Tafheem ul Quran

Surah 6 Al-An'am, Ayat 51-55

وَاَنۡذِرۡ بِهِ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ اَنۡ يُّحۡشَرُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ​ لَـيۡسَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ وَلِىٌّ وَّلَا شَفِيۡعٌ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ‏  ﴿6:51﴾ وَلَا تَطۡرُدِ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَدٰوةِ وَالۡعَشِىِّ يُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَهٗ​ ؕ مَا عَلَيۡكَ مِنۡ حِسَابِهِمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ وَّمَا مِنۡ حِسَابِكَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَتَطۡرُدَهُمۡ فَتَكُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿6:52﴾ وَكَذٰلِكَ فَتَـنَّا بَعۡضَهُمۡ بِبَـعۡضٍ لِّيَـقُوۡلُـوۡۤا اَهٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡۢ بَيۡنِنَا ؕ اَلَـيۡسَ اللّٰهُ بِاَعۡلَمَ بِالشّٰكِرِيۡنَ‏  ﴿6:53﴾ وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ​ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ​ ۙ اَنَّهٗ مَنۡ عَمِلَ مِنۡكُمۡ سُوۡٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِهٖ وَاَصۡلَحَۙ فَاَنَّهٗ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏  ﴿6:54﴾ وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ وَلِتَسۡتَبِيۡنَ سَبِيۡلُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ‏  ﴿6:55﴾

51 - اے محمدؐ! تم اِس (علم وحی) کے ذریعہ سے اُن لوگوں کو نصیحت کرو جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے ربّ کے سامنے کبھی اس حال میں پیش کیے جائیں گے کہ اُس کے سوا وہاں کوئی (ایسا ذی اقتدار) نہ ہوگا جو ان کا حامی و مددگار ہو، یا ان کی سفارش کرے، شاید کہ (اس نصیحت سے متنبّہ ہو کر)وہ خداترسی کی روش اختیار کرلیں۔ 33 52 - اور جو لوگ اپنے ربّ کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دُور نہ پھینکو۔ 34اُن کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا بار اُن پر نہیں۔ اس پر بھی اگر تم انہیں دُور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے۔35 53 - دراصل ہم نے اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈالا ہے36تاکہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں ”کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل و کرم ہوا ہے“؟ ۔۔۔۔ ہاں! کیا خدا اپنے شکر گزار بندوں کو اِن سے زیادہ نہیں جانتا ہے ؟ 54 - جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو ”تم پر سلامتی ہے۔ تمہارے رب نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے۔ یہ اس کا رحم و کرم ہی ہے کہ اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی بُرائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ اُسے معاف کردیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے“37 55 - اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہوجائے۔38؏۶


Notes

33. مطلب یہ ہے کہ جو لوگ دنیا کی زندگی میں ایسے مدہوش ہیں کہ انھیں نہ موت کی فکر ہے نہ یہ خیال ہے کہ کبھی ہمیں اپنے خدا کو بھی منہ دکھانا ہے، ان پر تو یہ نصیحت ہر گز کار گر نہ ہوگی۔ اور اسی طرح ان لوگوں پر بھی اس کا کچھ اثر نہ ہوگا جو اس بے بُنیاد بھروسے پر جی رہے ہیں کہ دُنیا میں ہم جو چاہیں کر گزریں ، آخرت میں ہمارا بال تک بیکا نہ ہوگا ، کیونکہ ہم فلاں کے دامن گرفتہ ہیں، یا فلاں ہماری سفارش کر دے گا، یا فلاں ہمارے لیے کَفّارہ بن چکا ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کو چھوڑ کر تم اپنا رُوئے سخن ان لوگوں کی طرف رکھو جو خدا کے سامنے حاضری کا بھی اندیشہ رکھتے ہوں اور اس کے ساتھ جھوٹے بھروسوں پر پھُولے ہوئے بھی نہ ہوں۔ اس نصیحت کا اثر صرف ایسے ہی لوگوں پر ہو سکتا ہے اور انہی کے درست ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

