Tafheem ul Quran

Surah 58 Al-Mujadila, Ayat 1-6

قَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّتِىۡ تُجَادِلُكَ فِىۡ زَوۡجِهَا وَ تَشۡتَكِىۡۤ اِلَى اللّٰهِ ​ۖ وَاللّٰهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَكُمَا​ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ ۢ بَصِيۡرٌ‏ ﴿58:1﴾ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ​ؕ اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـىِٔۡ وَلَدۡنَهُمۡ​ؕ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًا​ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ‏ ﴿58:2﴾ وَالَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِهِمۡ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا​ ؕ ذٰ لِكُمۡ تُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ​ ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ‏ ﴿58:3﴾ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّاؕ فَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا​ؕ ذٰلِكَ لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ​ؕ وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ​ؕ وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ‏ ﴿58:4﴾ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحَآدُّوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ كُبِتُوۡا كَمَا كُبِتَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ​ وَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ​ ؕ وَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ​ ۚ‏ ﴿58:5﴾ يَوۡمَ يَبۡعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيۡعًا فَيُنَبِّئُهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا​ ؕ اَحۡصٰٮهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ​ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدٌ​‏ ﴿58:6﴾

1 - اللہ نے سُن لی 1 اُس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملہ میں تم سے تکرار کر رہی ہے اور اللہ سے فریاد کیے جاتی ہے۔ اللہ تم دونوں کی گفتگو سُن رہا ہے، 2 وہ سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ہے۔ 2 - تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں 3 ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں،ا ن کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ 4 یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جُھوٹی بات کہتے ہیں، 5 اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔ 6 3 - 7 جو لوگ اپنی بیویوں سے ظِہار کریں پھر اپنی اُس بات سے رجُوع کریں جو انہوں نے کہی تھی، 8 تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ اِس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے، 9 اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ 10 4 - اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے پے درپے روزے رکھے قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ ساٹھ (۶۰) مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ 11 یہ حکم اِس لیے دیا جارہا ہے کہ تم اللہ اور اُس کے رسُول پر ایمان لاؤ۔12 یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں، اور کافروں کے لیے دردناک سزا ہے۔13 5 - جو لوگ اللہ اور اُس کے رسُول کی مخالفت کرتے ہیں 14 وہ اسی طرح ذلیل و خوار کر دیے جائے گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ذلیل و خوار کیے جا چکے ہیں۔ 15 ہم نے صاف صاف آیات نازل کر دی ہیں، اور کافروں کے لیے ذلّت کا عذاب ہے۔ 16 6 - اُس دن (یہ ذلّت کا عذاب ہونا ہے) جب اللہ ان سب کو پھر سے زندہ کرکے اُٹھائے گا اور انہیں بتادےگا کہ وہ کیا کچھ کرکے آئیں ہیں۔ وہ بُھول گئے ہیں مگر اللہ نے ان کا سب کیا دھرا گِن گِن کر محفوظ کر رکھا ہے 17 اور اللہ ایک ایک چیز پر شاہد ہے۔ ؏۱


Notes

1. یہاں سننے سے محض سن لینا نہیں ہے بلکہ فریاد رسی کرنا ہے، جیسے ہم اُردو زبان میں کہتے ہیں اللہ نے دُعا سن لی اور اس سے مراد دعا قبول کر لینا ہوتا ہے۔

2. عام طور پر مترجمین نے ا س مقام پر مجادلہ کر رہی تھی، فریاد کر رہی تھی، اور اللہ سن رہا تھا ترجمہ کیا ہے جس سے پڑھنے والے کا ذہن یہ مفہوم اخذ کرتا ہے کہ وہ خاتون اپنی شکایت سنا کر چلی گئی ہوں گی اور بعد میں کسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر وحی آئی ہو گی، اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس عورت کی بات ہم نے سن لی جو تم سے تکرار اور ہم سے فریاد کر رہی تھی، اور ہم اس وقت تم دونوں کی بات سن رہے تھے۔ لیکن اس واقعہ کے متعلق جو روایات احادیث میں آئی ہیں ان میں سے اکثر میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس وقت وہ خاتون اپنے شوہر کے ظِہار کا قصہ سنا سنا کر بار بار حضورﷺ سے عرض کر رہی تھیں کہ اگر ہم دونوں کی جدائی ہو گئی تو میں مصیبت میں پڑ جاؤں گی اور میرے بچے تباہ ہو جائیں گے، عین اسی حالت میں رسول اللہ ﷺ پر نزول وحی کی کیفیت طاری ہوئی اور یہ آیات نازل ہوئیں۔ اس بنا پر ہم نے اس کو ترجیح دی ہے کہ ترجمہ حال کے صیغوں میں کیا جائے۔

یہ خاتون جن کے معاملہ میں آیات نازل ہوئی ہیں قبیلہ خَزرَج کی خَولہ بنت ثعلبہ تھیں، اور ان کے شوہر اَوْس بن صامِت انصاری، قبیلہ اَوس کے سردار حضرت عبادہ بن صامِت کے بھائی تھے۔ ان کے ظہار کا قصہ آگے چل کر ہم تفصیل کے ساتھ نقل کریں گے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان صحابیہ کی فریاد کا بار گاہِ الٰہی میں مسموع ہونا اور فوراً ہی وہاں سے ان کی فریاد رسی کے لیے فرمان مبارک نازل ہو جانا ایک ایسا واقعہ تھا جس کی وجہ سے صحابہ کرام میں ان کو ایک خاص قدر و منزلت حاصل ہو گئی تھی۔ ابن ابی حاتم و بیہقی نے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ کچھ اصحاب کے ساتھ کہیں جا رہے تھے۔ راستہ میں ایک عورت ملی اور اس نے ان کو روکا۔ آپ فوراً رک گئے۔ سر جھکا کر دیر تک اس کی بات سنتے رہے اور جب تک اس نے بات ختم نہ کر لی آپ کھڑے رہے۔ ساتھیوں میں سے ایک صاحب نے عرض کیا امیر المومنین، آپ نے قریش کے سرداروں کو اس بڑھیا کے لیے اتنی دیر روکے رکھا۔ فرمایا جانتے بھی ہو یہ کون ہے؟ یہ خولہ بنت ثعلبہ ہے۔ یہ وہ عورت ہے جس کی شکایت سات آسمانوں پر سنی گئی۔ خدا کی قسم، اگر یہ رات تک مجھے کھڑا رکھتی تو میں کھڑا رہتا، بس نمازوں کے اوقات پر اس سے معذرت کر دیتا۔ ابن عبدالبر نے اِستعیاب میں قتادہ کی روایت نقل کی ہے کہ یہ خاتون راستہ میں حضرت عمرؓ کو ملیں تو آپ نے اِن کو سلام کیا۔ یہ سلام کا جواب دینے کے بعدکہنے لگیں ’’اوہو، اے عمرؓ ایک وقت تھا جب میں نے تم کو بازار عکاظ میں دیکھا تھا۔ اس وقت تم عُمیر کہلاتے تھے۔ لاٹھی ہاتھ میں لیے بکریاں چراتے پھرتے تھے۔پھر کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ تم عمرؓ کہلانے لگے۔ پھر ایک وقت آیا تم امیر المومنین کہے جانے لگے۔ ذرا رعیت کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہو اور یاد رکھو کہ جو اللہ کی وعید سے ڈرتا ہے اس کے لیے دور کا آدمی بھی قریبی رشتہ دارہی کی طرح ہوتا ہے، اور جو موت سے ڈرتا ہے اس کے حق میں اندیشہ ہے کہ وہ اسی چیز کو کھودے گا جسے بچانا چاہتا ہے۔ ‘‘ اس پر جارودعَبْدِی، جو حضرت عمرؓ کے ساتھ تھے، بولے، اے عورت، تونے امیر المومنینؓ کے ساتھ بہت زبان درازی کی۔ حضرت عمر نے فرمایا، انہیں کہنے دو۔ جانتے بھی ہو یہ کون ہیں؟ ان کی بات تو سات آسمانوں کےاوپر سنی گئی تھی۔ عمرؓ کو تو بدرجۂ اولیٰ سننی چاہیے۔ امام بخاریؒ نے بھی اپنی تاریخ میں اختصار کے ساتھ اس سے ملتا جلتا قصہ نقل کیا ہے۔

3. عرب میں بساوقات یہ صورت پیش آتی تھی کہ شوہر اور بیوی میں لڑائی ہوتی تو شوہر غصے میں آ کر کہتا اَنتِ عَلَیّ کَظَہرِِِ اُمیّ۔ اس کے لغوی معنی تو یہ ہیں کہ ’’تومیرے اوپر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ‘‘،لیکن اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ’’تجھ سے مباشرت کرنا میرے لیے ایسا ہے جیسے میں اپنی ماں سے مباشرت کروں ‘‘۔ ا س زمانے میں بھی بہت سے نادان لوگ بیوی سے لڑ کر اس کو ماں، بہن، بیٹی سے تشبیہ دے بیٹھتے ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی گویا اب اسے بیوی نہیں بلکہ ان عورتوں کی طرح سمجھتا ہے جو اس کے لیے حرام ہیں۔ اسی فعل کا نام ظِہار ہے۔ ظَہر عربی زبان میں استعارے کے طور پر سواری کے لیے بولا جاتا ہے۔ مثلاً سواری کے جانور کو ظَہر کہتے ہیں، کیونکہ اس کی پیٹھ پر آدمی سوار ہوتا ہے چونکہ وہ لوگ بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنے کے لیے کہتے تھے کہ تجھے ظَہر بنانا میرے اوپر ایسا حرام ہے جیسے اپنی ماں کو ظہر بنانا، اس لیے یہ کلمات زبان سے نکالنا ان کی اصطلاح میں ’’ظِہار‘‘ کہلاتا تھا۔ جاہلیت کے زمانہ میں اہل عرب کے ہاں یہ طلاق، بلکہ اس سے بھی زیادہ شدید قِطع تعلق کااعلان سمجھا جاتا تھا، کیونکہ ان کے نزدیک اس کے معنی یہ تھے کہ شوہر اپنی بیوی سے نہ صرف ازدواجی رشتہ توڑرہا ہے بلکہ اسے ماں کی طرح اپنے اوپر حرام قرار دے رہا ہے۔ اسی بناء پر اہلِ عرب کے نزدیک طلاق کے بعد تو رجوع کی گنجائش ہو سکتی تھی، مگر ظِہار کے بعد رجوع کا کوئی امکان باقی نہ رہتا تھا۔

