Tafheem ul Quran

Surah 66 At-Tahrim, Ayat 8-12

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ تَوۡبَةً نَّصُوۡحًا ؕ عَسٰى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّكَفِّرَ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَيُدۡخِلَـكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ۙ يَوۡمَ لَا يُخۡزِى اللّٰهُ النَّبِىَّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ​ ۚ نُوۡرُهُمۡ يَسۡعٰى بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَ تۡمِمۡ لَـنَا نُوۡرَنَا وَاغۡفِرۡ لَـنَا​ ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ‏ ﴿66:8﴾ يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ جَاهِدِ الۡكُفَّارَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ وَاغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡ​ؕ وَمَاۡوٰٮهُمۡ جَهَنَّمُ​ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ‏ ﴿66:9﴾ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّ امۡرَاَتَ لُوۡطٍ​ ؕ كَانَـتَا تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَـيۡنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيۡـئًا وَّقِيۡلَ ادۡخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيۡنَ‏ ﴿66:10﴾ وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ​ۘ اِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ابۡنِ لِىۡ عِنۡدَكَ بَيۡتًا فِى الۡجَـنَّةِ وَنَجِّنِىۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّنِىۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَۙ‏ ﴿66:11﴾ وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِىۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا وَصَدَّقَتۡ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِيۡنَ‏  ﴿66:12﴾

8 - اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے توبہ کرو، خالص توب 19 ہ، بعید نہیں کہ اللہ تمہاری برائیاں تم سے دُور کر دے اور تمہیں ایسی جنّتوں میں داخل فرما دے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ 20 یہ وہ دن ہوگا جب اللہ اپنے نبی کو اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں رُسوا نہ کرے گا۔ 21 اُن کا نُور اُن کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے ربّ، ہمارا نُور ہمارے لیے مکمل کر دے اور ہم سے درگزر فرما، تُو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 22 9 - اے نبیؐ ، کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آوٴ۔ 23 ان کا ٹھکانا جہنّم ہے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔ 10 - اللہ کافروں کے معاملہ میں نوحؑ اور لُوطؑ کی بیویوں کو بطور مثال پیش کرتا ہے۔ وہ ہمارے دو صالح بندوں کی زوجیّت میں تھیں ، مگر انہوں نے اپنے ان شوہروں سے خیانت کی 24 اور وہ اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ بھی نہ کام آسکے۔ دونوں سے کہہ دیا گیا ہے کہ جاوٴ آگ میں جانے والوں کے ساتھ تم بھی چلی جاوٴ۔ 11 - اور اہلِ ایمان کے معاملہ میں اللہ فرعون کی بیوی کی مثال پیش کرتا ہے جبکہ اس نے دعا کی” اے میرے ربّ ، میرے لیے اپنے ہاں جنّت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچا لے 25 اور ظالم قوم سے مجھ کو نجات دے۔“ 12 - اور عمران کی بیٹی مریم 26 کی مثال دیتا ہے جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی تھی، 27 پھر ہم نے اس کے اندر اپنی طرف سے رُوح پھُونک دی، 28 اور اُس نے اپنے ربّ کے ارشادات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار لوگوں میں سے تھی۔ 29 ؏۲


