآن مجید کی دوسری آیات سے ٹکراتا ہے۔ کوئی شخص اگر اپنے خیالات کی نہیں بلکہ قرآن پاک کی پیروی کرنا چاہتا ہو تو وہ سورۂ نساء، آیت ۳ – ۲۵، سورۂ احزاب، آیت ۵۰ – ۵۲، اور سورۂ معارج، آیت ۳۰ کو سورہ ٔ مومنون کی اس آیت کے ساتھ ملا کر پڑھے۔ اسے خود معلوم ہو جائے گا کہ قرآن کا قانون اس مسئلے میں کیا ہے۔ (اس مسئلے کی مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اوّل، النساء، حاشیہ ۴۴۔ تفہیمات جلد دوم، صفحہ ۲۹۰ تا ۳۲۴۔ رسائل و مسائل، جلد اوّل، صفحہ ۳۲۴ تا ۳۳۳)۔

(۲) اِلَّا عَلیٰٓ اَزْوَاجِھِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَا نُھُمْ میں لفظ عَلیٰ اس بات کی صراحت کر دیتا ہے کہ اس جملۂ معترضہ میں جو قانون بیان کیا جا رہا ہے اس کا تعلق صرف مردوں سے ہے۔ باقی تمام آیات قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ سے لے کر خٰلِدُوْنَ تک ، مذکّر کی ضمیروں کے باوجود مردو عورت دونوں کو شامل ہیں، کیونکہ عربی زبان میں عورتوں اور مردوں کے مجموعے کا جب ذکر کیا جاتا ہے تو ضمیر مذکر ہی استعمال کی جاتی ہے۔ لیکن یہاں لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْن کے حکم سے مستثنٰی کرتے ہوئے عَلیٰ کا لفظ استعمال کر کے بات واضح کر دی گئی کہ یہ استثنا مردوں کے لیے ہے نہ کہ عورتوں کے لیے۔ اگر ”ان پر“ کہنے کے بجائے”اُن سے“ محفوظ نہ رکھنے میں وہ قابلِ ملامت نہیں ہیں کہا جاتا تو البتہ یہ حکم بھی مردوعورت دونوں پر حاوی ہو سکتا تھا۔ یہی وہ باریک نکتہ ہے جسے نہ سمجھنے کی وجہ سے ایک عورت حضرت عمر ؓ کے زمانے میں اپنے غلام سے تمتع کر بیٹھی تھی۔ صحابۂ کرام کی مجلس شوریٰ میں جب اس کا معاملہ پیش کیا گیا تو سب نے بالاتفاق کہا کہ تاولت کتاب اللہ تعالیٰ غیر تاویلہٖ ” اس نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کا غلط مفہوم لے لیا“۔ یہاں کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ اگر یہ استثناء مردوں کے لیے خاص ہے تو پھر بیویوں کے لیے ان کے شوہر کیسے حلال ہوئے؟ یہ شبہ اس لیے غلط ہے کہ جب بیویوں کے معاملے میں شوہروں کو حفظِ فروج کے حکم سے مستثنیٰ کیا گیا تو اپنے شوہروں کے معاملے میں بیویاں آپ سے آپ اِس حکم سے مستثنیٰ ہوگئیں۔ ان کے لیے پھر الگ کسی تصریح کی حاجت نہ رہی۔ اس طرح اس حکمِ استثنا ء کا اثر عملًا صرف مرد اور اس کی مملوکہ عورت تک محدود ہو جاتا ہے، اور عورت پر اس کا غلام حرام قرار پاتا ہے۔ عورت کے لیے اِس چیز کو حرام کرنے کی حکمت یہ ہے کہ غلام اس کی خواہش ِ نفس پوری کرسکتا ہے مگر اس کا اور گھر کا قوّام نہیں بن سکتا جس کی وجہ سے خاندانی زندگی کی چول ڈھیلی رہ جاتی ہے۔

