Tafheem ul Quran

Surah 76 Al-Insan, Ayat 23-31

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ تَنۡزِيۡلًا ۚ‏ ﴿76:23﴾ فَاصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعۡ مِنۡهُمۡ اٰثِمًا اَوۡ كَفُوۡرًا​ۚ‏  ﴿76:24﴾ وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ بُكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا ۚ  ۖ‏ ﴿76:25﴾ وَمِنَ الَّيۡلِ فَاسۡجُدۡ لَهٗ وَسَبِّحۡهُ لَيۡلًا طَوِيۡلًا‏ ﴿76:26﴾ اِنَّ هٰٓؤُلَاۤءِ يُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ وَيَذَرُوۡنَ وَرَآءَهُمۡ يَوۡمًا ثَقِيۡلًا‏ ﴿76:27﴾ نَحۡنُ خَلَقۡنٰهُمۡ وَشَدَدۡنَاۤ اَسۡرَهُمۡ​ۚ وَاِذَا شِئۡنَا بَدَّلۡنَاۤ اَمۡثَالَهُمۡ تَبۡدِيۡلًا‏ ﴿76:28﴾ اِنَّ هٰذِهٖ تَذۡكِرَةٌ ​ۚ فَمَنۡ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِيۡلًا‏  ﴿76:29﴾ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ ​ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا  ۖ‏ ﴿76:30﴾ يُّدۡخِلُ مَنۡ يَّشَآءُ فِىۡ رَحۡمَتِهٖ​ؕ وَالظّٰلِمِيۡنَ اَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا‏ ﴿76:31﴾

23 - اے نبی ؐ ، ہم نے ہی تم پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے، 27 24 - لہٰذا تم اپنے ربّ کے حکم پر صبر کرو، 28 اور اِن میں سے کسی بد عمل یا منکرِ حق کی بات نہ مانو۔ 29 25 - اپنے ربّ کا نام صبح و شام یاد کرو، 26 - رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو، اور رات کے طویل اوقات میں اُس کی تسبیح کرتے رہو۔ 30 27 - یہ لوگ تو جلدی حاصل ہونے والی چیز (دُنیا)سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ 31 28 - ہم نے ہی اِن کو پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے ہیں، اور ہم جب چاہیں اِن کی شکلوں کو بدل کر رکھ دیں۔ 32 29 - یہ ایک نصیحت ہے ، اب جس کا جی چاہے اپنے ربّ کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے۔ 30 - اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ نہ چاہے۔ 33 یقیناً اللہ بڑا علیم و حکیم ہے، 31 - اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل کرتا ہے، اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ 34 ؏۲


Notes

27. یہاں مخاطب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، لیکن دراصل رُوئے سخن کفار کی طرف ہے۔ کفار مکہ کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ قرآن خود سوچ سوچ کر بنا رہے ہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی فرمان آتا تو اکٹھا ایک ہی مرتبہ آجاتا۔ قرآن مجید میں بعض مقامات پر اُن کا یہ اعتراض نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے، (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل، حواشی۱۰۲۔۱۰۴۔۱۰۵۔۱۰۶۔بنی اسرائیل۱۱۹)، اور یہاں اسے نقل کیےبغیر اللہ تعالیٰ نے پُورے زور کے ساتھ فرمایا ہے کہ اِس کے نازل کرنے والے ہم ہیں، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اِس کے مصنّف نہیں ہیں، اور ہم ہی اس کو بتدریج نازل کر رہے ہیں، یعنی یہ ہماری حکمت کا تقاضہ ہے کہ اپنا پیغام بیک وقت ایک کتاب کی شکل میں نازل نہ کر دیں، بلکہ اسے تھوڑا تھوڑا کر کے بھیجیں۔

28. یعنی تمہارے رب نے جس کارِ عظیم پر تمہیں مامور کیا ہے اس کی سختیوں اور مشکلات پر صبر کرو ، جو کچھ بھی تم پر گزر جائے اسے پا مردی کے ساتھ برداشت کرتے چلے جاؤ اور پائے ثبات میں لغزش نہ آنے دو۔