Notes

19. اصل میں توبۃً نَّصُوحًا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ نُصح کے معنی عربی زبان میں خلوص اور خیر خواہی کے ہیں۔ خالص شہد کو عَسلِ ناصح کہتے ہیں جس کو موم اور دوسری آلائشوں سے پاک کر دیا گیا ہو۔ پھٹے ہوئے کپڑے کو سی دینے اور اُدھڑے ہوئے کپڑے کو مرمت کر دینے کے لیے نَصَاحۃ الثَّوب کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ پس توبہ کو نَصوح کہنے کا مطلب لغت کے اعتبار سے یا تو یہ ہو گا کہ آدمی ایسی خالص توبہ کرے جس میں ریاء اور نفاق کا شائبہ تک نہ ہو۔ یا یہ کہ آدمی خود اپنے نفس کے ساتھ خیر خواہی کرے اور گناہ سے توبہ کر کے اپنے آپ کو بد انجامی سے بچا لے۔ یا یہ کہ گناہ سے اس کے دین میں جو شگاف پڑ گیا ہے ، تو بہ کے ذریعہ سے اس کی اصلاح کر دے۔ یا یہ کہ توبہ کر کے وہ اپنی زندگی کو اتنا سنوار لے کہ دوسروں کے لیے وہ نصیحت کا موجب ہو اور اس کی مثال کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اُسی کی طرح اپنی اصلاح کر لیں۔ یہ تو ہیں توبہ ٔ نصوح کے وہ مفہومات جو اس کے لغوی معنوں سے مترشح ہوتے ہیں۔ رہا اس کا شرعی مفہوم تو اس کی تشریح ہمیں اُس حدیث میں ملتی ہے جو ابن ابی حاتم نے زر بن حُبَیش کے واسطے سے نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت اُبَیّ بن کعب ؓ سے توبہ ٔ نصوح کا مطلب پوچھا تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا۔ آپ ؐ نے فرمایا ” اِس سے مراد یہ ہے کہ جب تم سے کوئی قصور ہو جائے تو اپنے گناہ پر نادم ہو، پھر شرمندگی کے ساتھ اس پر اللہ سے استغفار کرو اور آئندہ کبھی اس فعل کا ارتکاب نہ کرو۔“ یہی مطلب حضرت عمر ؓ ، حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود اور حضرت عبداللہ ؓ بن عباس سے بھی منقول ہے، اور ایک روایت میں حضرت عمر ؓ نے توبہ ٔ نصوح کی تعریف یہ بیان کی ہے کہ توبہ کے بعد آدمی گناہ کا اعادہ تو درکنار ، اُس کے ارتکاب کا ارادہ تک نہ کرے(ابن جریر)۔ حضرت علی ؓ نے ایک مرتبہ ایک بدُّو کو جلدی جلدی توبہ و استغفار کے الفاظ زبان سے ادا کرتے سنا تو فرمایا یہ تَوبۃُ الکذّابین ہے۔ اس نے پوچھا پھر صحیح توبہ کیا ہے؟ فرمایا، اُس کے ساتھ چھ چیزیں ہونی چاہییں(۱) جو کچھ ہو چکا ہے اس پر نادم ہو۔(۲) اپنے جن فرائض سے غفلت برتی ہو اُن کو ادا کر۔(۳) جس کا حق مارا ہو اُس کو واپس کر۔(۴)جس کو تکلیف پہنچائی ہو اُس سے معافی مانگ۔(۵) آئندہ کے لیے عزم کر لے کہ اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا۔ اور(۶) اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت میں گھُلا دے جس طرح تُو نے اب تک اسے معصیت کا خوگر بنائے رکھا ہے اور اُس کو طاعت کی تلخی کا مزاچکھا جس طرح اب تک تُو اُسے معصیتوں کی حلاوت کا مزا چکھاتا رہا ہے۔(کشّاف)