(۳) ”البتہ جو اُس کےعلاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں“، اِس فقرے نے مذکورۂ بالا دوجائز صورتوں کے سوا خواہشِ نفس پوری کرنے کی تمام دوسری صورتوں کو حرام کر دیا ، خواہ وہ زنا ہو، یا عملِ قومِ لوط یا وطیٔ بہائم یا کچھ اور۔ صرف ایک استمنا بالید(Masturbation ) کے معاملے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ امام احمد بن حنبل اس کو جائز قرار دیتے ہیں۔ امام مالک اور امام شافعی اس کو قطعی حرام ٹھیراتے ہیں۔ اور حنفیہ کے نزدیک اگرچہ یہ حرام ہے ، لیکن وہ کہتے ہیں کہ اگر شدید غلبۂ جذبات کی حالت میں آدمی سے احیانًا اس فعل کا صدور ہو جائے تو اُمید ہے کہ معاف کر دیا جائے گا۔

(۴) بعض مفسرین نے مُتعہ کی حرمت بھی اس آیت سے ثابت کی ہے۔ ان کا استدلال یہ ہےکہ ممتوعہ عورت نہ تو بیوی کے حکم میں داخل ہے اور نہ لونڈی کے حکم میں۔ لونڈی تو وہ ظاہر ہے کہ نہیں ہے۔ اور بیوی اس لیے نہیں ہے کہ زوجیت کے لیے جتنے قانونی احکام ہیں ان میں سے کسی کا بھی اس پر اطلاق نہیں ہوتا۔ نہ وہ مرد کی وارث ہوتی ہے نہ مرد اس کا وارث ہوتا ہے۔ نہ اس کے لیے عدّت ہے۔ نہ طلاق۔ نہ نفقہ۔ نہ ایلاء اور ظہار اور لعان وغیرہ۔ بلکہ چار بیویوں کی مقررہ حد سے بھی وہ مستثنٰی ہے۔ پس جب وہ ”بیوی“ اور ”لونڈی“ دونوں کی تعریف میں نہیں آتی تو لا محالہ وہ”ان کے علاوہ کچھ اور“ میں شمار ہو گی جس کے طالب کو قرآن”حد سے گزرنے والا“ قرار دیتا ہے۔ یہ استدلال بہت قوی ہے ،مگر اس میں کمزوری کا ایک پہلو ایسا ہے جس کی بنا پر یہ کہنا مشکل ہے کہ متعہ کی حرمت کے بارے میں یہ آیت ناطق ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کی حرمت کا آخری اور قطعی حکم فتح مکّہ کے سال دیا ہے ، اور اس سے پہلے اجازت کے ثبوت صحیح احادیث میں پائے جاتے ہیں۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ حرمتِ متعہ کا حکم قرآن کی اس آیت ہی میں آچکا تھا جو بالاتفاق مکّی ہے اور ہجرت سے کئی سال پہلے نازل ہوئی تھی، تو کیسے تصوّر کیا جا سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے فتح مکّہ تک جائز رکھتے۔ لہٰذا یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ متعہ کی حرمت قرآن مجید کے کسی صریح حکم پر نہیں بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر مبنی ہے۔ سنت میں اس کی صراحت نہ ہوتی تو محض اس آیت کی بنا پر تحریم کا فیصلہ کردینا مشکل تھا۔ متعہ کا جب ذکر آگیا ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دو باتوں کی اور توضیح کر دی جائے۔ اوّل یہ کہ اس کی حرمت خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ اسے حضرت عمر ؓ نے حرام کیا، درست نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ اس حکم کے موجد نہیں تھے بلکہ صرف اسے شائع اور نافذ کرنے والے تھے۔ چونکہ یہ حکم حضورؐ نے آخر زمانے میں دیا تھا اور عام لوگوں تک نہ پہنچا تھا ، اس لیے حضرت عمر ؓ نے اس کی عام اشاعت کی اور بذریعہ ٔ قانون اس کو نافذ کیا۔ دوم یہ کہ شیعہ حضرات نے متعہ کو مطلقًا مباح ٹھیرانے کا جو مسلک اختیار کیا ہے ا س کے لیے تو بہر حال نصوص کتاب و سنت میں سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ صدر اول میں صحابہ اور تابعین اور فقہاء میں سے چند بزرگ جو اس کے جواز کے قائل تھے وہ اسے صر ف اضطرار اور شدید ضرورت کی حالت میں جائز رکھتے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی اسے نکاح کی طرح مباح ِ مطلق اور عام حالات میں معمول بہ بنا لینے کا قائل نہ تھا۔ ابن عباس ؓ ، جن کا نام قائلینِ جواز میں سب سے زیادہ نمایاں کر کے پیش کیا جاتا ہے، اپنے مسلک کی توضیح خود اِن الفاظ میں کرتے ہیں کہ ما ھی الا کالمیتۃ لا تحل الا للمضطر (یہ تو مردار کی طرح ہے کہ مضطر کے سوا کسی کے لیے حلا ل نہیں) اور اس فتوے سے بھی وہ اُس وقت باز آگئے تھے جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ اباحت کی گنجائش سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر آزادانہ متعہ کرنے لگےہیں اور ضرورت تک اسے موقوف نہیں رکھتے۔ اس سوال کو اگر نظر انداز بھی کر دیا جائے کہ ابن عباسؓ اور ان کے ہم خیال چند گنے چُنے اصحاب نے ا س مسلک سے رجُوع کر لیا تھا یا نہیں ، تو اُن کے مسلک کو اختیار کرنے والا زیادہ سے زیادہ جواز بحالتِ اضطرار کی حد تک جا سکتا ہے۔ مطلق اباحت ، اور بلا ضرورت تمتع، حتیٰ کہ منکوحہ بیویوں تک کی موجودگی میں بھی ممتوعات سے استفادہ کرنا تو ایک ایسی آزادی ہے جسے ذوقِ سلیم بھی گوارا نہیں کرتا کجا کہ اسے شریعت محمدیہ کی طرف منسوب کیا جائے اور ائمۂ اہلِ بیت کو اس سے متّہِم کیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ خود شیعہ حضرات میں سے بھی کوئی شریف آدمی یہ گوارا نہیں کرسکتا کہ کوئی شخص اس کی بیٹی یا بہن کے لیے نکاح کے بجائے متعہ کا پیغام دے۔ ا س کے معنی یہ ہوئے کہ جواز متعہ کے لیے معاشرے میں زنانِ بازاری کی طرح عورتوں کا ایک ایسا ادنیٰ طبقہ موجود رہنا چاہیے جس سے تمتع کرنے کا دروازہ کھلا رہے۔ یا پھر یہ کہ متعہ صرف غریب لوگوں کی بیٹیوں اور بہنوں کے لیے ہو اور اس سے فائدہ اُٹھانا خوشحال طبقے کے مردوں کا حق ہو۔ کیا خدا اور رسول کی شریعت سے اس طرح غیر منصفانہ قوانین کی توقع کی جا سکتی ہے؟ اور کیا خدا اور اس کے رسول سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ کسی ایسے فعل کو مباح کر دیں گے جسے ہر شریف عورت اپنے لیے بے عزّتی بھی سمجھے اور بے حیائی بھی؟