4. یہ ظہار کے متعلق اللہ تعالیٰ کا پہلا فیصلہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک شخص منہ پھوڑ کر بیوی کو ماں سے تشبیہ دے دیتا ہے تو اس کے ایسا کہنے سے بیوی ماں نہیں ہو سکتی، نہ اس کو وہ حرمت حاصل ہو سکتی ہے جو ماں کو حاصل ہے۔ ماں کا ماں ہونا تو ایک حقیقی امر واقعہ ہے، کیونکہ اس نے آدمی کو جنا ہے۔ اسی بناء پر اسے ابدی حرمت حاصل ہے۔ اب آخر وہ عورت جس نے اس کو نہیں جنا ہے، محض منہ سے کہہ دینے پر اس کی ماں کیسے ہو جائے گی، اور اس کے بارے میں عقل اخلاق، قانون، کسی چیز کے اعتبار سے بھی وہ حرمت کیسے ثابت ہو گی جو اس امر واقعی کی بنا پر جننے والی ماں کے لیے ہے۔ اس طرح یہ بات ارشاد فرما کر اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کے اس قانون کو منسوخ کر دیا جس کی رو سے ظہار کرنے والے شوہر سے اس کی بیوی کا نکاح ٹوٹ جاتا تھا اور وہ اس کے لیے ماں کی طرح قطعی حرام سمجھ لی جاتی تھی۔

5. یعنی بیوی کو ماں سے تشبیہ دینا اول تو ایک نہایت ہی بیہودہ اور شرمناک بات ہے جس کا تصور بھی کسی شریف آدمی کو نہ کرناچاہئے، کجا کہ وہ اسے زبان سے نکالے۔ دوسرے یہ جھوٹ بھی ہے۔ کیونکہ ایسی بات کہنے والا اگر یہ خبردے رہا ہے کہ اس کی بیوی اس کے لیے ماں ہو گئی ہے تو جھوٹی خبر دے رہا ہے۔ اور اگر وہ اپنا یہ فیصلہ سنا رہا ہے کہ آج سے اس نے اپنی بیوی کو ماں کی سی حرمت بخش دی ہے تو بھی اس کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے، کیونکہ خدا نے اسے یہ اختیارات نہیں دیئے ہیں کہ جب تک چاہے ایک عورت کو بیوی کے حکم میں رکھے، اور جب چاہے اسے ماں کے حکم میں کر دے۔ شارع وہ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ ہے، اور اللہ تعالیٰ نے جننے والی ماں کے ساتھ مادری کے حکم میں دادی، نانی، ساس، دودھ پلانے والی عورت اور اَزواجِ نبیؐ کو شامل کیا ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس حکم میں اپنی طرف سے کسی اور عورت کو داخل کر دے، کجا کہ اس عورت کو جو اسکی بیوی رہ چکی ہے۔ اس ارشاد سے یہ دوسرا قانونی حکم نکلا کہ ظِہار کرنا ایک بڑا گناہ اور حرام فعل ہے جس کا مرتکب سزا کا مستحق ہے۔

6. یعنی یہ حرکت تو ایسی ہے کہ اس پر آدمی کو بہت ہی سخت سزا ملنی چاہیے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ اس نے اول تو ظہار کے معاملہ میں جاہلیت کے قانون کو منسوخ کر کے تمہاری خانگی زندگی کو تباہی سے بچا لیا، دوسرے اس فعل کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے وہ سزا تجویز کی جو اس جرم کی ہلکی سے ہلکی سزا ہو سکتی تھی، اور سب سے بڑی مہربانی یہ ہے کہ سزا کسی ضرب یا قید کی شکل میں نہیں بلکہ چند ایسی عبادات اور نیکیوں کی شکل میں تجویز کی جو تمہارے نفس کی اصلاح کرنے والی اور تمہارے معاشرے میں بھلائی پھیلانے والی ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اسلام میں بعض جرائم اور گناہوں پر جو عبادات بطور کفارہ مقرر کی گئی ہیں وہ نہ محض سزا ہیں کہ عبادت کی روح سے خالی ہوں اور نہ محض عبادت ہیں کہ سزا کی اذیت کا کوئی پہلو ان میں نہ ہو، بلکہ ان میں یہ دونوں پہلو جمع کر دیے گئے ہیں، تاکہ آدمی کو اذیت بھی ہو اور ساتھ ساتھ وہ ایک نیکی اور عبادت کر کے اپنے گناہ کی تلافی بھی کر دے۔

7. یہاں سے ظہار کے قانونی حکم کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ اس کوسمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ظہار کے وہ واقعات نگاہ میں رہیں جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کےعہد مبارک میں پیش آئے تھے، کیونکہ اسلام میں ظہار کا مفصل قانون انہی آیات اور ان فیصلوں سے ماخوذ ہے جو ان آیات کے نزول کے بعد حضورؐ نے پیش آمدہ واقعات میں صادر فرمائے۔

حضرت عبداللہ بن عباس کے بیان کے مطابق اسلام میں ظہار کا پہلا واقعہ اوس بن صامت انصاری کا ہے جن کی بیوی خَوْلَہ کی فریاد پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ محدثین نے اس واقعہ کی جو تفصیلات متعدد راویوں سے نقل کی ہیں ان میں فروعی اختلافات تو بہت سے ہیں، مگر قانونی اہمیت رکھنے والے ضروری اجزاء قریب قریب متفق علیہ ہیں۔ خلاصہ ان روایات کا یہ ہے کہ حضرت اَوس بن صامت بڑھاپے میں کچھ چڑ چڑے بھی ہو گئے تھے اور بعض روایات کی رو سے ان کے اندر کچھ جنون کی سی لٹک بھی پیدا ہو گئی تھی جس کے لیے راویوں نے کَا نَ بِہٖ لَمَمٌ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ لَممَ عربی زبان میں دیوانگی کونہیں کہتے بلکہ اس طرح کی ایک کیفیت کو کہتے ہیں جسے ہم اردو زبان میں ’’ غصے میں پاگل ہو جانے ’’ کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں اس حالت میں وہ پہلے بھی متعدد مرتبہ اپنی بیوی سے ظہار کر چکے تھے، مگر اسلام میں یہ پہلا موقع تھا کہ بیوی سے لڑ کر ان سے پھر اس حرکت کا صدور ہو گیا۔ اس پر ان کی اہلیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور سارا قصہ آپ سے بیان کر کے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، کیا میری اور میرے بچوں کی زندگی کو تباہی سے بچانے کے لیے رخصت کا کوئی پہلو نکل سکتا ہے؟ حضورؐ نے جو جواب دیا وہ مختلف راویوں نے مختلف الفاظ میں نقل کیا ہے۔ بعض روایات میں الفاظ یہ ہیں کہ ’’ ابھی تک اس مسئلے میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے ‘‘۔ اور بعض میں یہ الفاظ ہیں کہ ’’میرا خیال یہ ہے کہ تم اس پر حرام ہو گئی ہو‘‘۔ اور بعض میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا ’’تم اس پر حرام ہو گئی ہو‘‘۔ اس جواب کو سن کر وہ نالہ و فریاد کرنے لگیں۔ بار بار انہوں حضورؐ سے عرض کیا کہ انہوں نے طلاق کے الفاظ تو نہیں کہے ہیں، آپ کوئی صورت ایسی بتائیں جس سے میں اور میرے بچے اور میرے بوڑھے شوہر کی زندگی تباہ ہونے سے بچ جائے۔ مگر ہر مرتبہ حضورؐ ان کو وہی جواب دیتے رہے۔ اتنے میں آپ پر نزول وحی کی کیفیت طاری ہوئی اور یہ آیات نازل ہوئیں۔ اس کے بعد آپ نے ان سے کہا (اور بعض روایات کی رو سے ان کے شوہر کو بلا کر ان سے فرمایا) کہ ایک غلام آزاد کرنا ہو گا۔انہوں نے اس سے معذوری ظاہر کی، تو فرمایا دو مہینے کے لگاتار روزے رکھنے ہوں گے۔ انہوں نے عرض کیا کہ اوس کا حال تو یہ ہے کہ دن میں تین مرتبہ کھائیں نہیں تو ان کی بینائی جواب دینے لگتی ہے۔ آپ نے فرمایا پھر 60 مسکینوں کو کھانا دینا پڑے گا۔ انہوں نے عرض کیا وہ اتنی مقدرت نہیں رکھتے، الا یہ کہ آپ مدد فرمائیں تب آپ نے انہیں اتنی مقدار میں سامان خوراک عطا فرمایا جو 60 آدمیوں کی دو وقت کی غذا کے لیے کافی ہو۔ اس کی مقدار مختلف روایات میں مختلف بیان کی گئی ہے، اور بعض روایات میں یہ ہے کہ جتنی مقدار حضورؐ نے عطا فرمائی اتنی ہی خود حضرت خولہ نے اپنے شوہر کو دی تاکہ وہ کفا رہ ادا کر سکیں (ابن جریر، مسند احمد، ابوداؤد، ابن ابی حاتم )۔

ظہار کا دوسرا واقعہ سلَمہ بن صخر بَیاضی کا ہے۔ ان صاحب پر اعتدال سے کچھ زیادہ شہوت کا غلبہ تھا۔ رمضان آیا تو انہوں نے اس اندیشہ سے کہ کہیں روزے کی حالت میں دن کے وقت بے صبری نہ کر بیٹھیں رمضان کے اختتام تک کے لیے بیوی سے ظہار کر لیا۔ مگر اپنی اس بات پر قائم نہ رہ سکے اور ایک رات بیوی کے پاس چلے گئے۔ پھر نادم ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ماجرا عرض کیا۔ آپ نے فرمایا ایک غلام آزاد کرو۔ انہوں نے کہا میرے پاس تو اپنی بیوی کے سوا کوئی نہیں جسے آزاد کر دوں۔ فرمایا دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو۔ انہوں نے عرض کیا کہ روزوں ہی میں تو صبر نہ کر سکنے کی وجہ سے اس مصیبت میں پھنسا ہوں۔ حضورؐ نے فرمایا پھر 60 مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ انہوں نے کہا ہم تو اس قدر غریب ہیں کہ رات بے کھائے سوئے ہیں۔ اس پر آپ نے بنی زَرَیق کے محصلِ زکوٰۃ سے ان کو اتنا سامان خوراک دلوایا کہ 60 آدمیوں میں بانٹ دیں اور کچھ اپنے بال بچوں کی ضروریات کے لیے بھی رکھ لیں (مسند احمد، ابوداؤد۔ترمذی)۔

تیسرا واقعہ نام کی تصریح کے بغیر یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی اس سے مباشرت کر لی۔ بعد میں حضورؐ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے حکم دیا کہ اس سے الگ رہو جب تک کفارہ ادا نہ کر دو(ابوداؤد، ترمذی، نسائی۔ ابن ماجہ)۔

چوتھا واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو سنا کہ اپنی بیوی کو بہن کہہ کر پکار رہا ہے۔ اس پر آپ نے غصہ سے فرمایا’’ یہ تیری بہن ہے؟ ‘‘ مگر آپ نے اسے ظہار قرار نہیں دیا (ابوداؤد)۔