توبہ کے سلسلہ میں چند امور اور بھی ہیں جنہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے ۔ اوّل یہ کہ توبہ درحقیقت کسی معصیت پر اس لیے نادم ہونا ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی ہے۔ ورنہ کسی گناہ سے اس لیے پرہیز کا عہد کر لینا کہ وہ مثلاً صحت کے لیے نقصان دہ ہے، یا کسی بدنامی کا ، یا مالی نقصان کا موجب ہے، توبہ کی تعریف میں نہیں آتا۔ دوسرے یہ کہ جس وقت آدمی کو احساس ہو جائے کہ اس سے اللہ کی نافرمانی ہوئی ہے ، اسی وقت اسے توبہ کرنی چاہیے اور جس شکل میں بھی ممکن ہو بلا تاخیر اس کی تلافی کر دینی چاہیے، اُسے ٹالنا مناسب نہیں ہے۔ تیسرے یہ کہ توبہ کر کے بار بار اسے توڑتے چلے جانا اور توبہ کو کھیل بنا لینا اور اُسی گناہ کا بار بار اعادہ کرنا جس سے توبہ کی گئی ہو، توبہ کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ توبہ کی اصل روح گناہ پر شرمساری ہے، اور بار بار کی توبہ شکنی اس بات کی علامت ہے کہ اُس کے پیچھے کوئی شرمساری موجود نہیں ہے۔ چوتھے یہ کہ جو شخص سچے دل سے توبہ کر کے یہ عزم کر چکا ہو کہ پھر اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا، اس سے اگر بشری کمزوری کی بنا پر اُسی گناہ کا اعادہ ہو جائے تو پچھلا گناہ تازہ نہ ہو گا ، البتہ اسے بعد والے گناہ پر پھر توبہ کرنی چاہیے اور زیادہ سختی کے ساتھ عزم کرنا چاہیے کہ آئندہ وہ توبہ شکنی کا مرتکب نہ ہو۔ پانچویں یہ کہ ہر مرتبہ جب معصیت یا د آئے، توبہ کی تجدید کرنا لازم نہیں ہے، لیکن اگر اُس کا نفس اپنی سابق گناہ گارانہ زندگی کی یاد سے لطف لے رہا ہو تو بار بار توبہ کرنی چاہیے یہاں تک کہ گناہوں کی یاد اُس کے لیے لذّت کے بجائے شرمساری کی موجب بن جائے۔ اس لیے کہ جس شخص نے فی الواقع خدا کے خوف کی بنا پر معصیت سے توبہ کی ہو وہ اِس خیال سے لذت نہیں لے سکتا کہ وہ خدا کی نافرمانی کرتا رہا ہے۔ اُس سے لذّت لینا اس بات کی علامت ہے کہ خدا کے خوف نے اس کے دل میں جڑ نہیں پکڑی ہے۔

20. آیت کے الفاظ قابلِ غور ہیں۔ یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ توبہ کر لو تو تمہیں ضرور معاف کر دیا جائے گا اور لازماً تم جنت میں داخل کر دیے جاو ٔ گے، بلکہ یہ امید دلائی گئی ہے کہ اگر تم سچے دل سے توبہ کرو گے تو بعید نہیں کہ اللہ تمہارے ساتھ یہ معاملہ کرے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ گناہ گار کی توبہ قبول کر لینا اور اسے سزا دینے کے بجائے جنت عطا فرما دینا اللہ پر واجب نہیں ہے ، بلکہ یہ سراسر اُس کی عنایت و مہربانی ہوگی کہ وہ معاف بھی کرے اور انعام بھی دے۔ بندے کو اس سے معافی کی امید تو ضرور رکھنی چاہیے مگر اس بھروسے پر گناہ نہیں کرنا چاہیے کہ توبہ سے معافی مل جائے گی۔

21. یعنی اُن کے اعمالِ حسنہ کا اجر ضائع نہ کرے گا۔ کفار و منافقین کو یہ کہنے کا موقع ہر گز نہ دے گا کہ اِن لوگوں نے خداپرستی بھی کی تو اس کا کیا صلہ پایا۔ رسوائی باغیوں اور نافرمانوں کے حصّے میں آئے گی نہ کہ وفاداروں اور فرماں برداروں کے حصّے میں۔