8. ”امانات“ کا لفظ جامع ہے اُن تما امانتوں کے لیے جو خدا وندِ عالم نے ، یا معاشرے نے ، یا افراد نے کسی شخص کے سپرد کی ہوں۔ اور عہد و پیمان میں وہ سارے معاہدے داخل ہیں جو انسان اور خدا کے درمیان ، یا انسان اور انسان کے درمیان ، یا قوم اور قوم کے درمیان استوار کیے گئے ہوں۔ مومن کی صفت یہ ہے کہ وہ کبھی امانت میں خیانت نہ کرے گا، اور کبھی اپنے قول و قرار سے نہ پھرے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنے خطبوں میں فرمایا کرتے تھے لا ایمان لمن لا امانۃ لہٗ ولا دین لمن لا عھد لہ، ”جو امانت کی صفت نہیں رکھتا وہ ایمان نہیں رکھتا، اور جو عہد کا پاس نہیں رکھتا وہ دین نہیں رکھتا“۔ (بیہقی فی شعب الایمان )۔ بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا ” چار خصلتیں ہیں کہ جس میں وہ چاروں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے اور جس میں کوئی ایک پائی جائے اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہے جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے۔ جب کوئی امانت اس کے سپر د کی جائے تو خیانت کرے۔ جب بولے تو جھوٹ بولے۔ جب عہد کرے تو توڑ دے۔ اور جب کسی سے جھگڑے تو (اخلاق و دیانت کی ) ساری حدیں پھاند جائے“۔

