Tafheem ul Quran

Surah 6 Al-An'am, Ayat 91-94

وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدۡرِهٖۤ اِذۡ قَالُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنۡ شَىۡءٍ ؕ قُلۡ مَنۡ اَنۡزَلَ الۡـكِتٰبَ الَّذِىۡ جَآءَ بِهٖ مُوۡسٰى نُوۡرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ​ تَجۡعَلُوۡنَهٗ قَرَاطِيۡسَ تُبۡدُوۡنَهَا وَتُخۡفُوۡنَ كَثِيۡرًا​ ۚ وَعُلِّمۡتُمۡ مَّا لَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنۡتُمۡ وَلَاۤ اٰبَآؤُكُمۡ​ؕ قُلِ اللّٰهُ​ۙ ثُمَّ ذَرۡهُمۡ فِىۡ خَوۡضِهِمۡ يَلۡعَبُوۡنَ‏ ﴿6:91﴾ وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِىۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَلِتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى وَمَنۡ حَوۡلَهَا​ ؕ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ​ وَهُمۡ عَلٰى صَلَاتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ‏ ﴿6:92﴾ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوۡ قَالَ اُوۡحِىَ اِلَىَّ وَلَمۡ يُوۡحَ اِلَيۡهِ شَىۡءٌ وَّمَنۡ قَالَ سَاُنۡزِلُ مِثۡلَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ​ؕ وَلَوۡ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ فِىۡ غَمَرٰتِ الۡمَوۡتِ وَالۡمَلٰٓـئِكَةُ بَاسِطُوۡۤا اَيۡدِيۡهِمۡ​ۚ اَخۡرِجُوۡۤا اَنۡفُسَكُمُ​ؕ اَلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَـقِّ وَكُنۡتُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهٖ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ‏ ﴿6:93﴾ وَلَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقۡنٰكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكۡتُمۡ مَّا خَوَّلۡنٰكُمۡ وَرَآءَ ظُهُوۡرِكُمۡ​ۚ وَمَا نَرٰى مَعَكُمۡ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ اَنَّهُمۡ فِيۡكُمۡ شُرَكٰٓؤُا​ ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيۡنَكُمۡ وَضَلَّ عَنۡكُمۡ مَّا كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ‏ ﴿6:94﴾

91 - ان لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے۔59ان سے پوچھو، پھر وہ کتاب جسے موسیٰؑ لایا تھا ، جو تمام انسانوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی، جسے تم پارہ پارہ کرکے رکھتے ہو، کچھ دکھاتے ہو اور بہت کچھ چُھپا جاتے ہو ، اور جس کے ذریعہ سے تم کو وہ علم دیا گیا جو نہ تمہیں حاصل تھا اور نہ تمہارے باپ دادا کو، آخر اُس کا نازل کرنے والا کون تھا؟ ۔۔۔۔60بس اتنا کہہ دو کہ اللہ، پھر اُنہیں اپنی دلیل بازیوں سے کھیلنے کے لیے چھوڑدو۔ 92 - (اُسی کتاب کی طرح) یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے۔ بڑی خیر و برکت والی ہے۔ اُس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی۔ اور اس لیے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم بستیوں کے اس مرکز (یعنی مکّہ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو۔ جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔61 93 - اور اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جُھوٹا بہتان گھڑے، یا کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے درآں حالے کہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو، یا جو اللہ کی نازل کردہ چیز کے مقابلہ میں کہے کہ میں بھی ایسی چیز نازل کرکے دکھادوں گا ؟ کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکراتِ موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ”لاوٴ، نِکالو اپنی جان، آج تمہیں اُن باتون کی پاداش میں ذِلّت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اُس کی آیات کے مقابلہ میں سرکشی دکھاتے تھے“۔ 94 - (اور اللہ فرمائے گا) لو اب تم ویسے ہی تنِ تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا، جو کچھ ہم نے تمہیں دُنیا میں دی تھا وہ سب تم پیچھے چھوڑ آئے ہو، اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے اُن سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصّہ ہے، تمہارے آپس کے سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہوگئے جن کا تم زعم رکھتے تھے۔ ؏۱۱


Notes

59. پچھلے سلسلہ ٔ بیان اور بعد کی جوابی تقریر سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ یہ قول یہودیوں کا تھا۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ یہ تھا کہ میں نبی ہوں اور مجھ پر کتاب نازل ہوئی ہے ، اس لیے قدرتی طور پر کفار قریش اور دُوسرے مشرکینِ عرب اس دعوے کی تحقیق کے لیے یہُود و نصاریٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اور ان سے پُوچھتے تھے کہ تم بھی اہل ِ کتاب ہو، پیغمبروں کو مانتے ہو، بتاؤ کیا واقعی اس شخص پر اللہ کا کلام نازل ہوا ہے؟ پھر جو کچھ جواب وہ دیتے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سرگرم مخالفین جگہ جگہ بیان کرکے لوگوں کو برگشتہ کرتے پھرتے تھے۔ اسی لیے یہاں یہودیوں کے اس قول کو، جسے مخالفینِ اسلام نے حجّت بنا رکھا تھا ، نقل کر کے اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔

شُبہ کیا جا سکتا ہے کہ ایک یہودی جو خود توراۃ کو خدا کی طرف سے نازل شدہ کتاب مانتا ہے، یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ خدا نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا۔ لیکن یہ شُبہ صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر بسا اوقات آدمی کسی دُوسرے کی سچّی باتوں کو رد کرنے کے لیے ایسی باتیں بھی کہہ جاتا ہے جن سے خود اس کی اپنی مسلَّمہ صداقتوں پر بھی زد پڑ جاتی ہے ۔ یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کو رد کرنے پر تُلے ہوئے تھے اور اپنی مخالفت کے جوش میں اس قدر اندھے ہو جاتے تھے کہ حضور ؐ کی رسالت کی تر دید کرتے کرتے خود رسالت ہی کی تردید کر گزرتے تھے۔

اور یہ جو فرمایا کہ لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب یہ کہا ، تو اس کامطلب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کی حکمت اور اس کی قدرت کا اندازہ کرنے میں غلطی کی ہے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ خدا نے کسی بشر پر علم حق اور ہدایت نامۂ زندگی نازل نہیں کیا ہے وہ یا تو بشر پر نزُولِ وحی کو ناممکن سمجھتا ہے اور یہ خدا کی قدرت کا غلط اندازہ ہے ، یا پھر وہ یہ سمجھتا ہے کہ خدا نے انسان کو ذہانت کے ہتھیار اور تصرّف کے اختیارات تو دے دیے مگر اس کی صحیح رہنمائی کا کوئی انتظام نہ کیا، بلکہ اسے دُنیا میں اندھا دُھند کام کرنے کے لیے یُونہی چھوڑ دیا ، اور یہ خدا کی حکمت کا غلط اندا زہ ہے۔

60. یہ جواب چونکہ یہودیوں کو دیا جارہا ہے اس لیے موسیٰ علیہ السّلام پر توراۃ کے نزول کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے ، کیوں کہ وہ خود اس کے قائل تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کا یہ تسلیم کرنا کہ حضرت موسیٰ ؑ پر توراۃ نازل ہوئی تھی، ان کے اس قول کی آپ سے آپ تردید کردیتا ہے کہ خدا نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا۔ نیز اس سے کم ازکم اتنی بات تو ثابت ہو جاتی ہے کہ بشر پر خدا کا کلام نازل ہو سکتا ہے اور ہو چکا ہے۔

61. پہلی دلیل اس بات کے ثبوت میں تھی کہ بشر پر خدا کا کلام نازل ہو سکتا ہے اور عملاً ہوا بھی ہے۔ اب یہ دُوسری دلیل اس بات کے ثبوت میں ہے کہ یہ کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے یہ خدا ہی کا کلام ہے۔ اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے چار باتیں شہادت کے طور پیش کی گئی ہیں:

ایک یہ کہ یہ کتاب بڑی خیر و برکت والی ہے ، یعنی اس میں انسان کی فلاح و بہبود کے لیے بہترین اُصُول پیش کیے گئے ہیں ۔ عقائد ِ صحیحہ کی تعلیم ہے، بھلائیوں کی ترغیب ہے، اخلاقِ فاضلہ کی تلقین ہے، پاکیزہ زندگی بسر کرنے کی ہدایت ہے، اور پھر یہ جہالت ، خودغرضی، تنگ نظری، ظلم ، فحش اور دُوسری اُن بُرائیوں سے ، جن انبار تم لوگوں نے کتب ِ مقدسہ کے مجمُوعہ میں بھر رکھا ہے، بالکل پاک ہے۔

دوسرے یہ کہ اس سے پہلے خدا کی طرف سے ہدایت نامے آئے تھے یہ کتاب اُن سے الگ ہٹ کر کوئی مختلف ہدایت پیش نہیں کرتی بلکہ اُسی چیز کی تصدیق و تائید کرتی ہے جو اُن میں پیش کی گئی تھی۔

تیسرے یہ کہ یہ کتاب اُسی مقصد کے لیے نازل ہوئی ہے جو ہر زمانہ میں اللہ کی طرف سے کتابوں کے نُزول کا مقصد رہا ہے ، یعنی غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو چونکانا اور کج روی کے انجامِ بد سے خبر دار کرنا۔

چوتھے یہ کہ کتاب کی دعوت نے انسانوں کے گروہ میں سے ان لوگوں کو نہیں سمیٹا جو دُنیا پرست اور خواہشِ نفس کے بندے ہیں، بلکہ ایسے لوگوں کو اپنے گرد جمع کیا ہے جن کی نظر حیاتِ دنیا کی تنگ سرحدوں سے آگے تک جاتی ہے ، اور پھر اس کتاب سے متاثر ہو کر جو انقلاب ان کی زندگی میں رُونما ہوا ہے اس کی سب سے زیادہ نمایاں علامت یہ ہے کہ وہ انسانوں کے درمیان اپنی خد ا پرستی کے اعتبار سے مُمتاز ہیں۔ کیا یہ خُصوصیات اور یہ نتائج کسی ایسی کتاب کے ہو سکتے ہیں جسے کسی جھُوٹے انسان نے گھڑ لیا ہو جو اپنی تصنیف کو خد ا کی طرف منسُوب کر دینے کی انتہائی مجرمانہ جسارت تک کر گزرے؟