22. اِس آیت کو سُورہ ٔ حدید کی آیات ۱۳-۱۲ کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اہلِ ایمان کے آگے آگے نُور کے دوڑنے کی یہ کیفیت اُس وقت پیش آئے گی جب وہ میدانِ حشر سے جنت کی طرف جارہے ہونگے۔ وہاں ہر طرف گھُپ اندھیرا ہو گا جس میں وہ سب لوگ ٹھوکریں کھارہے ہونگے جن کے حق میں دوزخ کا فیصلہ ہوگا، اور روشنی صرف اہلِ ایمان کے ساتھ ہو گی جس کے سہارے وہ اپنا راستہ طے کر رہے ہونگے۔ اس نازک موقع پر تاریکیوں میں بھٹکنے والے لوگوں کی آہ و فغاں سُن سُن کر اہلِ ایمان پر خَشِیّت کی کیفیت طاری ہو رہی ہو گی، اپنے قصوروں اور اپنی کوتاہیوں کا احساس کر کے انہیں اندیشہ لاحق ہو گا کہ کہیں ہمارا نُور بھی نہ چھِن جائے اور ہم اِن بد بختوں کی طرح ٹھوکریں کھاتے نہ رہ جائیں، اس لیے وہ دعا کریں گے کہ اَے ہمارے رب ہمارے قصور معاف فرما دے اور ہمارے نُور کو جنت میں پہنچنے تک ہمارے لیے باقی رکھ۔ ابن جریر نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا کے معنی یہ ہیں کہ ” وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ ان کا نُور اُس وقت تک باقی رکھا جائے اور اُسے بجھنے نہ دیا جائے جب تک وہ پُل صراط سے بخیریت نہ گزر جائیں۔“ حضرت حسن بصری اور مجاہد اور ضحّاک کی تفسیر بھی قریب قریب یہی ہے۔ ابن کثیر نے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ” اہلِ ایمان جب یہ دیکھیں گے کہ منافقین نُور سے محروم رہ گئے ہیں تو وہ اپنے حق میں اللہ سے تکمیلِ نُور کی دعا کریں گے۔“(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، لحدید، حاشیہ ۱۷)۔

23. تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، التوبہ، حاشیہ ۸۲۔

24. یہ خیانت اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ بدکاری کی مرتکب ہوئی تھیں، بلکہ اس معنی میں ہے کہ انہوں نے ایمان کی راہ میں حضرت نوح ؑ اور حضرت لوط ؑ کا ساتھ نہ دیا بلکہ ان کے مقابلہ میں دشمنانِ دین کا ساتھ دیتی رہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ” کسی نبی کی بیوی کبھی بدکار نہیں رہی ہے۔ ان دونوں عورتوں کی خیانت دراصل دین کے معاملہ میں تھی۔ انہوں نے حضرت نوح ؑ اور حضرت لوط ؑ کا دین قبول نہیں کیا۔ حضرت نوح ؑ کی بیوی اپنی قوم کے جبّاروں کو ایمان لانے والوں کی خبریں پہنچایا کرتی تھی۔ اور حضرت لوط ؑ کی بیوی اپنے شوہر کے ہاں آنے والوں لوگوں کی اطلاع اپنی قوم کے بد اعمال لوگوں کو دے دیا کرتی تھی۔“(ابن جریر)۔

25. یعنی فرعون جو بُرے اعمال کر رہا ہے ان کے انجامِ بد میں مجھے شریک نہ کر۔

26. ہو سکتا ہے کہ حضرت مریم ؑ کے والد ہی کا نام عمران ہو، یا ان کو عمران کی بیٹی اس لیے کہا گیا ہو کہ وہ آلِ عمران سے تھیں۔

27. یہ یہودیوں کے اِس الزام کی تردید ہے کہ ان کے بطن سے حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کی پیدائش معاذ اللہ کسی گناہ کا نتیجہ تھی۔ سورہ ٔ نساء، آیت ۱۵۶ میں اِن ظالموں کے اِسی الزام کو بہتانِ عظیم قرار دیا گیا ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اوّل، سورۃ النساء، حاشیہ ۱۹۰)۔

28. یعنی بغیر اس کے کہ ان کا کسی مرد سے تعلق ہوتا ، اُن کے رحم میں اپنی طرف سے ایک جان ڈال دی ۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اوّل، النساء، حواشی ۲۱۳-۲۱۲۔ جلد سوم، الانبیاء، حاشیہ ۸۹)۔

29. جس مقصد کے لیے اِن تین قسم کی عورتوں کو مثال میں پیش کیا گیا ہے اس کی تشریح ہم اِس سُورہ کے دیباچے میں کر چکے ہیں، اس لیے اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