9. اوپر خشوع کے ذکر میں”نماز“ فرمایا تھا اور یہاں”نمازوں“ بصیغۂ جمع ارشاد فرمایا ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ وہاں جنسِ نماز مراد تھی اور یہاں ایک ایک وقت کی نماز فردًا فردًا مراد ہے۔ ”نمازوں کی محافظت“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اوقاتِ نماز ، آدابِ نماز، ارکان و اجزائے نماز، غرض نماز سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کی پوری نگہداشت کرتے ہیں۔ جسم اور کپڑے پاک رکھتے ہیں۔ وضو ٹھیک طرح سے کرتے ہیں اور اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ کبھی بے وضو نہ پڑھ بیٹھیں۔ صحیح وقت پر نماز ادا کرنے کی فکر کرتے ہیں ، وقت ٹال کر نہیں پڑھتے۔ نماز کے تمام ارکان پوری طرح سکون و اطمینان کے ساتھ ادا کرتے ہیں، ایک بوجھ کی طرح جلدی سے اتار کر بھاگ نہیں جاتے۔ اور جو کچھ نماز میں پڑھتے ہیں وہ اس طرح پڑھتے ہیں کہ جیسے بندہ اپنے خدا سے کچھ عرض کر رہا ہے، نہ اِس طرح کہ گویا ایک رٹی ہوئی عبارت کو کسی نہ کسی طور پر ہوا میں پھونک دینا ہے۔

10. فردوس، جنت کے لیے معروف ترین لفظ ہے جو قریب قریب تمام انسانی زبانوں میں مشترک طور پر پایا جاتا ہے۔ سنسکرت میں پَردِیشَا، قدیم کلدانی زبان میں پَر دیسا، قدیم ایرانی (ژند) میں پیری وائزا، عبرانی میں پَردیس، ارمنی میں پَردیز، سُریانی میں فَردیسو، یونانی میں پارادائسوس، لاطینی میں پاراڈائسس، اور عربی میں فردوس ۔ یہ لفظ ان سب زبانوں میں ایک ایسے باغ کے لیے بولا جاتا ہے جس کے گرد حصار کھنچا ہوا ہو، وسیع ہو، آدمی کی قیام گاہ سے متصل ہو، اور اس میں ہر قسم کے پھل، خصوصًا انگور پائے جاتے ہوں۔ بلکہ بعض زبانوں میں تو منتخب پالتو پرندوں اور جانوروں کا بھی پایا جانا اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ قرآن سے پہلے عرب کے کلام جاہلیت میں بھی لفظ فردوس مستعمل تھا۔ اور قرآن میں اس کا اطلاق متعدد باغوں کے مجموعے پر کیا گیا ہے، جیسا کہ سورۂ کہف میں ارشاد ہوا کَانَتْ لَھُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا، ”ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہیں“۔ اس سے جو تصور ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ فردوس ایک بڑی جگہ ہے جس میں بکثرت باغ اور چمن اور گلشن پائے جاتے ہیں۔

اہلِ ایمان کے وارث ِ فردوس ہونے پر سُورۂ طٰہٰ (حاشیہ نمبر ۸۳)، اور سُورۂ انبیاء (حاشیہ نمبر ۹۹ )میں کافی روشنی ڈالی جا چکی ہے۔

11. اِن آیات میں چار اہم مضمون ادا ہوئے ہیں:

اوّل یہ کہ جو لوگ بھی قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان کر یہ اوصاف اپنے اندر پیدا کر لیں گے اور اس رویّے کے پابند ہو جائیں گے وہ دنیا اور آخرت میں فلاح پائیں گے، قطع نظر اس سے کہ کسی قوم، نسل یا ملک کے ہوں۔