34. قریش کے بڑے بڑے سرداروں اور کھاتے پیتے لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر منجملہ اور اعتراضات کے ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ آپ ؐ کے گرد و پیش ہماری قوم کے غلام ، موالی اور ادنیٰ طبقہ کے لوگ جمع ہو گئے ہیں۔ وہ طعنہ دیا کرتے تھے کہ اس شخص کو ساتھی بھی کیسے کیسے معزّز لوگ ملے ہیں، بلال، عمّار، صُہَیْب اور خَبّاب۔ بس یہی لوگ اللہ کو ہمارے درمیان ایسے ملے جن کو برگزیدہ کیا جا سکتا تھا! پھر وہ ان ایمان لانے والوں کی خستہ حالی کا مذاق اُڑانے پر ہی اکتفا نہ کرتے تھے، بلکہ ان سے جس جس سے کبھی پہلے کوئی اخلاقی کمزوری ظاہر ہوئی تھی اس پر بھی حرف گیریاں کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ فلاں جو کل تک یہ تھا اور فلاں جس نے یہ کیا تھا آج وہ بھی اس ” برگزیدہ گروہ“ میں شامل ہے۔ انہی باتوں کا جواب یہاں دیا جا رہا ہے۔

35. یعنی ہر شخص اپنے عیب و صواب کا ذمّہ دار آپ ہی ہے۔ ان مسلمان ہونے والوں میں سے کسی شخص کی جواب دہی کے لیے تم کھڑے نہ ہوگے اور نہ تمہاری جواب دہی کے لیے ان میں سے کوئی کھڑا ہو گا۔ تمہارے حصّہ کی کوئی نیکی یہ تم سے چھین نہیں سکتے اور اپنے حصّہ کی کوئی بدی تم پر ڈال نہیں سکتے۔ پھر جب یہ محض طالبِ حق بن کر تمہارے پاس آتے ہیں تو آخر تم کیوں انہیں اپنے سے دُور پھینکو۔

36. یعنی غریبوں اور مفلسوں اور ایسے لوگوں کو جو سوسائیٹی میں ادنیٰ حیثیت رکھتے ہیں، سب سے پہلے ایمان کی توفیق دے کر ہم نے دولت اور عزّت کا گھمنڈ رکھنے والے لوگوں کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔

37. جو لوگ اُس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے ان میں بکثرت لوگ ایسے بھی تھے جن سے زمانۂ جاہلیّت میں بڑے بڑے گناہ ہو چکے تھے۔ اب اسلام قبول کرنے کے بعد اگرچہ ان کی زندگیاں بالکل بدل گئی تھیں ، لیکن مخالفین ِ اسلام اُن کو سابق زندگی کے عُیُوب اور افعال کے طعنے دیتے تھے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ اہلِ ایمان کو تسلّی دو۔ انہیں بتا ؤ کہ جو شخص توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لیتا ہے اس کے پچھلے قُصُوروں پر گرفت کرنے کا طریقہ اللہ کے ہاں نہیں ہے۔

38. ”اس طرح“ کا اشارہ اُس پُورے سلسلہ ٔ تقریر کی طرف ہے جو چوتھے رکوع کی اِس آیت سے شروع ہوا تھا ، ”یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اُتری“۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی صاف اور صریح دلیلوں اور نشانیوں کے بعد بھی جو لوگ اپنے کفر و انکار پر اصرار ہی کیے چلے جائیں ان کا مجرم ہونا بالکل غیر مشتبہ طور پر ثابت ہوا جاتا ہے اور حقیقت بالکل آئینہ کی طرح نمایاں ہوئی جاتی ہے کہ دراصل یہ لوگ ضلالت پسندی کی بنا پر یہ راہ چل رہے ہیں نہ اس بنا پر کہ راہِ حق کے دلائل واضح نہیں ہیں یا یہ کہ کچھ دلیلیں ان کی اس گمراہی کے حق میں بھی موجود ہیں۔