یہ چار معتبر واقعات ہیں جو مستند ذرائع سے احادیث میں ملتے ہیں اور انہیں کی مدد سے قرآن مجید کے اس حکم کو اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے جو آگے کی آیتوں میں بیان ہوا ہے۔

8. اصل الفاظ ہیں یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا۔ لفظی ترجمہ یہ ہو گا کہ ’’ پلٹیں اس بات کی طرف جو انہوں نے کہی‘‘۔ لیکن عربی زبان اور محاورے کے لحاظ سے ان الفاظ کے معنی میں بڑا اختلاف واقع ہو گیا ہے :

ایک مفہوم ان کا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک دفعہ ظہار کے الفاظ منہ سے نکل جانے کے بعد پھر ان کا اعادہ کریں۔ ظاہریّہ اور بکیر بن الاشج، اور یحیٰ بن زیاد الْفَرّاء اسی کے قائل ہیں، اور عطاء بن ابی رباح سے بھی ایک قول اسی کی تائید میں منقول ہوا ہے۔ ان کے نزدیک ایک دفعہ کا ظہار تو معاف ہے، البتہ آدمی اس کی تکرار کرے تب اس پر کفارہ لازم آتا ہے۔ لیکن یہ تفسیر دو وجوہ سے صریحاً غلط ہے۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ظہار کو بیہودہ اور جھوٹی بات قرار دے کر اس کے لیے سزا تجویز فرمائی ہے۔ اب کیا یہ بات قابل تصور ہے کہ ایک مرتبہ جھوٹی اور بیہودہ بات آدمی کہے تو معاف ہو اور دوسری مرتبہ کہے تو سزا کا مستحق ہو جائے؟ دوسری وجہ اس کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ظہار کرنے والے کسی شخص سے بھی یہ سوال نہیں کیا کہ آیا اس نے ایک بار ظہار کیا ہے یا دو بار۔

دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ جو لوگ زمانہ جاہلیت میں یہ حرکت کرنے کے عادی تھے وہ اگر اسلام میں اس کا اعادہ کریں تو اس کی یہ سزا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ظہار کرنا بجائے خود مستوجب سزا ہو اور جو شخص بھی اپنی بیوی کے لیے ظہار کے الفاظ منہ سے نکالے اس پر کفارہ لازم آ جائے، خواہ وہ اس کے بعد بیوی کو طلاق دے دے، یا اس کی بیوی مر جائے، یا اس کا کوئی ارادہ اپنی بیوی سے تعلق زن و شو رکھنے کا نہ ہو۔ فقہاء میں سے طاؤس، مجاہد، شعبی، زہری، سفیان ثوری اور قتادہ کا یہی مسلک ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ظہار کے بعد اگر عورت مر جائے تو شوہر اس وقت تک اس کی میراث نہیں پا سکتا جب تک کفارہ ادا نہ کر دے۔

تیسرا مفہوم یہ ہے کہ ظہار کے الفاظ زبان سے نکالنے کے بعد آدمی پلٹ کر اس بات کا تدارک کرنا چاہے جو اس نے کہی ہے۔ بالفاظ دیگر عَادَلِمَا قالَ کے معنی ہیں کہنے والے نے اپنی بات سے رجوع کر لیا۔

چوتھا مفہوم یہ ہے کہ جس چیز کو آدمی نے ظہار کر کے اپنے لیے حرام کیا تھا اسے پلٹ کر پھر اپنے لیے حلال کرنا چاہے۔ بالفاظ دیگر عَادَلِمَا قَالَ کے معنی یہ ہے کہ جو شخص تحریم کا قال ہو گیا تھا وہ اب تحلیل کی طرف پلٹ آیا۔

اکثر و بیشتر فقہاء نے انہی دو مفہوموں میں سے کسی ایک کو ترجیح دی ہے۔

9. بالفاظ دیگر یہ حکم تمہاری تادیب کے لیے دیا جا رہا ہے تاکہ مسلم معاشرے کے لوگ جاہلیت کی اس بری عادت کو چھوڑ دیں اور تم میں سے کوئی شخص اس بیہودہ حرکت کا ارتکاب نہ کرے۔ بیوی سے لڑنا ہے تو بھلے آدمیوں کی طرح لڑو۔ طلاق ہی دینا ہو تو سیدھی طرح طلاق دے دو۔ یہ آخر کیا شرافت ہے کہ آدمی جب بیوی سے لڑے تو اسے ماں بہن بنا کر ہی چھوڑے۔

10. یعنی اگر آدمی گھر میں چپکے سے بیوی کے ساتھ ظہار کر بیٹھے اور پھر کفارہ ادا کیے بغیر میاں اور بیوی کے درمیان حسب سابق زوجیت کے تعلقات چلتے رہیں، تو چاہے دنیا میں کسی کو بھی اس کی خبر نہ ہو، اللہ کو تو بہر حال اس کی خبر ہو گی اللہ کے مواخذہ سے بچ نکلنا ان کے لیے کسی طرح ممکن نہیں ہے۔

11. یہ ہے ظہار کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم۔ فقہائے اسلام نے اس آیت کے الفاظ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے فیصلوں، اور اسلام کے اصول عامہ سے اس مسئلے میں جو قانون اخذ کیا ہے اس کی تفصیلات یہ ہیں :

(1) ظہار کا یہ قانون عرب جاہلیت کے اس رواج کو منسوخ کرتا ہے جس کی رو سے یہ فعل نکاح کے رشتے کو توڑ دیتا تھا اور عورت شوہر کے لیے ابداً حرام ہو جاتی تھی۔ اسی طرح یہ قانون ان تمام قوانین اور رواجوں کو بھی منسوخ کرتا ہے جو ظہار کو بے معنی اور بے اثر سمجھتے ہوں اور آدمی کے لیے اس بات کو جائز رکھتے ہوں کہ وہ اپنی بیوی کا ماں یا محرمات سے تشبیہ دے کر بھی اس کے ساتھ حسب سابق زن و شَو کا تعلق جاری رکھے، کیونکہ اسلام کی نگاہ میں ماں اور دوسری محرمات کی حرمت ایسی معمولی چیز نہیں ہے کہ انسان ان کے اور بیوی کے درمیان مشابہت کا خیال بھی کرے، کجا کہ اس کو زبان پر لائے۔ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اسلامی قانون نے اس معاملہ میں جو موقف اختیار کیا ہے وہ تین بنیادوں پر قائم ہے۔ ایک یہ کہ ظہار سے نکاح نہیں ٹوٹتا بلکہ عورت بدستور شوہر کی بیوی رہتی ہے۔ دوسرے یہ کہ ظہار سے عورت وقتی طور پر شوہر کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔ تیسرے یہ کہ حرمت اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک شوہر کفارہ ادا نہ کر دے، اور یہ کہ صرف کفارہ ہی اس حرمت کو رفع کر سکتا ہے۔

(2) ظہار کرنے والے شخص کے بارے میں یہ امر متفق علیہ ہے کہ اس شوہر کا ظہار معتبر ہے جو عاقل و بالغ ہو اور بحالت ہوش و حواس ظہار کے الفاظ زبان سے ادا کرے۔ بچے اور مجنون کا ظہار معتبر نہیں ہے۔ نیز ایسے شخص کا ظہار بھی معتبر نہیں جو ان الفاظ کو ادا کرتے وقت اپنے ہوش و حواس میں نہ ہو، مثلاً سوتے میں بڑبڑائے، یا کسی نوعیت کی بیہوشی میں مبتلا ہو گیا ہو۔ اس کے بعد حسب ذیل امور میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے :

الف۔ نشے کی حالت میں ظہار کرنے والے کے متعلق ائمہ اربعہ سمیت فقہاء کی عظیم اکثریت کہ کہتی ہے کہ اگر کسی شخص نے کوئی نشہ آور چیز جان بوجھ کر استعمال کی ہو تو اس کا ظہار اس کی طلاق کی طرح قانوناً صحیح مانا جائے گا، کیونکہ اس نے یہ حالت اپنے اوپر خود طاری کی ہے۔ البتہ اگر مرض کی وجہ سے اس نے کوئی دوا پی ہو اور اس سے نشہ لاحق ہو گیا ہو، یا پیاس کی شدت میں وہ جان بچانے کے لیے شراب پینے پر مجبور ہوا ہو تو اس طرح کے نشے کی حالت میں اس کے ظہار و طلاق کو نافذ نہیں کیا جائے گا۔ احناف اور شوافع اور حنابلہ کی رائے یہی ہے اور صحابہ کا عام مسلک بھی یہی تھا۔ بخلاف اس کے حضرت عثمانؓ کا قول یہ ہے کہ نشے کی حالت میں طلاق و ظہار معتبر نہیں ہے۔احناف میں سے امام طحاویؒ اور کَرْخیؒ اس قول کو ترجیح دیتے رہیں اور امام شافعیؒ کا بھی ایک قول اس کی تائید میں ہے۔ مالکیہ کے نزدیک ایسے نشے کی حالت میں ظہار معتبر ہو گا جس میں آدمی بالکل بہک نہ گیا ہو، بلکہ وہ مربوط اور مرتب کلام کر رہا ہو اور اسے یہ احساس ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔

ب۔ امام ابو حنیفہؒ اور امام مالکؒ کے نزدیک ظہار صرف اس شوہر کا معتبر ہے جو مسلمان ہو۔ ذِمیوں پر ان احکام کا اطلاق نہیں ہوتا، کیونکہ قرآن مجید میں اَلَّذِیْنَ یُظَاھِرُوْنَ مِنْکُمْ کے الفاظ ارشاد ہوئے ہیں جن کا خطاب مسلمانوں سے ہے، اور تین قسم کے کفاروں میں سے ایک کفارہ قرآن میں روزہ بھی تجویز کیا گیا ہے جو ظاہر ہے کہ ذمیوں کے لیے نہیں ہو سکتا۔ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک یہ احکام ذِمی اور مسلمان، دونوں کے ظہار پر نافذ ہوں گے، البتہ ذمی کے لیے روزہ نہیں ہے۔ وہ یا غلام آزاد کرے یا 60 مسکینوں کو کھانا کھلائے۔