دوم یہ کہ فلاح محض اقرارِ ایمان ، یا محض اخلاق اور عمل کی خوبیوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ دونوں کے اجتماع کا نتیجہ ہے۔ جب آدمی خدا کی بھیجی ہوئی ہدایت کو مانے، پھراس کے مطابق اخلاق اور عمل کی خوبیاں اپنے اندر پیدا کرلے، تب وہ فلاح سے ہمکنار ہو گا۔

سوم یہ کہ فلاح دنیوی اور مادّی خوشحالی اور محدود وقتی کامیابیوں کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ ایک وسیع تر حالتِ خیر کا نام ہے جس کا اطلاق دنیا اور آخرت میں پائیدار و مستقل کامیابی و آسودگی پر ہوتا ہے۔ یہ چیز ایمان و عمل صالح کے بغیر نصیب نہیں ہوتی۔ اور اس کُلیے کو نہ تو گمراہوں کی وقتی خوشحالیاں اور کامیابیاں توڑتی ہیں، نہ مومنین صالحین کے عارضی مصائب کو اس کی نقیض ٹھیرایا جا سکتا ہے۔

چہارم یہ کہ مومنین کے اِن اوصاف کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی صداقت کے لیے دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اور یہی مضمون آگے کی تقریر سے ان آیات کا ربط قائم کرتا ہے۔ تیسرے رکوع کے خاتمے تک کی پوری تقریر کا سلسلۂ استدلال اس طرح پر ہے کہ آغازِ میں تجربی دلیل ہے ، یعنی یہ کہ اس کی تعلیم نے خود تمہاری ہی سوسائیٹی کے افراد میں یہ سیرت و کردار اور یہ اخلاق و اوصاف پیدا کر کے دکھائے ہیں، اب تم خود سوچ لو کہ یہ تعلیم حق نہ ہوتی تو ایسے صالح نتائج کس طرح پیدا کر سکتی تھی۔ اس کے بعد مشاہداتی دلیل ہے ، یعنی یہ کہ انسان کے اپنے وجود میں اور گردوپیش کی کائنات میں جو آیات نظر آتی ہیں وہ سب توحید اور آخرت کی اس تعلیم کے برحق ہونے کی شہادت دے رہی ہیں جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرتے ہیں ۔ پھر تاریخی دلائل آتے ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ نبی اور اس کے منکرین کی کشمکش آج نئی نہیں ہے بلکہ انہی بنیادوں پر قدیم ترین زمانے سے چلی آرہی ہے اور اس کشمکش کا ہر زمانے میں ایک ہی نتیجہ برآمد ہوتا رہا ہے جس سے صاف طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ فریقین میں سے حق پر کون تھا اور باطل پر کون۔