29. یعنی ان میں سے کسی سے دب کر دینِ حق کی تبلیغ سے باز نہ آؤ، اور کسی بد عملی کی خاطر دین کی اخلاقی تعلیمات میں ، یا کسی منکرِ حق کی خاطر دین کے عقائد میں ذرّہ برابر بھی ترمیم و تغیُّر کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ جو کچھ حرام و ناجائز ہے اسے بر ملا حرام و ناجائز کہو، خواہ کوئی بد کار کتنا ہی زور لگائے کہ تم اس کی مذمت میں ذرا سی نر می ہی برت لو۔ اور جو عقائد باطل ہیں انہیں کھلم کھلا باطل اور جو حق ہیں انہیں علانیہ حق کہو، چاہے کفار تمہارا منہ بند کرنے ، یا اس معاملہ میں کچھ نرمی اختیار کر لینے کے لیے تم پر کتنا ہی دباؤ ڈالیں۔

30. قرآن کا قاعدہ ہے کہ جہاں بھی کفار کے مقابلہ میں صبر ثبا ت کی تلقین کی گئی ہے وہاں اُس کے معاً بعد اللہ کے ذکر اور نماز کا حکم دیا گیا ہے، جس سے خود بخود یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دینِ حق کی راہ میں دشمنانِ حق کی مزاحمتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہے وہ اسی چیز سے حاصل ہوتی ہے۔ صبح وشام اللہ کا ذکر کرنے سے مراد ہمیشہ اللہ کو یاد کرنا بھی ہو سکتا ہے ،مگر جب اللہ کی یاد کا حکم اوقات کے تعین کے ساتھ دیا جائے تو پھر اس سے مراد نماز ہوتی ہے اس آیت میں سب سے پہلے فرمایا وَاِذْکُرِاسْمَ رَبِّکَ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً۔ بُکرہ عربی زبان میں صبح کو کہتے ہیں۔ اور اِصیل کا لفظ زوال کے وقت سے غروب تک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس میں ظہر اور عصر کے اوقات آجاتے ہیں۔ پھر فرمایا وَمِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَہُ۔ رات کا وقت غروب آفتاب کے بعد شروع ہو جاتا ہے ، اس لیے رات کو سجدہ کرنے کے حکم میں مغرب اور عشاء، دونوں وقتوں کی نمازیں شامل ہو جاتی ہیں۔ اس کے بعد یہ ارشاد کہ رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو، نمازِ تہجّد کی طرف صاف اشار ہ کرتا ہے ۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،جلد دوم،بنی اسرائیل،حواشی۹۲تا ۹۷۔جلد ششم،المزمل،حاشیہ۲)۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز کے یہی اوقات ابتدا سے اسلام میں تھے، البتہ اوقاتِ رکعتوں کے تعیُّن کے ساتھ پنچ وقتہ نماز کی فرضیت کا حکم معراج کے موقع پر دیا گیا۔

31. یعنی یہ کفّار ِقریش جس وجہ سے اخلاق اور عقائد کی گمراہیوں پر مصر ہیں ، اور جس بنا پر آپ کی دعوت ِ حق کے لیے ان کے کان بہرے ہوگئے ہیں، وہ دراصل اِن کی دنیا پرستی اور آخرت سے بے فکری و بے نیازی ہے۔ اس لیے ایک سچّے خدا پرست انسان کا راستہ ان کے راستے سے اتنا الگ ہے کہ دونوں کے درمیان کسی مصالحت کا سرے سے کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔

32. اصل الفاظ ہیں اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَآ اَمْثَا لَھُمْ تَبْدَیْلًا۔ اِس فقرے کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم جب چاہیں انہیں ہلاک کر کے اِنہی کی جنس کے دوسرے لوگ اِن کی جگہ لا سکتے ہیں جو اپنے کردار میں اِن سے مختلف ہوں۔ دوسرے یہ کہ ہم جب چاہیں اِن کی شکلیں تبدیل کر سکتے ہیں، یعنی جس طرح ہم کسی کو تندرست اور سلیم الاعضاء بنا سکتے ہیں اُسی طرح ہم اِس پر بھی قادر ہیں کہ کسی کو مفلوج کر دیں، کسی کو لقوہ مار جائے ، اور کوئی کسی بیماری یا حادثے کا شکار ہو کر اپا ہج ہو جائے۔ تیسرے یہ کہ ہم جب چاہیں موت کے بعد اِن کو دوبارہ کسی اور شکل میں پیدا کر سکتے ہیں۔

33. تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد ششم، المُدَّثِّر، حاشیہ۴۱۔(نیز ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر ۱،صفحہ نمبر۵۷۶)۔

34. ”اس کی تشریح ہم اِسی سورۃ کے دیباچہ میں کر چکے ہیں۔(نیز ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر۲، صفحہ نمبر۵۷۷)۔