ج۔ کیا مرد کی طرح عورت بھی ظہار کر سکتی ہے؟ مثلاً اگر وہ شوہر سے کہے کہ تو میرے لیے میرے باپ کی طرح ہے، یا میں تیرے لیے تیری ماں کی طرح ہوں، تو کیا یہ بھی ہو گا؟ ائمہ اربعہ کہتے ہیں کہ یہ ظہار نہیں ہے اور اس پر ظہار کے قانونی احکام کا سرے سے اطلاق نہیں ہوتا۔ کیونکہ قرآن مجید نے صریح الفاظ میں یہ احکام صرف اس صورت کے لیے بیان کیے ہیں جبکہ شوہر بیویوں سے ظہار کریں (اَلَّذِیْنَ یُظَاھِرُوْنَ مِنْ نِّسَآءِ ھِمْ) اور ظہار کرنے کے اختیارات اسی کو حاصل ہو سکتے ہیں جسے طلاق دینے کا اختیار ہے۔ عورت کو شریعت نے جس طرح یہ اختیار نہیں دیا کہ شوہر کو طلاق دیدے اسی طرح اسے یہ اختیار بھی نہیں دیا کہ اپنے آپ کو شوہر کے لیے حرام کر لے۔ یہی رائے سفیان ثوری، اسحٰق بن راہویہ، ابو ثور اور لَیث بن سعد کی ہے کہ عورت کا ایس قول بالکل بے معنی اور بے اثر ہے۔ امام ابو یوسف کہتے ہیں کہ یہ ظہار تو نہیں ہے۔ مگر اس سے عورت پر قسم کا کفارہ لازم آئے گا، کیونکہ عورت کاایسے الفاظ کہنا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس نے اپنے شوہر سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھائی ہے۔ امام احمد بن حنبل کا مسلک بھی ابن قدامہ نے یہی نقل کیا ہے۔ امام اوزاعی کہتے ہیں کہ اگر شادی سے پہلے عورت نے یہ بات کہی ہو کہ میں اس شخص سے شادی کروں تو وہ میرے لیے ایسا ہے جیسے میرا باپ، تو یہ ظہار ہو گا، اور اگر شادی کے بعد کہے تو یہ قَسم کے معنی میں ہو گا جس سے کفارۂ یمین لازم آئے گا۔ بخلاف اس کے حسن بصری، زہری، ابراہیم نخعی، اور حسن بن زیاد لُؤْلوُئِی کہتے ہیں کہ یہ ظہار ہے اور ایسا کہنے سے عورت پر کفارۂ ظہار لازم آئے گا، البتہ عورت کو یہ حق نہ ہو گا کہ کفارہ دینے سے پہلے شوہر کو اپنے پاس آنے سے روک دے۔ ابراہیم نخعی اسکی تائید میں یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت طلحہؓ کی صاحبزادی عائشہ سے حضرت زبیر کے صاحبزادے مصعب نے نکاح کا پیغام دیا۔ انہوں نے اسے رد کرتے ہوئے یہ الفاظ کہہ دیے کہ اگر میں ان سے نکاح کروں تو ھُوَ عَلَیَّ کَظَھْرِ اَبِیْ۔ (وہ میرے اوپر ایسے ہوں جیسے میرے باپ کی پیٹھ)۔ کچھ مدت بعد وہ ان سے شادی کرنے پر راضی ہو گئیں۔ مدینہ کے علماء سے اس کے متعلق فتویٰ لیا گیا تو بہت سے فقہاء نے جن میں متعدد صحابہ بھی شامل تھے، یہ فتویٰ دیا کہ عائشہ پر کفارہ ظہار لازم ہے۔ اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد ابراہیم نخعی اپنی یہ رائے بیان کرتے ہیں کہ اگر عائشہ یہ بات شادی کے بعد کہتیں تو کفارہ لازم نہ آتا، مگر انہوں نے شادی سے پہلے یہ کہا تھا جب کہ انہیں نکاح کرنے یا نہ کرنے کا اختیار حاصل تھا اس لیے کفارہ ان پر واجب ہو گیا۔

(3) جو عاقل و بالغ آدمی ظہار کے صریح الفاظ بحالت ہوش و حواس زبان سے ادا کرے اس کا یہ عذر قابل قبول نہیں ہو سکتا کہ اس نے غصے میں، یا مذاق مذاق میں، یا پیار سے ایسا کہا، یا یہ کہ اس کی نیت ظہار کی نہ تھی۔ البتہ جو الفاظ اس معاملہ میں صریح نہیں ہیں، اور جن میں مختلف معنوں کا احتمال ہے، ان کا حکم الفاظ کی نوعیت پر منحصر ہے۔ آگے چل کر ہم بتائیں گے کہ ظہار کے صریح الفاظ کون سے ہیں اور غیر صریح کون سے۔

(4)۔ یہ امر متفق علیہ ہے کہ ظہار اس عورت سے کیا جا سکتا ہے جو آدمی کے نکاح میں ہو۔ البتہ اس امر میں اختلاف ہے کہ کیا غیر عورت سے بھی ظہار ہو سکتا ہے۔ اس معاملہ میں مختلف مسالک یہ ہیں :

حنفیہ کہتے ہیں کہ غیر عورت سے اگر آدمی یہ کہے کہ ’’ میں تجھ سے نکاح کروں تو میرے اوپر تو ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ‘‘، تو جب بھی وہ اس سے نکاح کرے گا کفارہ ادا کیے بغیر اسے ہاتھ نہ لگا سکے گا۔ یہی حضرت عمرؓ کا فتویٰ ہے۔ ان کے زمانہ میں ایک شخص نے ایک عورت سے یہ بات کہی اور بعد میں اس سے نکاح کر لیا۔حضرت عمرؓنے فرمایا اسے کفارہ ظہار دینا ہو گا۔

مالکیہ اور حنابلہ بھی یہی بات کہتے ہیں، اور وہ اس پر یہ اضافہ کرتے ہیں کہ اگر عورت کی تخصیص نہ کی گئی ہو بلکہ کہنے والے نے یوں کہا ہو کہ تمام عورتیں میرے اوپر ایسی ہیں، تو جس سے بھی وہ نکاح کرے گا اسے ہاتھ لگانے سے پہلے کفارہ دینا ہو گا۔ یہی رائے سعید بن المسیب، عروہ بن زبیر، عطاء بن ابی رباح، حسن بصری اور اسحاق بن راہویہ کی ہے۔

شافعیہ کہتے ہیں کہ نکاح سے پہلے ظہار بالکل بے معنی ہے۔ ابن عباس اور قتادہ کی بھی یہی رائے ہے۔

(5)۔ کیا ظہار ایک خاص وقت تک کے لیے ہو سکتا ہے؟ حنفی اور شافعی کہتے ہیں کہ اگر آدمی نے کسی خاص وقت کی تعیین کر کے ظہار کیا ہو تو جب تک وہ وقت باقی ہے، بیوی کو ہاتھ لگانے سے کفارہ لازم آئے گا، اور اس وقت کے گزر جانے پر ظہار غیر مؤثر ہو جائے گا۔ اس کی دلیل سلمہ بن صخر بیاضی کا واقعہ ہے جس میں انہوں نے اپنی بیوی سے رمضان کے لیے ظہار کیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ وقت کی تعیین بے معنی ہے۔ بخلاف اس کے امام مالک اور ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ظہار جب بھی کیا جائے گا، ہمیشہ کے لیے ہو گا اور وقت کی تخصیص غیر مؤثر ہو گی، کیونکہ جو حرمت واقع ہو چکی ہے و ہ وقت گزر جانے پر آپ سے آپ ختم نہیں ہو سکتی۔

(6)۔ مشروط ظہار کیا گیا ہو تو جس وقت بھی شرط کی خلاف ورزی ہو گی، کفارہ لازم آ جائے گا۔ مثلاً آدمی بیوی سے یہ کہتا ہے کہ ’’ اگر میں گھر میں آؤں تو میرے اوپر تو ایسی ہے جیسے میری ماں کی بیٹھ‘‘۔ اس صورت میں وہ جب بھی گھر میں داخل ہو گا۔ کفارہ ادا کیے بغیر بیوی کو ہاتھ نہ لگا سکے گا۔

(7)۔ ایک بیوی سے کئی مرتبہ ظہار کے الفاظ کہے گئے ہوں تو حنفی اور شافعی کہتے ہیں کہ خواہ ایک ہی نشست میں ایسا کیا گیا ہو یا متعدد نشستوں میں، بہر حال جتنی مرتبہ یہ الفاظ کہے گئے ہوں اتنے ہی کفارے لازم آئیں گے، الا یہ کہ کہنے والے نے ایک دفعہ کہنے کے بعد اس قول کی تکرار محض اپنے پہلے قول کی تاکید کے لیے کی ہو۔ بخلاف اس کے امام مالک اور امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ خواہ کتنی ہی مرتبہ اس قول کی تکرار کی گئی ہو، قطع نظر اس سے کہ اعادہ کی نیت ہو یا تاکید کی، کفارہ ایک ہی لازم ہو گا۔ یہی قول شعبی، طاؤس، عطاء بن ابی رباح، حسن بصری، اور اوزاعی رحمہم اللہ کا ہے حضرت علی کا فتویٰ یہ ہے کہ اگر تکرار ایک نشست میں کی گئی ہو تو ایک ہی کفارہ ہو گا، اور مختلف نشستوں میں ہو تو جتنی نشستوں میں کی گئی ہو اتنے ہی کفارے دینے ہوں گے۔ قتادہ اور عمرو بن دینار کی رائے بھی یہی ہے۔

(8) دو یا زائد بیویوں سے بیک وقت اور بیک لفظ ظہار کیا جائے، مثلاً ان کو مخاطب کر کے شوہر کہے کہ تم میرے اوپر ایسی ہو جیسے میری ماں کی پیٹھ، تو حنفیہ اور شافعیہ کہتے ہیں کہ ہر ایک کو حلال کرنے کے لیے الگ الگ کفارے دینے ہونگے۔ یہی رائے حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، عروہ بن زبیر، طاؤس، عطاء، حسن بصری، ابراہیم نخعی، سفیان ثوری، اور ابن شہاب زہری کی ہے۔ امام مالکؒ اور امام احمدؒ کہتے ہیں کہ اس صورت میں سب کے لیے ایک ہی کفارہ لازم ہو گا۔ ربیعہ، اوزاعی، اسحاق بن راہویہ اور ابوثور کی بھی یہی رائے ہے۔

(9) ایک ظہار کا کفارہ دینے کے بعد اگر آدمی پھر ظہار کر بیٹھے تو یہ امر متفق علیہ ہے کہ پھر کفارہ دیے بغیر بیوی اس کے لیے حلال نہ ہو گی۔

(10)۔ کفارہ ادا کرنے سے پہلے اگر بیوی سے تعلق زن و شو قائم کر بیٹھا ہو تو ائمہ اربعہ کے نزدیک اگر چہ یہ گناہ ہے، اور آدمی کو اس پر استغفار کرنا چاہیے، اور پھر اس کا اعادہ نہ کرنا چاہیے، مگر کفارہ اسے ایک ہی دینا ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں جن لوگوں نے ایسا کیا تھا ان سے آپ نے یہ تو فرمایا تھااستغفار کرو اور اس وقت تک بیوی سے الگ رہو جب تک کفارہ ادا نہ کردو۔ مگر یہ حکم آپ نے نہیں دیا تھا کہ کفارہ ظہار کے علاوہ اس پر انہیں کوئی اور کفارہ بھی دینا ہو گا۔ حضرت عمرو بن عاص، قبیصہ بن ذؤَیب سعید بن جبیر، زہری اور قتادہ کہتے ہیں کہ اس پر دو کفارے لازم ہوں گے۔ اور حسن بصری اور ابراہیم نخعی کی رائے یہ ہے کہ تین کفارے دینے ہوں گے۔ غالباً ان حضرات کو وہ احادیث نہ پہنچی ہوں گی جن میں اس مسئلہ پر حضورؐ کا فیصلہ بیان ہوا ہے۔