12. تشریح کے لیے ملاحظہ ہوں سورۂ حج کے حواشی نمبر ۵، نمبر۶ اور نمبر ۹۔

13. یعنی کوئی خالی الذہن آدمی بچے کو ماں کے رحم میں پرورش پاتے دیکھ کر یہ تصور نہیں کر سکتا کہ یہاں وہ انسان تیار ہو رہا ہے جو باہر جا کر عقل اور دانائی اور صنعت کے یہ کچھ کمالات دکھائے گا اور ایسی ایسی حیرت انگیز قوتیں اور صلاحیتیں اس سے ظاہر ہوں گی۔ وہاں وہ ہڈیوں اور گوشت پوست کا ایک پلندا سا ہوتا ہے جس میں وضعِ حمل کے آغاز تک زندگی کی ابتدائی خصوصیات کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ نہ سماعت ، نہ بصارت، نہ گویائی ، نہ عقل و خرد، نہ اورکوئی خوبی۔ مگر باہر آکر وہ چیز ہی کچھ اور بن جاتا ہے جس کو پیٹ والے جنین سے کوئی مناسبت نہیں ہوتی۔ اب وہ ایک سمیع اور بصیر اور ناطق وجود ہوتا ہے ۔ اب وہ تجربے اور مشاہدے سے علم حاصل کرتا ہے۔ اب اس کے اندر ایک ایسی خودی اُبھرنی شروع ہو تی ہے جو بیداری کے پہلے ہی لمحہ سے اپنی دسترس کی ہر چیز پر تحکم جتاتی اور اپنا زور منوانے کی کوشش کرتی ہے۔ پھر وہ جوں جوں بڑھتا جاتا ہے اُس کی ذات میں یہ ”چیز ے دیگر“ ہونے کی کیفیت نمایاں تر اور افزوں تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ جوان ہوتا ہے تو بچپن کی بہ نسبت کچھ اَور ہوتا ہے۔ ادھیڑ ہوتا ہے تو جوانی کے مقابلے میں کوئی اَور چیز ثابت ہوتا ہے۔ بڑھاپے کو پہنچتا ہے تو نئی نسلوں کے لیے یہ اندازہ کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے کہ اس کا بچپن کیا تھا اور جوانی کیسی تھی۔ اتنا بڑا تغیر کم از کم اس دنیا کی کسی دوسری مخلوق میں واقع نہیں ہوتا ۔ کوئی شخص ایک طرف کسی پختہ عمر کے انسان کی طاقتیں اور قابلیتیں اور کام دیکھے ، اور دوسری طرف یہ تصور کرے کہ پچاس ساٹھ برس پہلے ایک روز جو بوند ٹپک کر ر حم مادر میں گری تھی اس کے اندر یہ کچھ بھرا ہوا تھا، تو بے اختیار اس کی زبان سے وہی بات نکلے گی جو آگے کے فقرے میں آرہی ہے۔

14. اصل میں فَتَبَارَکَ اللہُ کے الفاظ ارشاد ہوئے ہیں جن کی پوری معنویت ترجمے میں ادا کرنا محال ہے۔ لغت اور استعمالاتِ زبان کے لحاظ سے اس میں دو مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ وہ نہایت مقدس اور منزّہ ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ اس قدر خیر اور بھلائی اور خوبی کا مالک ہے کہ جتنا تم اُس کا اندازہ کرو اُس سے زیادہ ہی اُس کو پاؤ حتّٰی کہ اس کی خیرات کا سلسلہ کہیں جا کر ختم نہ ہو۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلدسوم، الفرقان، حواشی نمبر ۱ اور ۱۹)۔ ان دونوں معنوں پر غور کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ تخلیقِ انسانی کے مراتب بیان کرنے کے بعد فَتَبَارَکَ اللہُ کا فقرہ محض ایک تعریفی فقرہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ دلیل کے بعد نتیجۂ دلیل بھی ہے۔ اس میں گویا یہ کہا جا رہا ہے کہ جو خدا مٹی کے ست کو ترقی دے کر ایک پورے انسان کے مرتبے تک پہنچا دیتا ہے وہ اس سے بدرجہا زیادہ منزّہ ہے کہ خدائی میں کوئِی اس کا شریک ہو سکے، اور اس سے بدرجہا مقدس ہے کہ اُسی انسان کو پھر پیدا نہ کر سکے، اور اس کی خیرات کا یہ بڑا ہی گھٹیا اندازہ ہے کہ بس ایک دفعہ انسان بنا دینے ہی پر اس کے کمالات ختم ہو جائیں ، اس سے آگے وہ کچھ نہ بنا سکے۔

15. اصل میں لفظ طرائق استعمال ہوا ہے جس کے معنی راستوں کے بھی ہیں اور طبقوں کے بھی۔ اگر پہلے معنی لیے جائیں تو غالبًا اس سے مراد سات سیّاروں کی گردش کے راستے ہیں ، اور چونکہ اس زمانے کا انسان سبع سیارہ ہی سے واقف تھا، اس لیے سات ہی راستوں کا ذکر کیا گیا۔ اِس کے معنی بہر حال یہ نہیں ہیں کہ ان کے علاوہ اور دوسرے راستے نہیں ہیں۔ اور اگر دوسرے معنی لیے جائیں تو سَبْعَ طَرَآئِقَ کا وہی مفہوم ہوگا جو سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا (سات آسمان طبق بر طبق) کا مفہوم ہے۔ اور یہ جو فرمایا کہ”تمہارے اوپر“ ہم نے سات راستے بنائے ، تو اس کا ایک تو سیدھا سادھا مطلب وہی ہے جو ظاہر الفاظ سے ذہن میں آتا ہے ، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم سے بھی زیادہ بڑی چیز ہم نے یہ آسمان بنائے ہیں، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا کہ لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ۔ ”آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کو پیدا کرنے سے زیادہ بڑا کام ہے“۔ (المومن۔ آیت ۵۷)۔

16. دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے : ”اور مخلوقات کی طرف سے ہم غافل نہ تھے، یا نہیں ہیں۔“ متن میں جو مفہوم لیا گیا ہے اس کےلحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب کچھ جو ہم نے بنایا ہے ، یہ بس یونہی کسی اناڑی کے ہاتھوں الل ٹپ نہیں بن گیا ہے، بلکہ اسے ایک سوچے سمجھے منصوبے پر پورے علم کے ساتھ بنایا گیا ہے، اہم قوانین اس میں کار فرما ہیں، ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ تک سارے نظامِ کائنات میں ایک مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے ، اور اس کار گاہِ عظیم میں ہر طرف ایک مقصدیّت نظر آتی ہے جو بنانے والے کی حکمت پر دلالت کررہی ہے۔ دوسرا مفہوم لینے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اس کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہم نے پیدا کی ہے اس کی کسی حاجت سے ہم کبھی غافل، اور کسی حالت سے کبھی بے خبر نہیں رہے ہیں۔ کسی چیز کو ہم نے اپنے منصوبے کے خلاف بننے اور چلنے نہیں دیا ہے ۔ کسی چیز کی فطری ضروریات فراہم کرنے میں ہم نے کوتاہی نہیں کی ہے۔ اور ایک ایک ذرے اور پتّے کی حالت سے ہم باخبر رہے ہیں۔

17. اس سے مراد اگرچہ موسمی بارش بھی ہو سکتی ہے، لیکن آیت کے الفاظ پر غور کرنے سے ایک دوسرا مطلب بھی سمجھ میں آتا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ آغازِ آفرینش میں اللہ تعالیٰ نے بیک وقت اتنی مقدار میں زمین پر پانی نازل فرما دیا تھا جو قیامت تک اِس کُرے کی ضروریات کے لیے اُس کے علم میں کافی تھا۔ وہ پانی زمین ہی کے نشیبی حصّوں میں ٹھیر گیا جس سے سمندر اور بُحَیرے وجود میں آئے اور آبِ زیرِ زمین(Sub-soil Water ) پیدا ہوا۔ اب یہ اسی پانی کا اُلٹ پھیر ہے جو گرمی، سردی اور ہواؤں کے ذریعے سے ہوتا رہتا ہے، اسی کو بارشیں ، برف پوش پہاڑ، دریا، چشمے اور کنوئیں زمین کے مختلف حصّوں میں پھیلاتے رہتے ہیں، اور وہی بے شمار چیزوں کی پیدائش اور ترکیب میں شامل ہوتا اور پھر ہوا میں تحلیل ہو کر اصل ذخیرے کی طرف واپس جاتا رہتا ہے۔ شروع سے آج تک پانی کے اس ذخیرے میں نہ ایک قطرے کی کمی ہوئی اور نہ ایک قطرے کا اضافہ ہی کرنے کی کوئی ضرورت پیش آئی۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پانی ، جس کی حقیقت آج ہر مدرسے کے طالب علم کو معلوم ہے کہ وہ ہائیڈروجن اور آکسیجن ، دو گیسوں کے امتزاج سے بنا ہے، ایک دفعہ تو اتنا بن گیا کہ اس سے سمندر بھر گئے، اور اب اس کے ذخیرے میں ایک قطرے کا بھی اضافہ نہیں ہوتا۔ کون تھا جس نے ایک وقت میں اتنی ہائیڈروجن اور اکسیجن ملا کر اس قدر پانی بنا دیا؟ اور کون ہے جو اب انہی دونوں گیسوں کو اُس خاص تناسب کے ساتھ نہیں ملنے دیتا جس سے پانی بنتا ہے، حالانکہ دونوں گیسیں اب بھی دنیا میں موجود ہیں؟ اور جب پانی بھاپ بن کر ہوا میں اُڑ جاتا ہے تو اس وقت کون ہے جو آکسیجن اور ہائیڈروجن کو الگ الگ ہوجانے سے روکے رکھتا ہے؟ کیا دہریوں کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟ اور کیا پانی اور ہوا گرمی اور سردی کے الگ الگ خدا ماننے والے اس کا کوئی جواب رکھتے ہیں؟

18. یعنی اسے غائب کر دینے کی کوئی ایک ہی صورت نہیں ہے، بے شمار صورتیں ممکن ہیں ، اور ان میں سے جس کو ہم جب چاہیں اختیار کر کے تمہیں زندگی کے اس اہم ترین وسیلے سے محروم کر سکتے ہیں۔ اس طرح یہ آیت سورۂ مُلک کی اُس آیت سے وسیع تر مفہوم رکھتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ قُلْ اَرَاَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآءُکُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْ تِیْکُمْ بَمَآءٍمَّعِیْنٍ۔ ”ان سے کہو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر تمہارا یہ پانی زمین میں بیٹھ جائے تو کون ہے جو تمہیں بہتے چشمے لادے گا؟“

19. یعنی کھجوروں اور انگوروں کے علاوہ بھی طرح طرح کے میوے اور پھل۔

20. “یعنی اِن باغوں کی پیداوار سے ،جو پھل ، غلّے ، لکڑی اور دوسری مختلف صورتوں میں حاصل ہوتی ہے، تم اپنی معاش پیدا کرتے ہو۔ مِنْھَا تَاْکُلُوْنَ میں منھا کی ضمیر جنّات کی ضمیر کی طرف پھرتی ہے نہ کہ پھلوں کی طرف۔ اور تاکلون کے معنی صرف یہی نہیں ہیں کہ ان باغوں کے پھل تم کھاتے ہو، بلکہ یہ بحیثیتِ مجمُوعی روزی حاصل کرنے کے مفہوم پر حاوی ہے۔ جس طرح ہم اُردو زبان میں کہتے ہیں کہ فلاں شخص اپنے فلاں کام کی روٹی کھاتا ہے ، اُسی طرح عربی زبان میں بھی کہتے ہیں فلان یاکل من حرفتہٖ۔

21. مراد ہے زیتون ، جو بحرِ روم کے گردو پیش کے علاقے کی پیداوار میں سب سے زیادہ اہم چیز ہے۔ اس کا درخت ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو ہزار برس تک چلتا ہے، حتٰی کہ فلسطین کے بعض درختوں کا قدوقامت اور پھیلاؤ دیکھ کر اندازہ کیا گیا کہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانے سے اب تک چلے آرہے ہیں ۔ طورِ سیناء کی طرف اس کو منسُوب کر نے کی وجہ غالبًا یہ ہے کہ وہی علاقہ جس کا مشہور ترین اور نمایاں ترین مقام طورِ سینا ہے، اس درخت کا وطنِ اصلی ہے۔

22. یعنی دودھ جس کے متعلق قرآن میں دوسری جگہ فرمایا گیا ہے کہ خون اور گوبر کے درمیان یہ ایک تیسری چیز ہے جو جانور کی غذا سے پیدا کر دی جاتی ہے۔ (النحل ، آیت ۶۶)۔

23. مویشیوں اور کشتیوں کا ایک ساتھ ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اہلِ عرب سواری اور بار برداری کے لیے زیادہ تر اُونٹ استعمال کرتے تھے، اور اونٹوں کے لیے”خشکی کے جہاز“ کا استعارہ بہت پرانا ہے۔ جاہلیت کا شاعر ذوالرُّ مَّہ کہتا ہے:

؏ سفینۃ برٍّ تحت خدی زما مھا