(11)۔ بیوی کوکس کس سے تشبیہ دینا ظہار ہے؟ اس مسئلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے : عامر شعبی کہتے ہیں کہ صرف ماں سے تشبیہ ظہار ہے، باقی اور کسی بات پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوتا۔ مگر فقہاء امت میں سے کسی گروہ نے بھی ان سے اس معاملہ میں اتفاق نہیں کیا ہے، کیونکہ قرآن نے ماں سے تشبیہ کو گناہ قرار دینے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ یہ نہایت بیہودہ اور جھوٹی بات ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جن عورتوں کی حرمت ماں جیسی ہے ان کے ساتھ بیوی کو تشبیہ دینا بیہودگی اور جھوٹ میں اس سے کچھ مختلف نہیں ہے، اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ اس کا حکم وہی نہ ہو جو ماں سے تشبیہ کا حکم ہے۔

حنفیہ کہتے ہیں کہ اس حکم میں تمام وہ عورتیں داخل ہیں جو نسب یا رضاعت، یا ازدواجی رشتہ کی بنا پر آدمی کے لیے ابداً حرام ہیں مگر وقتی طور پر جو عورتیں حرام ہوں اور کسی وقت حلال ہو سکتی ہوں وہ اس میں داخل نہیں ہیں۔ جیسے بیوی کی بہن، اس کی خالہ، اس کی پھوپھی، یا غیر عورت جو آدمی کے نکاح میں نہ ہو۔ ابدی محرمات میں سے کسی عورت کے کسی ایسے عضو کے ساتھ تشبیہ دینا جس پر نظر ڈالنا آدمی کے لیے حلال نہ ہو، ظہار ہو گا۔ البتہ بیوی کے ہاتھ، پاؤں، سر، بال، دانت وغیرہ کو ابداً حرام عورت کی پیٹھ سے، یا بیوی کو اس کے سر، ہاتھ، پاؤں جیسے اجزائے جسم سے تشبیہ دینا ظہار نہ ہو گا کیونکہ ماں بہن کے ان اعضاء پر نگاہ ڈالنا حرام نہیں ہے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ تیرا ہاتھ میری ماں کے ہاتھ جیسا ہے، یا تیرا پاؤں میری ماں کے پاؤں جیسا ہے، ظہار نہیں ہے۔

شافعیہ کہتے ہیں کہ اس حکم میں صرف وہی عورتیں داخل ہیں جو ہمیشہ حرام تھیں اور ہمیشہ حرام رہیں، یعنی ماں، بہن، بیٹی وغیرہ مگر وہ عورتیں اس میں داخل نہیں ہیں جو کبھی حلال رہ چکی ہوں، جیسے رضاعی ماں، بہن، ساس اور بہو، یا کسی وقت حلال ہو سکتی ہوں،جیسے سالی۔ ان عارضی یا وقتی حرام عورتوں کے ماسوا ابدی حرمت رکھنے والی عورتوں میں سے کسی کے ان اعضا کے ساتھ بیوی کو تشبیہ دینا ظہار ہو گا جن کا ذکر بغرض اظہار اکرام و توقیر عادۃً نہیں کیا جاتا۔ رہے وہ اعضاء جن کا اظہار اکرام و توقیر کے کیا جاتا ہے تو ان تشبیہ صرف اس صورت میں ظہار ہو گی جبکہ یہ بات ظہار کی نیت سے کہی جائے۔ مثلاً بیوی سے یہ کہنا کہ تو میرے لیے میری ماں کی آنکھ یا جان کی طرح ہے، یا ماں کے ہاتھ، پاؤں یا پیٹ کی طرح ہے، یا ماں کے پیٹ یا سینے سے بیوی کے پیٹ یا سینے کو تشبیہ دینا، یا بیوی کے سر، پیٹھ یا ہاتھ کو اپنے لیے ماں کی پیٹھ جیسا قرار دینا، یا بیوی کو یہ کہنا کہ تو میرے لیے میری ماں جیسی ہے، ظہار کی نیت سے ہو تو ظہار ہے اور عزت کی نیت سے ہو تو عزت ہے۔

مالکیہ کہتے ہیں کہ ہر عورت جو آدمی کے لیے حرام ہو، اس سے بیوی کو تشبیہ دینا ظہار ہے، حتی کہ بیوی سے یہ کہنا بھی ظہار کی تعریف میں آتا ہے ہ تو میرے اوپر فلاں غیر عورت کی بیٹھ جیسی ہے، نیز وہ کہتے ہیں کہ ماں اور ابدی محرمات کے کسی عضو سے بیوی کو یا بیوی کے کسی عضو کو تشبیہ دینا ظہار ہے، اور اس میں یہ شرط نہیں ہے کہ وہ اعضاء ایسے ہوں جن پر نظر ڈالنا حلال نہ ہو، کیونکہ ماں کے کسی عضو پر بھی اس طرح کی نظر ڈالنا جیسی بیوی پر ڈالی جاتی ہے، حلال نہیں ہے۔

حنابلہ اس حکم میں تمام ان عورتوں کو داخل سمجھتے ہیں جو ابداً حرام ہوں، خواہ وہ پہلے کبھی حلال رہ چکی ہوں، مثلاً ساس، یا دودھ پلانے والی ماں رہیں وہ عورتیں جو بعد میں کسی وقت حلال ہو سکتی ہوں، (مثلاً سالی)، تو ان کے معاملہ میں امام احمد کا ایک قول یہ ہے کہ ان سے تشبیہ بھی ظہار ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ ان سے تشبیہ دینا ظہار کی تعریف میں آ جاتا ہے۔ البتہ بال، ناخن، دانت جیسے غیر مستقل اجزاء جسم اس حکم سے خارج ہیں۔

(12)۔ اس امر میں تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ بیوی سے یہ کہنا کہ ’’ تو میرے اوپر میری ماں کی بیٹھ جیسی ہے ‘‘ صریح ظہار ہے کیونکہ اہل عرب میں یہی ظہار کا طریقہ تھا اور قرآن مجید کا حکم اسی کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ البتہ اس امر میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے کہ دوسرے الفاظ میں سے کون سے ایسے ہیں جو صریح ظہار کے حکم میں ہیں، اور کون سے ایسے ہیں جن کے ظہار ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ قائل کی نیت پر کیا جائے گا۔

حنفیہ کے نزدیک ظہار کے صریح الفاظ وہ ہیں جن میں صاف طور پر حلال عورت(بیوی) کو حرام عورت (یعنی محرمات ابدیہ میں سے کسی عورت) سے تشبیہ دی گئی ہو، یا تشبیہ ایسے عضو سے دی گئی ہو جس پر نظر ڈالنا حلال نہیں ہے، جیسے یہ کہنا کہ تو میرے اوپر ماں یا فلاں حرام عورت کے پیٹ یا ران جیسی ہے۔ ان کے سوا دوسرے الفاظ میں اختلاف کی گنجائش ہے۔ اگر کہے کہ ’’تو میرے اوپر حرام ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ‘‘ تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ صریح ظہار ہے، لیکن امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک ظہار کی نیت ہو تو ظہار ہے اور طلاق کی نیت ہو تو طلاق۔ اگر کہے کہ ’’ تو میری ماں جیسی ہے یا میری ماں کی طرح ہے ‘‘ تو حنیفہ کا عام فتویٰ یہ ہے کہ یہ ظہار کی نیت سے ظہار ہے، طلاق کی نیت سے طلاق بائن، اور اگر کوئی نیت نہ ہو تو بے معنی ہے۔ لیکن امام محمد کے نزدیک یہ قطعی ہے۔ اگر بیوی کو ماں یا بہن یا بیٹی کہہ کر پکارے تو یہ سخت بیہودہ بات ہے جس پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے غصے کا اظہار فرمایا تھا، مگر اسے ظہار نہیں قرار دیا۔ اگر کہے کہ ’’ تو میرے اوپر ماں کی طرح حرام ہے ‘‘ تو یہ ظہار کی نیت سے ظہار ہے، طلاق کی نیت سے طلاق، اور کوئی نیت نہ ہو تو ظہار ہے۔ اگر کہے کہ ’’ تو میرے لیے ماں کی طرح یا ماں جیسی ہے ‘‘ تو نیت پوچھی جائے گی۔ عزت اور توقیر کی نیت سے کہا ہو تو عزت اور توقیر ہے۔ ظہار کی نیت سے کہا ہو تو ظہار ہے۔ طلاق کی نیت سے کہا ہو تو طلاق ہے۔ کوئی نیت نہ ہو اور یونہی یہ بات کہہ دی ہو تو امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک بے معنی ہے، امام ابو یوسف کے نزدیک اس پر ظہار کا تو نہیں مگر قسم کا کفارہ لازم آئے گا، اور امام محمد کے نزدیک یہ ظہار ہے۔

شافعیہ کے نزدیک ظہار کے صریح الفاظ یہ ہیں کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ تو میرے نزدیک، یا میرے ساتھ، یا میرے لیے ایسی ہے جیسی میری ماں کی پیٹھ۔ یا تو میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ یا تیرا جسم، یا تیرا بدن، یا تیرا نفس میرے لیے میری ماں کے جسم یا بدن یا جنس کی طرح ہے۔ ان کے سوا باقی تمام الفاظ میں قائل کی نیت پر فیصلہ ہو گا۔

حنابلہ کے نزدیک ہر وہ لفظ جس سے کسی شخص نے بیوی کو یا اس کے مستقل اعضاء میں سے کسی عضو کو کسی ایسی عورت سے جو اس کے لیے حرام ہے، یا اس کے مستقل اعضاء میں سے کسی عضو سے صاف صاف تشبیہ دی ہو، ظہار کے معاملہ میں صریح مانا جائے گا۔

مالکیہ کا مسلک بھی قریب قریب یہی ہے، البتہ تفصیلات میں ان کے فتوے الگ الگ ہیں۔ مثلاً کسی شخص کی بیوی سے یہ کہنا کہ ’’ میرے لیے میری ماں جیسی ہے، یا میری ماں کی طرح ہے ‘‘ مالکیوں کے نزدیک ظہار کی نیت سے ہو تو ظہار ہے، طلاق کی نیت سے ہو تو طلاق اور کوئی نیت نہ ہو تو ظہار ہے۔ حنبلیوں کے نزدیک یہ بشرط نیت صرف ظہار قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص بیوی سے کہے کہ ’’ تو میری ماں ہے ‘‘ تو مالکیہ کہتے ہیں کہ یہ ظہار ہے اور حنابلہ کہتے ہیں کہ یہ بات اگر جھگڑے اور غصے کی حالت میں کہی گئی ہو تو ظہار ہے، اور پیار محبت کی بات چیت میں کہی گئی ہو تو کو یہ بہت ہی بری بات ہے لیکن ظہار نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص کہے ’’ تجھے طلاق ہے تو میری ماں کی طرح ہے ‘‘ تو حنابلہ کے نزدیک یہ طلاق ہے نہ کہ ظہار، اور اگر کہے ’’ تو میری ماں کی طرح ہے تجھے طلاق ہے ‘‘ تو ظہار اور طلاق دونوں واقع ہو جائیں گے۔ یہ کہنا کہ ’’ تو میرے اوپر ایسی حرام ہے جیسی میر ی ماں کی بیٹھ‘‘ مالکیہ اور حنابلہ دونوں کے نزدیک ظہار ہے خواہ طلاق ہی کی نیت سے یہ لفاظ کہے گئے ہوں، یا نیت کچھ بھی نہ ہو۔

الفاظ ظہار کی اس بحث میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ فقہاء نے اس باب میں جتنی بحثیں کی ہیں وہ سب عربی زبان کے الفاظ اور محاورات سے تعلق رکھتی ہیں، اور ظاہر ہے کہ دنیا کی دوسری زبانیں بولنے والے نہ عربی زبان میں ظہار کریں گے، نہ ظہار کرتے وقت عربی الفاظ اور فقروں کا ٹھیک ٹھیک ترجمہ زبان سے ادا کریں گے۔ اس لیے کسی لفظ یا فقرے کے متعلق اگر یہ فیصلہ کرنا ہو کہ وہ ظہار کی تعریف میں آتا ہے یا نہیں، تو اسے اس لحاظ سے نہیں جانچنا چاہیے کہ وہ فقہاء کے بیان کردہ الفاظ میں سے کس کا صحیح ترجمہ ہے، بلکہ صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قائل نے بیوی کو جنسی (Sexual)تعلق کے لحاظ سے محرمات میں سے کسی کے ساتھ صاف صاف تشبیہ دی ہے، یا اس کے الفاظ میں دوسرے مفہومات کا بھی احتمال ہے؟ اس کی نمایاں ترین مثال خود وہ فقرہ ہے جس کے متعلق تمام فقہاء اور مفسرین کا اتفاق ہے کہ عرب میں ظہار کے لیے وہی بولا جاتا تھا اور قرآن مجید کا حکم اسی کے بارے میں نازل ہوا ہے، یعنی اَنْتِ عَلَیَّ کَظَھْرِ اُمِّیْ (تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ جیسی ہے )۔ غالباً دنیا کی کسی زبان میں، اور کم از کم اردو کی حد تک تو ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس زبان میں کوئی ظہار کرنے والا ایسے الفاظ استعمال نہیں کر سکتا جو اس عربی فقرے کا لفظی ترجمہ ہوں۔ البتہ وہ اپنی زبان کے ایسے الفاظ ضرور استعمال کر سکتا ہے جن کا مفہوم ٹھیک وہی ہو جسے ادا کرنے کے لیے ایک عرب یہ فقرہ بولا کرتا تھا۔ اس کا مفہوم یہ تھا کہ ’’تجھ سے مباشرت میرے لیے ایسی ہے جیسے اپنی ماں سے مباشرت ‘‘، یا جیسے بعض جہلا بیوی سے کہہ بیٹھتے ہیں کہ ’’تیرے پاس آؤں تو اپنی ماں کے پاس جاؤں ‘‘۔

(13) قرآن مجید میں جس چیز کو کفارہ لازم آنے کا سبب قرار دیا گیا ہے وہ محض ظہار نہیں ہے بلکہ ظہار کے بعد ’’عَوَد‘‘ ہے۔ یعنی اگر آدمی صرف ظہار کر کے رہ جائے اور عَود نہ کرے تو اس پر کفارہ لازم نہیں آتا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ عَود کیا ہے جو کفارہ کا موجب ہے؟ اس بارے میں فقہاء کے مسالک یہ ہیں :

حنفیہ کہتے ہیں کہ عَود سے مراد مباشرت کا ارادہ ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ محض ارادے اور خواہش پر کفارہ لازم آ جائے، حتیٰ کہ اگر آدمی ارادہ کر کے رہ جائے اور عملی اقدام نہ کرے تب بھی اسے کفارہ دینا پڑے۔ بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس حرمت کو رفع کرنا چاہے جو اس نے ظہار کر کے بیوی کے ساتھ تعلق زن و شو کے معاملہ میں اپنے اوپر عائد کر لی تھی وہ پہلے کفارہ دے، کیونکہ یہ حرمت کفارہ کے بغیر رفع نہیں ہو سکتی۔

امام مالکؒ کے اس معاملہ میں تین قول ہیں، مگر مالکیہ کے ہاں ان کا مشہور ترین اور صحیح ترین قول اس مسلک کے مطابق ہے جو اوپر حنفیہ کا بیان ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ظہار سے جس چیز کو اس نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ وہ بیوی کے ساتھ مباشرت کا تعلق تھا۔ اس کے بعد عَودیہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ یہی تعلق رکھنے کے لیے پلٹے۔

امام احمد بن حنبلؒ کا مسلک بھی ابن قدامہ نے قریب قریب وہی نقل کیا ہے جو اوپر دونوں اماموں کا بیان کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ظہار کے بعد مباشرت کے حلال ہونے کے لیے کفارہ شرط ہے۔ ظہار کرنے والا جو شخص اسے حلال کرنا چاہے وہ گویا تحریم سے پلٹنا چاہتا ہے۔ اس لیے اسے حکم دیا گیا کہ اسے حلال کرنے سے پہلے کفارہ دے، ٹھیک اسی طرح جیسے کوئی شخص ایک غیر عورت کو اپنے لیے حلال کرنا چاہے تو اس سے کہا جائے گا کہ اسے حلال کرنے سے پہلے نکاح کرے۔

امام شافعؒی کا مسلک ان تینوں سے مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آدمی کا اپنی بیوی سے ظہار کرنے کے بعد اسے حسب سابق بیوی بنائے رکھنا، یا بالفاظ دیگر اسے بیوی کی حیثیت سے روکے رکھنا عَود ہے۔ کیونکہ جس وقت اس نے ظہار کیا اسی وقت گویا اس نے اپنے لیے یہ بات حرام کر لی کہ اسے بیوی بنا کر رکھے۔ لہٰذا اگر اس نے ظہار کرتے ہی فوراً اسے طلاق نہ دی اور اتنی دیر تک اسے روکے رکھا جس میں وہ طلاق کے الفاظ زبان سے نکال سکتا تھا، تو اس نے عَود کر لیا اور اس پر کفارہ واجب ہو گیا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک سانس میں ظہار کرنے کے بعد اگر آدمی دوسرے ہی سانس میں طلاق نہ دے دے تو کفارہ لازم آ جائے گا، خواہ بعد میں اس کا فیصلہ یہی ہو کہ اس عورت کو بیوی بنا کر نہیں رکھنا ہے،اور اس کا کوئی ارادہ اس کے ساتھ تعلق زن و شو رکھنے کا نہ ہو۔ حتیٰ کہ چند منٹ غور کر کے وہ بیوی کو طلاق بھی دے ڈالے تو امام شافعیؒ کے مسلک کی رو سے کفارہ اس کے ذمہ لازم رہے گا۔

(14)قرآن کا حکم ہے کہ ظہار کرنے والا کفارہ دے قبل اس کے کہ زوجین ایک دوسرے کو ’’مَس‘‘ کریں۔ ائمہ اربعہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں مس سے مراد چھونا ہے، اس لیے کفارہ سے پہلے صرف مباشرت ہی حرام نہیں ہے بلکہ شوہر کسی طرح بھی بیوی کو چھو نہیں سکتا۔ شافعیہ شہوت کے ساتھ چھونے کو حرام کہتے ہیں، حنابلہ ہر طرح کے تلذذ کو حرام قرار دیتے ہیں، اور مالکہ لذت کے لیے بیوی کے جسم پر بھی نظر ڈالنے کو ناجائز ٹھیراتے ہیں اور ان کے نزدیک صرف چہرے اور ہاتھوں پر نظر ڈالنا اس سے مستثنیٰ ہے۔

(15) ظہار کے بعد اگر آدمی بیوی کو طلاق دے دے تو رجعی طلاق ہونے کی صورت میں رجوع کر کے بھی وہ کفارہ دیے بغیر اس کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ بائن ہونے کی صورت میں اگر اس سے دوبارہ نکاح کرے تب بھی اسے ہاتھ لگانے سے پہلے کفارہ دینا ہو گا۔ حتیٰ کہ اگر تین طلاق دے چکا ہو، اور عورت دوسرے آدمی سےنکاح کرنے کے بعد بیوہ یا مطلقہ ہو چکی ہو، اور اس کے بعد ظہار کرنے والا شوہر اس سے از سر نو نکاح کر لے، پھر بھی کفارے کے بغیر وہ اس کے لیے حلال نہ ہو گی۔ کیونکہ وہ اسے ماں یا محرمات سے تشبیہ دے کر اپنے اوپر ایک دفعہ حرام کر چکا ہے، اور یہ حرمت کفارے کے بغیر رفع نہیں ہو سکتی۔ اس پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے۔

(16) عورت کے لیے لازم ہے کہ جس شوہر نے اس کے ساتھ ظہار کیا ہے اسے ہاتھ نہ لگانے دے جب تک وہ کفارہ ادا نہ کرے۔ اور چونکہ تعلق زن و شو عورت کا حق ہے جس سے ظہار کر کے شوہر نے اسے محروم کیا ہے، اس لیے اگر وہ کفارہ نہ دے تو بیوی عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔ عدالت اس کے شوہر کو مجبور کرے گی کہ وہ کفارہ دے کر حرمت کی وہ دیوار ہٹائے جو اس نے اپنے اور اس کے درمیان حائل کر لی ہے۔ اور اگر وہ نہ مانے تو عدالت اسے ضرب یا قید یا دونوں طرح کی سزائیں دے سکتی ہے۔ یہ بات بھی چاروں مذاہب فقہ میں متفق علیہ ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ مذہب حنفی میں عورت کے لیے صرف یہی ایک چارہ کار ہے، ورنہ ظہار پر خواہ کتنی ہی مدت گزر جائے، عورت کو اگر عدالت اس مشکل سے نہ نکالے تو وہ تمام عمر معلق رہے گی، کیونکہ ظہار سے نکاح ختم نہیں ہوتا، صرف شوہر کا حق تمتّع سلب ہوتا ہے۔ مالکی مذہب میں اگر شوہر عورت کو ستانے کے لیے ظہار کر کے معلق چھوڑ دے تو اس پر ایلاء کے احکام جاری ہوں گے، یعنی وہ چار مہینے سے زیادہ عورت کو روک کر نہیں رکھ سکتا (احکام اِیلاء کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حواشی 245 تا 247 )۔ شافعیہ کے نزدیک اگر چہ ظہار میں احکام ایلاء تو صرف اس وقت جاری ہو سکتے ہیں جبکہ شوہر نے ایک مدت خاص کے لیے ظہار کیا ہو اور وہ مدت چار مہینے سے زیادہ ہو، لیکن چونکہ مذہب شافعی کی رو سے شوہر پر اسی وقت کفارہ واجب ہو جاتا ہے جب وہ عورت کو بیوی بنا کر رکھے رہے، اس لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ وہ کسی طویل مدت تک اس کو معلق رکھے۔

(17) قرآن اور سنت میں تصریح ہے کہ ظہار کا پہلا کفارہ غلام آزاد کرنا ہے۔ اس سے آدمی عاجز ہو تب دو مہینے کے روزوں کی شکل میں کفارہ دے سکتا ہے۔ اور اس سے بھی عاجز ہو تب 60 مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے۔ لیکن اگر تینوں کفاروں سے کوئی شخص عاجز ہو تو چونکہ شریعت میں کفارے کی کوئی اور شکل نہیں رکھی گئی ہے اس لیے اسے اس وقت تک انتظار کرنا ہو گا جب تک وہ ان میں سے کسی ایک پر قادر نہ ہو جائے۔ البتہ سنت سے یہ ثابت ہے کہ ایسے شخص کی مدد کی جانی چاہیے تاکہ وہ تیسرا کفارہ ادا کر سکے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیت المال سے ایسے لوگوں کی مدد فرمائی ہے جو اپنی غلطی سے اس مشکل میں پھنس گئے تھے اور تینوں کفاروں سے عاجز تھے۔

(18) قرآن مجید کفارہ میں رَقَبہ آزاد کرنے کا حکم دیتا ہے جس کا اطلاق لونڈی اور غلام دونوں پر ہوتا ہے اور اس میں عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ شیر خوار بچہ بھی اگر غلامی کی حالت میں ہو تو اسے آزاد کردینا کفارہ کے لئے کافی ہے۔البتہ فقہاء کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا مومن اور کافر دونوں قسم کے غلام آزاد کیے جا سکتے ہیں یا صرف مومن غلام ہی آزاد کرنا ہو گا۔ حنفیہ اور ظاہریہ کہتے ہیں غلام خواہ مومن ہو یا کافر، اس کا آزاد کر دینا کفارہ ظہار کے لیے کافی ہے، کیونکہ قرآن میں مطلق رَقَبہ کا ذکر ہے، یہ نہیں کہا گیا ہے کہ وہ مومن ہی ہونا چاہیے۔ بخلاف اس کے شافعیہ، مالکیہ اور حنابلہ اس کے لیے مومن کی شرط لگاتے ہیں، اور انہوں نے اس حکم کو ان دوسرے کفاروں پر قیاس کیا ہے جن میں رقبہ کے ساتھ قرآن مجید میں مومن کی قید لگائی گئی ہے۔

(19) غلام نہ پانے کی صورت میں قرآن کا حکم ہے کہ ظہار کرنے والا مسلسل دو مہینے کے روزے رکھے قبل اس کے کہ زوجین ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ اس فرمان الٰہی پر عمل کرنے کی تفصیلات مختلف فقہی مذاہب میں حسب ذیل ہیں :

الف۔ اس امر پر اتفاق ہے کہ مہینوں سے مراد ہلالی مہینے ہیں۔ اگر طلوع ہلال سے روزوں کا آغاز کیا جائے تو دو مہینے پورے کرنے ہوں گے۔ اگر بیچ میں کسی تاریخ سے شروع کیا جائے تو حنفیہ اور حنابلہ کہتے ہیں کہ 60 روزے رکھنے چاہئیں۔ اور شافعیہ کہتے ہیں کہ پہلے اور تیسرے مہینے میں مجموعی طور پر 30 روزے رکھے اور بیچ کا ہلالی مہینہ خواہ 29 کا ہو یا 30 کا، اس کے روزے رکھ لینے کافی ہیں۔

ب۔ حنفیہ اور شافعیہ کہتے ہیں کہ روزے ایسے وقت شروع کرنے چاہییں جب کہ بیچ میں نہ رمضان آئے نہ عیدین نہ یوم النحر اور ایام تشریق، کیونکہ کفارہ کے روزے رکھنے کے دوران میں رمضان کے روزے رکھنے اور عیدین اور یوم النحر اور ایام تشریق کے روزے چھوڑنے سے دو مہینے کا تسلسل ٹوٹ جائے گا اور نئے سرے سے روزے رکھنے پڑیں گے۔ حنابلہ کہتے ہیں کہ بیچ میں رمضان کے روزے رکھنے اور حرام دنوں کے روزے نہ رکھنے سے تسلسل نہیں ٹوٹتا۔

ج۔ دو مہینوں کے دوران میں خواہ آدمی کسی عذر کی بنا پر روزہ چھوڑے یا بلا عذر، دونوں صورتوں میں حنفیہ اور شافعیہ کے نزدیک تسلسل ٹوٹ جائے گا اور نئے سرے سے روزے رکھنے ہوں گے۔ یہی رائے امام محمد باقر، ابراہیم نخعی، سعید بن جبیر اور سفیان ثوری کی ہے۔ امام مالک اور امام احمد کے نزدیک مرض یا سفر کے عذر سے بیچ میں روزہ چھوڑا جا سکتا ہے اور اس سے تسلسل نہیں ٹوٹتا، البتہ بلا عذر روزہ چھوڑ دینے سے ٹوٹ جاتا ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ کفارہ کے روزے رمضان کے فرض روزوں سے زیادہ موکد نہیں ہیں۔ جب ان کو عذر کی بنا پر چھوڑا جا سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کو نہ چھوڑا جا سکے۔ یہی قول حضرت عبداللہ بن عباس، حسن بصری، عطاء بن ابی رَبَاح، سعید بن المسیب،عمرو بن دینار، شعبی طاؤس،مجاہد، اسحاق بن راہویہ، ابو عبید اور ابو ثور کاہے۔

د۔ دومہینوں کے دوران میں اگر آدمی اس بیوی سے مباشرت کر بیٹھے جس سے اس نے ظہار کیا ہو، تو تمام ائمہ کے نزدیک اس کا تسلسل ٹوٹ جائے گا اور نئے سرے سے روزے رکھنے ہوں گے کیونکہ ہاتھ لگانے سے پہلے دو مہینے کے مسلسل روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

(20) قرآن اور سنت کی رو سے تیسرا کفارہ (یعنی 60 مسکینوں کا کھانا ) وہ شخص دے سکتا ہے جو دوسرے کفارے (دو مہینے کے مسلسل روزوں ) کی قدرت نہ رکھتا ہو۔ اس حکم پر عمل درآمد کرنے کے لیے فقہاء نے جو تفصیلی احکام مرتب کیے ہیں وہ حسب ذیل ہیں :

الف۔ ائمہ اربعہ کے نزدیک روزوں پر قادر نہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی یا تو بڑھاپے کی وجہ سے قادر نہ ہو، یا مرض کے سبب سے، یا اس سبب سے کہ وہ مسلسل دو مہینے تک مباشرت سے پرہیز نہ کر سکتا ہو اور اسے اندیشہ ہو کہ اس دوران میں کہیں بے صبری نہ کر بیٹھے۔ ان تینوں عذرات کا صحیح ہونا ان احادیث سے ثابت ہے جو اَوْس بن صامت انصاری اور سلمہ بن صخر بیاضی کے معاملہ میں وارد ہوئی ہیں۔ البتہ مرض کے معاملہ میں فقہاء کے درمیان تھوڑا سا اختلاف ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ مرض کا عذر اس صورت میں صحیح ہو گا جب کہ یا تو اس کے زائل ہونے کی امید نہ ہو، یا روزوں سے مرض کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو۔ شافعیہ کہتے ہیں کہ اگر روزوں سے ایسی شدید مشقت لاحق ہوتی ہو جس سے آدمی کو یہ خطرہ ہو کہ دو مہینے کے دوران میں کہیں سلسلہ منقطع نہ کرنا پڑے، تو یہ عذر بھی صحیح ہو سکتا ہے۔ مالکیہ کہتے ہیں کہ اگر آدمی کا گمان غالب یہ ہو کہ وہ مستقبل میں روزہ رکھنے کے قابل ہو سکے گا تو انتظار کر لے، اور اگر گمان غالب اس کےقابل نہ ہو سکنے کاہو تو مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔ حنابلہ کہتے ہیں کہ روزے سے مرض بڑھ جانے کا اندیشہ بالکل کافی عذر ہے۔

ب۔ کھانا صرف ان مساکین کو دیا جا سکتا ہے جن کا نفقہ آدمی کے ذمہ واجب نہ ہوتا ہو۔

ج۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ کھانا مسلمان اور ذمی، دونوں قسم کے مساکین کو دیا جا سکتا ہے، البتہ حربی اور مستامن کفار کو نہیں دیا جا سکتا۔ مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کی رائے یہ ہے کہ صرف مسلمان مساکین ہی کو دیا جا سکتا ہے۔

د۔ یہ امر متفق علیہ ہے کہ کھانا دینے سے مراد دو وقت کا پیٹ بھر کھانا دینا ہے۔ البتہ کھانا دینے کے مفہوم میں اختلاف ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ دو وقت کی شکم سیری کے قابل غلہ دے دینا، یا کھانا پکا کر دو وقت کھلا دینا، دونوں یکساں صحیح ہیں، کیونکہ قرآن مجید میں اِطعام کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی خوراک دینے کے بھی ہیں اور کھلانے کے بھی۔ مگر مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ پکا کر کھلا نے کو صحیح نہیں سمجھتے بلکہ غلہ دے دینا ہی ضروری قرار دیتے ہیں غلہ دینے کی صورت میں یہ امر متفق علیہ ہے کہ وہ غلہ دینا چاہیے جو اس شہر یا علاقے کے لوگوں کی عام غذا ہو۔ اور سب مسکینوں کو برابر دینا چاہیے۔

ھ۔ حنفیہ کے نزدیک اگر ایک ہی مسکین کو 60 دن تک کھانا دیا جائے تو یہ بھی صحیح ہے، البتہ یہ صحیح نہیں ہے کہ ایک ہی دن اسے 60 دنوں کی خوراک دے دی جائے۔ لیکن باقی تینوں مذاہب ایک مسکین کو دینا صحیح نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک 60 ہی مساکین کو دینا ضروری ہے۔ اور یہ بات چاروں مذاہب میں جائز نہیں ہے کہ 60 آدمیوں کو ایک وقت کی خوراک اور دوسرے 60 آدمیوں کو دوسرے وقت کی خوراک دی جائے۔

و۔ یہ بات چاروں مذاہب میں سے کسی میں جائز نہیں ہے کہ آدمی 30 دن کے روزے رکھے اور 30 مسکینوں کو کھانا دے۔ دو کفارے جمع نہیں کیے جا سکتے۔ روزے رکھنے ہوں تو پورے دو مہینوں کے مسلسل رکھنے چاہییں۔ کھانا کھلانا ہو تو 60 مسکینوں کو کھلایا جائے۔

ز۔ اگر چہ قرآن مجید میں کفارہ طعام کے متعلق یہ الفاظ استعمال نہیں کیے گئے ہیں کہ یہ کفارہ بھی زوجین کے ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے ادا ہونا چاہیے، لیکن فحوائے کلام اس کا مقتضی ہے کہ اس تیسرے کفارے پر بھی اس قید کا اطلاق ہو گا۔ اسی لیے ائمہ اربعہ نے اس کو جائز نہیں رکھا ہے کہ کفارہ طعام کے دوران میں آدمی بیوی کے پاس جائے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ جو شخص ایسا کر بیٹھے اس کے متعلق حنابلہ یہ حکم دیتے ہیں کہ اسے از سر نو کھانا دینا ہو گا۔ اور حنفیہ اس معاملہ میں رعایت کرتے ہیں، کیونکہ اس تیسرے کفارے کے معاملے میں مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَا سَّا کی صراحت نہیں ہے اور یہ چیز رعایت کی گنجائش دیتی ہے۔

یہ احکام فقہ کی حسب ذیل کتابوں سے اخذ کیے گئے ہیں : فقہ حنفی: ہدایہ۔ فتح القدیر۔ بدایع الصنائع۔ احکام القرآن للجصاص۔ فقہ شافعی: المنہاج للنوَوِی مع شرح مغنی المحتاج۔ تفسیر کبیر۔ فقہ مالکی: حاشیۃ الد سَوقی علی الشرح الکبیر۔ ہدایۃ المجتہد۔ احکام القرآن ابن عربی۔ فقہ حنبلی: المغنی لابن قدامہ۔ فقہ ظاہری: المحلّیٰ لا بن حزُم۔

12. یہاں ’’ ایمان لانے ‘‘ سے مراد سچے اور مخلص مومن کا سا رویہ اختیار کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ آیت کے مخاطب کفار و مشرکین نہیں ہیں، بلکہ مسلمان ہیں جو پہلے ہی ایمان لائے ہوئے تھے ان کو شریعت کا ایک حکم سنانے کے بعد یہ فرمانا کہ ’’ یہ حکم تم کو اس لیے دیا جارہا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ ‘‘ صاف طور پر یہ معنی رکھتا ہے کہ جو شخص خدا کے اس حکم کو سننے کے بعد بھی جاہلیت کے پرانے رواجی قانون کی پیروی کرتا رہے اس کا یہ طرز عمل ایمان کے منافی ہو گا۔ ایک مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ اور اس کا رسول جب زندگی کے کسی معاملہ میں اس کے لیے ایک قانون مقرر کر دے تو وہ اس کو چھوڑ کر دنیا کے کسی دوسرے قانون کی پیروی کرے، یا اپنے نفس کی خواہشات پر عمل کر تا رہے۔

13. یہاں کافر سے مراد منکر خدا و رسالت نہیں ہے، بلکہ وہ شخص ہے جو خدا و رسول کو ماننے کا اقرار و اظہار کرنے کے بعد بھی وہ طرز عمل اختیار کرے جو ایک کافر کے کرنے کا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ دراصل کافروں کا کام ہےکہ اللہ اور اس کے رسول کا حکم سننے کے بعد بھی اپنی مرضی چلاتے رہیں، یا جاہلیت کے طریقوں ہی کی پیروی کرتے رہیں۔ ورنہ سچے دل سے ایمان لانے والا تو کبھی یہ رویہ اختیار نہیں کر سکتا۔ یہی بات سورہ آل عمران میں بھی حج کی فرضیت کا حکم دینے کے بعد فرمائی گئی ہے کہ وَمَنْ کَفَرَفَاِنَّ اللہَ غَنِیٌّ عَنِ العٰلَمِیْنَ، ’’ اور جو کفر کرے (یعنی اس حکم کی اطاعت نہ کرے ) تو اللہ دنیا والوں سے بے نیاز ہے ‘‘۔ ان دونوں مقامات پر ’’کفر‘‘ کا لفظ اس معنی میں نہیں ہے کہ جو شخص بھی ظہار کرنے کے بعد کفارہ ادا کیے بغیر بیوی سے تعلق رکھے، یا یہ سمجھے کہ ظہار ہی سے بیوی کو طلاق ہو گئی ہے، یا استطاعت کے باوجود حج نہ کرے، اسے قاضی شرع کا فرو مرتد ٹھیرا دے اور سب مسلمان اسے خارج از اسلام قرار دے دیں۔ بلکہ یہ اس معنی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسے لوگوں کا شمار مومنین میں نہیں ہے جو اس کے احکام کو قول یا عمل سے رد کر دیں اور اس امر کی کوئی پروا نہ کریں کہ ان کے رب نے ان کے لیے کیا حدود مقرر کی ہیں، کن چیزوں کو فرض کیا ہے، کن چیزوں کو حلال کیا ہے اور کیا چیزیں حرام کر دی ہیں۔

14. مخالفت کرنے سے مراد اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کو نہ ماننا اور ان کے بجائے کچھ دوسری حدیں مقرر کر لینا ہے۔ ابن جریر طبری اس آیت کی تفسیر یہ کرتے ہیں : ای یخالفون فی حدودہٖ و فرائضہ فیجعلون حدوداً غیر حدودہ۔ ’’ یعنی وہ لوگ جو اللہ کی حدود اور اس کے فرائض کے معاملہ میں اس کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں کی جگہ دوسرے حدیں تجویز کر لیتے ہیں ‘‘۔ بیضاوی نے اس کی تفسیر یہ کی ہے : ای یدادو نھما ویداقونھما اویضعون او یختادون حدوداً غیر حدود ھما۔ ’’ یعنی اللہ اور اس کے رسول سے مخاصمت اور جھگڑا کرتے ہیں، یا ان کی مقرر کی ہوئی حدوں کے سوا دوسری حدیں خود وضع کر لیتے ہیں یا دوسروں کی وضع کردہ حدوں کو اختیار کرتے ہیں ‘‘۔ آلوسی نے روح المعانی میں بیضاوی کی اس تفسیر سے اتفاق کرتے ہوئے شیخ الاسلام سعد اللہ چلپی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’ اس آیت میں ان بادشاہوں اور حکام سوء کے لیے سخت وعید ہے جنہوں نے شریعت کی مقرر کردہ حدود کے خلاف بہت سے احکام وضع کر لیے ہیں اور ان کا نام قانون رکھا ہے ‘‘۔ اس مقام پر علامہ آلوسی شرعی قوانین کے مقابلے میں وضعی قوانین کی آئینی (یعنی اسلامی نقطہ نظرسے آئینی) حیثیت پر مفصل بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اس شخص کے کفر میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے جو اس قانون کو مستحسن اور شریعت کے مقابلہ میں افضل قرار دیتا ہے، اور کہتا ہے کہ یہ زیادہ حکیمانہ اور قوم کے لیے زیادہ مناسب و موزوں ہے، اور جب کسی معاملہ میں اس سے کہا جائے کہ شریعت کا حکم اس کے بارے میں یہ ہے تو اس پر غصے میں بھڑک اٹھتا ہے، جیسا کہ ہم نے بعض ان لوگوں کو دیکھا ہے جن پر اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے ‘‘۔

15. اصل میں لفظ کَبْت استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں رسوا کرنا، ہلاک کرنا، لعنت کرنا، راندۂ درگاہ کر دینا دھکے دے کر نکال دینا، تذلیل کرنا۔ ارشاد الہٰی کا مدعا یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور اس کے احکام، سے بغاوت کا جوا انجام پچھلے انبیا کی امتیں دیکھ چکی ہیں اس سے وہ لوگ ہر گز نہ بچ سکیں گے جواب مسلمانوں میں سے وہی روش اختیار کریں۔ انہوں نے بھی جب خدا کی شریعت کے خلاف خود قوانین بنائے، یا دوسروں کے بنائے ہوئے قوانین کو اختیار کیا تب اللہ کے فضل اور اس کی نظر عنایت سے وہ محروم ہوئے، اور اسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی زندگی ایسی گمراہیوں، بد کرداریوں اور اخلاقی و تمدنی برائیوں سے لبریز ہوتی چلی گئی جنہوں نے بالآخر دنیا ہی میں ان کو ذلیل و خوار کر کے چھوڑا۔ یہی غلطی اگر اب امت محمدیہ کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ مقبول بارگاہ بنی رہے اور اللہ اسے ذلت کے گڑھے میں گرنے سے بچائے چلا جائے۔ اللہ کو نہ اپنے پچھلے رسولوں کی امت سے کوئی عداوت تھی، نہ اس رسول کی امت سے اس کا کوئی مخصوص رشتہ ہے۔

16. سیاق عبارت پر غور کرنے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ یہاں اس روش کی دو سزاؤں کا ذکر ہے۔ ایک کبُت، یعنی وہ خواری و رسوائی جو اس دنیا میں ہوئی اور ہو گی۔ دوسرے عذاب مہین، یعنی ذلت کا وہ عذاب جو آخرت میں ہونے والا ہے۔

17. یعنی ان کے بھول جانے سے معاملہ رفت گزشت نہیں ہو گیا ہے۔ ان کے لیے خدا کی نافرمانی اور اس کے احکام کی خلاف ورزی ایسی معمولی چیز ہو سکتی ہے کہ اس کا ارتکاب کر کے اسے یاد تک نہ رکھیں، بلکہ اسے کوئی قابل اعتراض چیز ہی نہ سمجھیں کہ اس کی کچھ پروا انہیں ہو۔ مگر خدا کے نزدیک یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ اس کے ہاں ان کا ہر کرتوت نوٹ ہوچکا ہے۔ کس شخص نے، کب، کہاں، کیا حرکت کی، اس حرکت کے بعد اس کا اپنا رد عمل کیا تھا، اور اس کے کیا نتائج، کہاں کہاں کس کس شکل میں برآمد ہوئے، یہ سب کچھ اس کے دفتر میں لکھ لیا گیا ہے۔